چلئے آج حال کے جھروکوں سے ذرا مسقبل میں جھانکتے ہیں۔ ہم 2030 میں کھڑے ہیں، آپ اپنے ارد گرد کیا دیکھتے ہیں؟ کیا موجودہ صورتحال کی نسبت نقشہ بدل چکا ہے؟ ضرور بدل چکا ہوگا، کیونکہ ٹیکنالوجی جس رفتارسے تبدیل ہورہی ہے، جس رفتار سے معلومات تک رسائی ممکن ہوتی جارہی ہے، یقیناً اس دور کا معاشرہ آج کے دور کے معاشرے سے بالکل ہی مختلف ہوگا۔اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جب تک چھاپے خانے نہیں آئے تھے اور میکانکی پرنٹنگ پریس عام نہیں ہوئے تھے، چھاپا نویسوں کی بھرمار تھی جن کا کام تھا کتب یا پمفلٹس کی چھپائی۔ اس کی وجہ سے مختلف علاقہ جات میں ہزاروں لوگ اپنا روزگار حاصل کرتے تھے، لیکن پرنٹنگ پریس کے آنے کی دیر تھی اور ہزاروں کاتب اور چھاپا نویس اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ چھاپا خانوں کے مالکین اندرونی طور پر ان کو فارغ کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کا مقصد صرف منافع کا حصول تھا۔
Read more