چاکلیٹ چور غلام

آج صبح جب اٹھ کر بارہ سالہ اقراء کے بہیمانہ قتل کی خبر سنی تو دل دہل سا گیا۔ بارہ سال کے بچے کتنے معصوم ہوتے ہیں، کتنی امیدیں، خواب ان کے نازک سے وجود میں دبی ہوتی ہیں۔ ان کی آنکھیں کتنی مقدس اور جذبات کتنے سچے اور صاف۔ میں نے اقراء کو نہیں دیکھا، نہ ہی اس کی ٹوٹی پھوٹی کھوپڑی، نہ اس کا مردہ جسم، نہ اس کے جسم پر زخموں کے نشان دیکھے، نہ ہی اس

Read more

تاریخ کی وضاحت اور آشوٹز

27 جنوری آشوٹز کی آزادی کی 80 سالہ برسی تھی۔ یہ وہ دن تھا جب سویت افواج نے جرمن نازیوں کے آشوٹز نامی ڈیتھ کیمپ میں سینکڑوں قیدیوں کو آزاد کروایا۔ ان قیدیوں کو نازیوں نے شدید غیر انسانی ماحول میں رکھا ہوا تھا اور ان کو مختلف پرتوں میں بانٹا ہوا تھا۔ بوڑھے، معذور، خواتین اور بچوں کو اسی مقصد کے لیے بنائے گئے گیس چیمبر میں لے جا کر ”زیکلون بی“ نامی نرو گیس سے قتل کیا جاتا

Read more

پیکا اور آزادی

کچھ دن پہلے یہ خبر نظر سے گزری کہ پاک پتن میں ایک فرد کو اس لیے گرفتار کیا گیا کہ اس کے واٹس ایپ گروپ میں کسی شخص نے سی ایم پنجاب کے خلاف کوئی بات شیئر کی تھی۔ یہ اس واقعہ کا تسلسل ہے جہاں پیکا میں کچھ تبدیلیاں کر کے دیگر عوامل سمیت فیک نیوز کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں مختلف قوتوں کے سائبر سیل

Read more

سماجی شعور اور اخلاقی گراوٹ

چودہ اگست کے دن اقبال پارک میں ہونے والے سانحہ نے پاکستان میں خواتین کے حالات اور ان کو تحفظ کی فراہمی کے حوالے سے ایک بار پھر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے۔ یہ واقعہ جس میں چار سو کے قریب افراد نے ایک یوٹیوبر خاتون پر حملہ کر کے اس کو ہراساں کرنے کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کی تفصیلات پر بات کرنا یہاں پر نامناسب ہوگا۔ لیکن، اس واقعے نے معاشرے کے مجموعی پاگل پن کو

Read more

دنیا ساکن ہے

بچپن میں کچھ اساتذہ نے میرے دماغ میں یہ خام خیال بھر دیا تھا کہ دنیا سورج کے گرد اپنے مدار میں گردش کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی باور کروایا کہ دنیا گول بھی ہے۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک باریش شخصیت نے ان دونوں قدرتی قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں۔ ظاہر ہے وہ درست فرما رہے تھے، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان کی رائے حتمی ہے اور اس پر بحث کی گنجائش بھی نہیں ہے۔

Read more

کرونا وائرس اور نظریہ ارتقا

مملکت خداداد میں ارتقا کے نظریے کو عمومی طور پر مانا نہیں جاتا۔ ایک مذہبی معاشرہ ہونے کے ناتے نظریہ ارتقا کے حوالے سے معاشی، سماجی حتیٰ کہ سائنس کے شعبے سے وابستہ لوگ بھی مختلف ابہام کا شکار ہیں۔ اس سب کے درمیان، کرونا وائرس کے ابھار اور اس سے پڑنے والے سماجی اثرات کے مظہر کو سمجھنے کی خاطر، جیسا کہ پاکستان میں رسم ہے، ”سازشی عناصر“ کا سہارا ڈھونڈنا تو کرونا کے ابھرنے کو کسی عالمی سازش

Read more

عورت مارچ پر قدغنیں

یہ خبر سنی کہ ایک پٹیشن کو سنتے ہوئے، لاہور ہائی کورٹ نے 8 مارچ کو روایتی طور پر منعقد کیے جانے والے عورت مارچ کوروک دیا گیا ہے، تو مجھے بالکل بھی تعجب نہیں ہوا۔ پچھلی عورت مارچ کے بارے میں پاکستان میں رائے عامہ نے ہمارے درمیان نظریاتی خلیج کو واضح کردیا تھا۔ لہٰذایہ بات یقینی تھی کہ اس دفعہ مارچ کو ناکام بنانے کے لئے بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔ عمومی رائے یہی ہے کہ مارچ میں

Read more

جی ہاں! میں خواب دیکھتا تھا

میں نے آج تک اپنے بارے میں ایک چیز چھپائی ہے۔ میں نے پانچویں جماعت کے بعد کسی قسم کی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی۔ آخری بار جب میں کسی جماعت میں رسمی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے بیٹھا تھا تو وہ راولپنڈی میں ایک اسکول تھا۔ پھر حالات، واقعات نے ایسی کروٹ بدلی کی میری زندگی پلٹ کر رہ گئی۔ یہ بات شاید فخر یا ملامت کا باعث ہو، لیکن شاید میرے اندر جو طوفان آج اٹھا ہے

Read more

ہم ایک اداس نسل ہیں

میرے ہم عمرافراد اور یہ نسل شاید انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ اداس نسل ہے، جہاں اکثریت ایسے گھمبیر سماجی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل کی جکڑ میں ہے کہ نہ تو ان مسائل کا کوئی علاج ہے اور نہ بچاؤ، ہماری نسل اس وقت انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ کام کررہی ہے، لیکن پھر بھی وہ بنیادی ضروریات کی اشیاء، صحت اور تعلیم کی بنیادی ضروریات کو پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ جب بھی آپ نے معاشرے

Read more

چوتھا صنعتی انقلاب اور ہمارا تعلیمی معیار

چلئے آج حال کے جھروکوں سے ذرا مسقبل میں جھانکتے ہیں۔ ہم 2030 میں کھڑے ہیں، آپ اپنے ارد گرد کیا دیکھتے ہیں؟ کیا موجودہ صورتحال کی نسبت نقشہ بدل چکا ہے؟ ضرور بدل چکا ہوگا، کیونکہ ٹیکنالوجی جس رفتارسے تبدیل ہورہی ہے، جس رفتار سے معلومات تک رسائی ممکن ہوتی جارہی ہے، یقیناً اس دور کا معاشرہ آج کے دور کے معاشرے سے بالکل ہی مختلف ہوگا۔اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جب تک چھاپے خانے نہیں آئے تھے اور میکانکی پرنٹنگ پریس عام نہیں ہوئے تھے، چھاپا نویسوں کی بھرمار تھی جن کا کام تھا کتب یا پمفلٹس کی چھپائی۔ اس کی وجہ سے مختلف علاقہ جات میں ہزاروں لوگ اپنا روزگار حاصل کرتے تھے، لیکن پرنٹنگ پریس کے آنے کی دیر تھی اور ہزاروں کاتب اور چھاپا نویس اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ چھاپا خانوں کے مالکین اندرونی طور پر ان کو فارغ کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کا مقصد صرف منافع کا حصول تھا۔

Read more

تعلیمی ادارے اور جنسی ہراسانی

تعلیمی ادارے اور جنسی ہراسانی۔ یہ دو الفاظ ایک ساتھ پڑھ کر دل میں ایک چبھن سی محسوس ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں جامعات مقدس مقامات تصور کی جاتی ہیں اور کیوں کر نہ ہوں؟ صرف جامعات ہی ایک ایسا محفوظ، کھلا ماحول مہیا کرسکتی ہیں جہاں بات کرنے کی اور علمی مباحث کی گنجائش موجود ہوتی ہے تاکہ تخلیقی اذہان پیدا کئے جا سکیں۔ جہاں پر یہ آزادی موجود نہ ہو اور گھٹن، تعصب اور تشدد گھر کر لیں

Read more

اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فکری آزادی کے خلاف منظم مہم پر اساتذہ کی تشویش

مختلف شعبہ ہائے تعلیم کے ممبران اور اساتذہ کی حیثیت سے ہم پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں میں پچھلے کچھ دنوں میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے شدید فکر مند ہیں۔ ان واقعات سے پاکستان میں فکری اور تدریسی آزادی کو ٹھیس پہنچائی جارہی ہے۔ بارہ سے تیرہ اپریل کے درمیان ہونے والے ایک ہی نوعیت کے چار مختلف جبری استبداد کے واقعات ملک کی بڑی یونیورسٹیوں کے کیمپسز میں رونما ہوئے ہیں۔ پہلے واقعے میں تیرہ اپریل کے دن

Read more