بس نام رہے گا اللہ کا
سُنا تھا مڈل کلاس کے پاؤں کیچڑ میں ہوتے ہیں اور نگاہیں آسمان پر۔ میرے کچھ دوستوں نے اِس محاورے کی سچائی پر میرا ایمان پختہ کر دیا ہے۔ چونکہ اُن کے گھر کا چولہا باآسانی جل رہا ہے تو اُن کے نزدیک ملک میں نہ مہنگائی ہوئی نہ کوئی بحران ہے۔ یہ سب کیا دھرا موئے اِس میڈیا کا ہے جو لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ یعنی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار وہ باتیں ماننے کو بھی تیار نہیں جن کے اعداد و شمار حکومتی ادارے شائع کرتے ییں۔ جیسے افراطِ زر میں اضافہ معاشی ترقی کے اشاریوں جیسے جی ڈی پی میں کمی وغیرہ۔
اِن مڈل کلاس کے کھاتے پیتے لوگوں کے خیالات جان کر پتا چلتا ہے کہ میاں محمد بخش نے کتنی سچی بات کی تھی۔
دُکھیے دی گل دُکھیا سُندا تے سکھیے نوں کی خبراں
اگر ہمارے مڈل کلاس کے یہ شخصیت پرست مطمئن ہیں تو سوچیئے حکمران اشرافیہ کو کیا پرواہ ہو گی۔ روم جلنے پر جانے نیرو نے بانسری بجائی تھی یا نہیں البتہ مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور اب تو ہمارے ہینڈسم وزیراعظم کے ہر دلعزیز ادارے ٹرانسپرینسی کے بقول کرپشن میں بھی اضافے پر حکمران ضرور بانسری بجا رہے ہیں۔
وزیراعظم تو کہتے ہیں کہ سکون صرف قبر میں ہے یعنی مر جائیے پھر نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔
عمران خان کی ناکامی کی اُن کے کھاتے پیتے گھرانوں کے چاہنے والے تو ناکامی ماننے کو تیار ہی نہیں مگر جنہوں نے اُن کی ناکامی کا اعتراف کر بھی لیا ہے وہ یہ سبز اور سرخ کیونکر ایک دوسرے کے متضاد ہونے لگے۔ ہمارے معاشرے میں سُرخ کے دو معانی عام ہیں ایک تو اِسے محبت کا رنگ سمجھا جاتا ہے اور اہلِ نظر کے ہاں یہ قربانی کا رنگ ہے۔ سرخ ہے سرخ کے نعرے لگانے والے دراصل اُن مزدوروں کی یاد میں اِس جھنڈے کو تھامتے ہیں جن کی شکاگو میں دی گئی قربانی کی بدولت اُن کے سفید جھنڈے سرخ ہو گئے اور اُس کے بعد یہ مزدور تحریک کی علامت بن گیا۔ تو صاحب سبز کو سرخ سے کوئی خطرہ نہیں۔ سچ جاننا چاہیں تو جالب نے کہا
خطرہ ہے زرداروں کو گرتی ہوئی دیواروں کو خطرے میں اِسلام نہیں۔
یقنین جانئے جب آپ کے وزیراعظم کا گزارا لاکھوں کی تنخواہ میں نہ ہو رہا ہو اور مزدور کو پندرہ ہزار میں گزارا کرنے کا کہا جائے تو زرداروں کو اور ہماری قسمت کے مالک بنے زمین کے جھوٹے خداؤں کو ڈرنا چاہیے۔ اُنہیں ڈرنا چاہیے کہ ہم بندگانِ خدا اگر اُن بتوں کو توڑنے پہ آ گئے تو ہم کروڑوں اُن چند کی ہڈیاں بھی چبا سکتے ہیں اور پھر بقول فیض۔
بس نام رہے گا اللہ کا
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
مگر یہ کیسے ممکن ہو گا؟ کیونکر عوامی راج کا سورج طلوع ہو سکتا ہے؟ بہت سے لوگ عمران خان کی ناکامی کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہو کر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اُنہوں نے بھی عوامی راج اور تبدیلی کے دعوے کیے مگر حاصل کیا ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کبھی بھی عوامی راج کے لیے نہیں لڑے۔ اُنہیں فقط اقتدار حاصل کرنا تھا جس کے لیے اُنہوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں کے دھیجیاں بکھیریں اور لیڈر کی خصوصیات میں سب سے اہم مُکر جانے یا یُوٹرن کو قرار دیا۔ بقول غالبؔ
تیرے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
اعتبار کرنے کا وقت گزر چکا ہو۔ اب طبقاتی جنگ شروع کرنے کا وقت ہے۔ اب وقت ہے کہ پاکستان کے غریب عوام، محنت کش، مزدور، کسان اور نوجوان قیادت اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ جاگیردار سرمایہ دار وڈیرے لٹیرے اِس ملک کو بہت لُوٹ چکے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ اِس ملک کے اصلی مالک انتخاب میں حصہ لیں اور اقتدار کے ایوانوں میں جا کر جاگیرداری کے فرسودہ نظام کو ختم کریں اور سرمایہ داروں کو لگام ڈالیں۔ اِس کے لیے ضروری ہے کہ محنت کش ایک بڑی انقلابی پارٹی کی تعمیر کریں جو مکمل جمہوری ڈھانچے پر مبنی ہو اور شخصیت کی بجائے نظریات کے اردگرد گھومتی ہو۔ یہی اِس ملک کی تقدیر بدلنے کا راستہ ہے۔
اے خاک نشینو اُٹھ بیٹھو
وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے
جب تاج اچھالے جائیں گے۔


