سلگتے چنار اور این بی سی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1973 میں روزنامہ ”مساوات“ کراچی میں ایک ستارہ طلوع ہوا۔ اس کی پیش عملیاں دیکھیں ،تو دم بخود رہ گیا۔ یہ ایٹمی توانائی اس نوجوان کے اندر کیسے آئی۔ پہلے یونیورسٹی کے طلبا کی سرگرمیاں Cover کیں۔ پھر دیکھا ،رپورٹر کے عہدے پر فائز ہے، پلک جھپکی اور نیوز ڈیسک سنبھال لی۔ توانائی چین نہ لینے دیتی تھی، میگزین کے لیے کام اور ادارتی صفحات کے لیے اپنے تبصرے بھی لکھنے لگا۔ پسینہ پسینہ ہو رہا ہے، لکھتا جاتا ہے، درمیان میں گفتگو بھی جاری ہے، اور اس کا قہقہہ، پرزور قہقہہ، دل کے اندر اتر جاتا ہے، کسی نرم معصوم خوشبو کی طرح۔

ارے بھائی! کون ہے یہ معجزہ نگار، کون ہے یہ ایٹم ساز۔ یہ ہمارے دل میں آباد، آپ سب کو عزیز، مردِ میدان، اپنے قلم سے اپنی مقتدر جگہ بنانے والا، ناصر بیگ چغتائی ہے۔ ایسی بلندی پر جا پہنچا، جہاں پیار کرنے والوں نے این بی سی بنا دیا۔ یہ اگر آپ کا ہے، تو میرا بھی ہے۔ یاد رکھتا ہوں، اور خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ اس آدمی کے ساتھ عملی طور پر کام کرتا رہا۔ اس کے لیے چھم چھم پیار کی بارش ہے، جو ہم اپنے عمر میں چھوٹے پیاروں کے لیے مخصوص رکھتے ہیں۔ این بی سی تو این بی سی رہے گا۔ میں درختوں کے پیچھے چھپ کر اسے دیکھوں گا، اور وہی نام پکاروں گا، ناصرناصر آو چھپن چھپائی کھیلیں، گزرے دنوں کے رنگ کریدیں، چنا آلو کھائیں، ہنسیں ہنسائیں۔ لیکن وقت مشکلات کی دیواریں کھڑی کرتا ہے۔

اگرچہ ناصر ٹی وی کی دنیا کے ساتھ دیگر پراسرار سرگرمیوں میں بھی اسی ذوق و شوق سے مصروف رہا۔صحافت کے خارزار میں سرخ رورہا، ایسا کہ سب نے رشک کیا۔ پھر پُراثر ادبی کہانیاں برسوں پہلے ایک پرفسوں لرزہ خیز ناول ”سلگتے چنار!“ خبارِ جہاں میں قسط وار چھپا اور مقبول خاص و عام ہوا۔ مصروفیت نے مہلت نہ دی، دوسری جلد ابھی تین چار ماہ پہلے سامنے آئی، تہلکہ مچ گیا۔

ناصر نے ایک ایسے لرزہ خیز واقعے پر اپنے جنوں خیز قلم کا جادو جگایا ہے، جسے لکھنے والوں نے خاطر خواہ توجہ نہیں دی تھی۔ اور لکھا بھی تو بے اثر، گہرائی سے دور۔ ناصر نے گہرائی میں غوطے لگائے، جگہ جگہ سے معلومات جمع کیں، خود کشمیر کے طول و عرض کے بہادری کے ساتھ بار بار دورے کیے۔ تاریخ، سیاست، معاشرت، ثقافت کے بارے میں پڑھ پڑھ کر دیدہ ریز ہوا۔ دامن موتیوں سے بھر گیا، آنکھیں آنسووں سے بھر گئیں۔ جس کے بس میں تھا، اس نے کیا، اسی کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ ہمیں اس معرکہ آرا، دل دوز، جدوجہد کا سبق دینے والا، ظالموں کے چیتھڑے بکھیرتا ہوا، مظلوم کشمیریوں کی آہوں اور عزم رانیوں کو زمین و آسمان کی وسعتوں میں بکھیرتا ہوا تحفہ دیا۔

اتنے بڑے ناول پر تفصیل سے تبصرہ تو وہی کرے گا، جو وقت پائے گا۔ میں ایک ادنیٰ قلم کار، یوں بھی اس کا اہل نہیں۔بڑا ناول ہے جناب۔ ناصر! تم بڑے آدمی تھے، اور بڑے ہوگئے۔ ”سلگتے چنار!“ جو نہ پڑھے گا، محرومی کے اندھیروں میں بھٹکے گا۔تو گرو جی، ناصر بیگ چغتائی، سب کے پیارے این بی سی بہت مبارک۔ آگے میرے پَر پرواز جلتے ہیں۔ صرف دعائیں ہیں جو دل سے تمھارے لیے اُبھرتی ہیں اور اُبھرتی چلی جاتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *