جونی ڈیپ پر تشدد کا الزام لگانے والی بیوی خود انہیں مارتی تھی، ریکارڈنگ سامنے آ گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلم پائریٹس آف دی کریبین میں کیپٹن جیک سپیرو کے کردار سے بے پناہ مقبولیت پانے والے جونی ڈیپ پر ان کی سابق اہلیہ امبر ہرڈ نے چند برس پہلے تشدد کرنے کا الزام لگایا تھا۔ امبر ہرڈ بھی ایک اداکارہ ہیں اور وہ حقوقِ نسواں کی سفیر اور گھریلو تشدد کے خلاف وکالت کرتی ہیں۔ امبر ہرڈ نے سنہ 2016 میں شادی کے اٹھارہ ماہ بعد جونی ڈیپ پر تشدد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے طلاق حاصل کرنے کے لئے کیس کر دیا تھا۔ جونی ڈیپ کو فلم پائریٹس آف دی کریبین کی اگلی فلم سے الگ کیا جا چکا ہے اور اب وہ کیپٹن جیک سپیرو کا کردار ادا نہیں کریں گے۔

امبر ہرڈ کے جونی ڈیپ پر گھریلو تشدد کے الزامات لگانے کے بعد سوشل میڈیا پر جونی پر بہت لعن طعن کی گئی تھی۔ اب برطانوی اخبار ڈیلی میل کو ایسی ریکارڈنگز موصول ہوئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ جونی ڈیپ تشدد نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی اہلیہ امبر ہرڈ ان پر تشدد کیا کرتی تھی۔ ان ریکارڈنگز کے سامنے آنے کے بعد پانسا پلٹ گیا ہے اور اب سوشل میڈیا پر جونی ڈیپ کی بے تحاشا حمایت کرتے ہوئے انہیں انصاف دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

امبر ہرڈ نے 2018 میں واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھا تھا جس میں انہوں نے گھریلو تشدد کا شکار ہونے کے بارے میں اپنے تجربات بیان کیے تھے۔ اس کے جواب میں جونی ڈیپ نے ان پر ہتک عزت کا کیس کر دیا تھا اور ہرجانے کے طور پر پانچ کروڑ ڈالر طلب کیے تھے۔ جونی ڈیپ نے اپنے کیس میں دعویٰ کیا تھا کہ امبر ہرڈ نے اپنے کیرئیر میں ترقی کی خاطر انہیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کا شکار بنایا تھا۔

جونی ڈیپ نے کہا کہ امبر ہرڈ گھریلو تشدد کا نشانہ نہیں ہیں بلکہ تشدد کرنے کی مرتکب ہیں۔ جونی ڈیپ کا کہنا ہے کہ ”اس نے مجھے مارا پیٹا، مکے مارے اور ٹھڈے مارے۔ اس نے بار بار اور اکثر میرے سر اور جسم کا نشانہ لے کر مختلف اشیا پھینکی، جن میں بھاری بوتلیں، سافٹ ڈرنک کے کین، جلتی ہوئی موم بتیاں، ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول اور پینٹ تھنر کے کین شامل ہیں جن کی وجہ سے میں شدید زخمی ہوا۔ “

امبر ہرڈ نے تین سو صفحات کا جواب دعویٰ دائر کیا اور اس میں جونی ڈیپ پر خوفناک تشدد کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ایک عفریت قرار دیا۔ اس دعوے میں انہوں نے اپنی تصاویر بھی دیں جن میں ان کے چہرے پر خراشیں دکھائی دے رہی ہیں اور نچے ہوئے بال بھی موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ٹوٹے پھوٹے فرنیچر کی تصاویر ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسے جھگڑے کے دوران جونی ڈیپ نے توڑا تھا۔

دونوں کی شادی فروری 2015 میں ہوئی تھی مگر ڈیڑھ سال بعد امبر ہرڈ نے عدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ جونی ڈیپ نے انہیں موبائل فون پھینک کر مارا تھا اور انہیں خود سے دور رکھنے کا حکم حاصل کر لیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ پولیس کے پاس مئی 2016 کے حملے کا ثبوت موجود ہے مگر دونوں پولیس افسران نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں ایسے کسی جرم کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔ اگست 2017 میں جونی ڈیپ نے امبر ہرڈ کو ستر لاکھ ڈالر دے کر طلاق کی سیٹلمنٹ کر لی تھی۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اب کچھ آڈیو ریکارڈنگز حاصل کی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ جونی ڈیپ تشدد نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی بیوی امبر ہرڈ انہیں تشدد کا نشانہ بناتی تھی۔ جونی ڈیپ نے جھگڑا ختم کرنے کے لئے امبر ہرڈ سے بات چیت کی تھی جس میں امبر نے کہا کہ جب بھی جھگڑا ہوتا ہے تو جونی ڈیپ جان چھڑا کر الگ ہو جاتے ہیں۔ جونی نے کہا کہ جب امبر پر تشدد کا دورہ پڑتا ہے تو وہ جسمانی تشدد سے بچنے کے لئے الگ ہوتے ہیں۔

وہ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ”تم نے مجھے پچھلی رات مارا پیٹا تھا۔ گلدان اور جو بھی ہاتھ لگے پھینک کر مارنے والا میں نہیں ہوں۔ “

امبر نے جواب دیا ”یہ غیر متعلقہ بات ہے۔ میرے برتن اور بھانڈے پھینک کر مارنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم واپس نہ آؤ اور [میرے کمرے کے ] دروازے پر دستک نہ دو“۔ جب جونی ڈیپ نے کہا کہ انہیں گلدان بھی مارے گئے ہیں تو امبر نے کہا ”گلدان ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم آ کر میرے دروازے پر دستک نہ دو“۔ اس پر جونی نے جواب دیا ”واقعی، میں تمہیں یہ سب پھینک کر مارنے دوں؟ “

جونی ڈیپ نے کہا ”وہ واحد وقت جب میں نے تم پر کچھ پھینک کر مارا تھا وہ تھا جب تم نے آسٹریلیا میں مجھ پر کین پھینک کر مارے تھے“۔ یاد رہے کہ اس واقعے کے بعد جونی ڈیپ کی تصاویر سامنے آئی تھیں جن میں ان کی زخمی انگلی دیکھ جا سکتی ہے۔

جونی ڈیپ نے کہا کہ انہوں نے اپنے بلڈنگ مینیجر ٹراوس کو میسیج کر کے بلایا تھا کیونکہ وہ خوفزدہ تھے کہ لڑائی قابو سے باہر نہ ہو جائے۔ ”پھر میں نے تمہیں کہا کہ ’ٹراوس کو بتاؤ کہ کیا ہوا تھا‘ ۔ اور یہ کہ تم نے میرے چہرے پر مکا مارا تھا۔ اور تم نے کہا تھا کہ ’میں نے نہیں مارا، تم کیا بات کر رہے ہو؟ ‘ اور میں تمہیں جھوٹ بولتے دیکھتا رہا۔ “

امبر نے جواب دیا ”میں نے تمہیں مکا نہیں مارا تھا۔ آئی ایم سوری کے میں نے تمہارے چہرے پر ایک ٹھیک سے تھپڑ نہیں مارا تھا، لیکن میں تمہیں مار رہی تھی، اور یہ مکا نہیں تھا۔ بے بی تمہیں مکا نہیں مارا گیا تھا“۔

جونی نے احتجاج کیا ”مجھے یہ مت بتاؤ کہ مکا کھانا کیسا محسوس ہوتا ہے“۔
امبر نے طنزیہ انداز میں جواب دیا ”مجھے پتہ ہے تم بہت سی لڑائیوں میں شامل رہے ہو، مجھے پتہ ہے، پتہ ہے۔ یس“۔
جونی نے تپ کر جواب دیا ”نہیں، جب تمہارا مکا بنا ہوتا ہے“۔

امبر نے کہا ”تمہیں مکا نہیں پڑا تھا۔ تمہیں ضرب لگی تھی۔ آئی ایم سوری کے میں نے تمہیں ایسے مارا۔ لیکن میں نے تمہیں مکا نہیں مارا تھا۔ ۔ ۔ میں تمہیں مار رہی تھی۔ مجھے نہیں پتہ کہ میرے ہاتھ کی اصل حرکت کیا تھی۔ لیکن تم ٹھیک ہو۔ میں نے تمہیں چوٹ نہیں لگائی۔ میں نے تمہیں مکا نہیں مارا۔ میں تو بس مار رہی تھی“۔

جونی کو مصالحت کی کوشش کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے اور امبر نے مثبت جواب دیا، مگر چند ماہ بعد ہی طلاق کے لئے مقدمہ کر دیا۔

جونی ڈیپ کے ملکیتی بہاماس کے جزیرے کی نگران تارا رابرٹس نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امبر ہرڈ کو جونی ڈیپ سے جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ جونی کی ناک پر ایک زخم کا نشان بن گیا تھا اور انہوں نے بتایا کہ امبر نے ان پر کین پھینک کر مارا تھا۔

تارا نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی جونی کو امبر کے حملوں کا جسمانی طور پر جواب دیتے نہیں دیکھا۔ ”امبر کی چیخ پکار اور طعنے و تشنیع جنونی انداز اختیار کر گئے اور جونی یہ چیختا رہا ’چلی جاؤ‘ ، ’مجھے تنہا چھوڑ دو‘ ۔ میں نے امبر کو جونی پر جھپٹتے دیکھا، نوچتے ہوئے، دھکیلتے اور کھینچتے ہوئے۔ وہ اپنی جگہ پر کھڑا چیختا رہا کہ یہ سب بند کرو اور اسے تنہا چھوڑ دو“۔

تارا نے کہا کہ جونی ایک غیر معمولی طور پر مہربان انسان ہیں۔ انہوں نے جونی کو کبھی بھی امبر یا کسی دوسرے کے ساتھ پرتشدد یا غصے ہوتے نہیں دیکھا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ امبر ایک چیزیں پھینک کر مارنے والی شخصیت ہے۔ ان واقعات کے دوران میں نے امبر کو جونی پر حملے کرتے ہوئے دیکھا۔

تارا نے مزید بتایا کہ ”امبر سے شادی سے پہلے جونی ایک بہت دوستانہ انداز رکھتے تھے۔ وہ سوشل تھے۔ شادی کے بعد ان میں تبدیلی آتی گئی۔ اور کبھی بہت سوشل اور زندہ دل شخص اپنا زیادہ وقت سونے میں گزارنے لگا، وہ چیزوں سے لاتعلق ہوتا گیا، وہ تنہائی پسند ہو گیا۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *