جاؤ اسے ڈیجیٹل زندان میں ڈال دو

وسعت اللہ خان - تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس طرح ہر بچے کے ذہن میں اللہ میاں یا بھگوان کی اپنی ہی بنائی ہوئی تصویر ہوتی ہے اسی طرح مجھے ریاست ہمیشہ کچھ نہ کچھ آڑی ترچھی، مثبت منفی، ٹیڑھی سیدھی، بنتی بگڑتی شے لگتی ہی رہتی ہے۔

مثلاً ان دنوں بات بے بات ٹیکس لگانے اور نت نئے شعبوں سے ٹیکس نچوڑنے کے لئے ریاست جس طرح کوشاں ہے۔اور اس حقیقت سے بالکل آنکھیں موندے ہوئے ہے کہ ہر گائے کا مطلب محض دودھ دوہنا نہیں ہوتا۔ کچھ گائیں تعلیمی، تجرباتی، افزائشی و لحمیاتی تقاضوں کے تحت بھی پالی جاتی ہیں۔

مگر ان دنوں تخلیقی اپچ سے عاری بلا امتیاز ندیدے پن کا شکار ریاست مجھے ماسٹر سبطین جیسی لگ رہی ہے جو آدھی چھٹی کے وقت کھانا چکھنے کے بہانے ہر بچے کے ٹفن میں سے کچھ نہ کچھ کھا مرتے اور بچے مارے ادب یا خوف پیٹ بھرنے سے محروم رہتے۔

یا مختلف ریاستی ادارے مجھے وہ مسٹنڈے دادے نظر آ رہے ہیں جو کہیں بھی ناکا لگا کر یا سڑک پر بانس اڑا کر کے یا کسی بھی پارکنگ لاٹ میں چار لمڈے بھیج کر فیس، ٹیکس یا پرچی پہ بھتہ وصول کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جب ان اداروں، افراد یا داداؤں سے کوئی پوچھے کہ بھیا یہ سب کس قانون کے تحت ہو رہا ہے، ہمیں بھی کوئی تحریری نقل دکھاؤ تو یہ سننے کو ملتا ہے کہ ابے تو کیا ہم سے زیادہ قانون جانتا ہے؟ ہمیں یہاں صاحب نے وصولی کے لئے کھڑا کیا ہے، تیرے کو زیادہ تکلیف ہے تو ہمارے صاحب سے پوچھ لینا شام کو آئیں گے۔ فی الحال پیسے نکال اور یہ پکڑ پرچی۔

اور جب کوئی عام آدمی یہ کہتے ہوئے بھڑ جائے کہ ہم پیسے نہیں دیں گے یا ہم اس جگہ سے نہیں اٹھیں گے جب تک کسی کا تحریری حکم نہیں دکھاتے تو پھر ہاتھا پائی، گالم گلوچ یا اس سے بھی کام نہ چلے تو نامعلوم افراد کی مدعیت میں بغاوت یا دھشت گردی کی دفعات ڈال کر مقدمات درج ہونے شروع ہو جاتے ہیں، یا نامعلوم افراد اغوا کر کے لے جاتے ہیں۔

حالت اب یہ ہے کہ ریاست اداروں کی اکائی نہیں رہی بلکہ ہر ادارہ بطور ریاست ایک علیحدہ شناخت کی دعوے داری کے ساتھ اپنی اپنی من مانی اور سینہ زوری پر اتر آیا ہے۔

ریاستی اختیار کے کاؤنٹر پر جو اہل کار پالیسی سازوں جیسا لباس پہنا کر بیٹھال دیے گئے ہیں وہ دراصل اسی کاؤنٹر کے پچھلے کمرے میں بیٹھے بااختیاروں کی صوابدید پر ریاستی عمل داروں کی ادا کاری کرنے معززین کے روپ میں عام سے کارندے ہیں ۔

اس طرح سے ریاست چلانے کی جانب کسی کی توجہ نہ جائے۔ اسے یقینی بنانے کے لئے الیکٹرونک میڈیا کے چوکیدار ادارے پیمرا نے بہت عرصہ پہلے ہی لائسنس یافتہ میڈیا کو ادارتی زنبور سے آختہ کر کے نیز سارے ڈنک اور دانت نکال کر اسے اس سطح پر لا کے چھوڑ دیا کہ میڈیا پھنکار سکتا ہے، خوخیا سکتا ہے، مگر بھونک سکتا ہے نہ کاٹ سکتا ہے۔

آج کا میڈیا دیکھنے میں بھی بطخ ہے، تیرتا بھی بطخ کی طرح ہے، کوینک کوینک کی آواز بھی نکالتا ہے مگر یہ بطخ نہیں بطخ نما ہے جسے مصنوعی ذہانت کے آلے کی مدد سے تیرایا جا رہا ہے۔

امید تھی کہ اب جبکہ روائیتی میڈیا حسبِ منشا لم لیٹ ہو گیا ہے تو پیمرا کو چابی بھرنے والوں کو کچھ عرصے کے لئے آرام مل جائے گا۔ مگر جن ناپسندیدہ چہروں کا عرصہِ حیات تنگ کر کے انہیں الیکٹرونک میڈیا کے قبیلے سے نکلنے پر مجبور کیا گیا اور انہوں نے پھر سوشل میڈیا کی غیر لیز شدہ زمین پر گفتگو کی جھونپڑیاں ڈالنے کی کوشش کی تو کسی نے پیمرا کو مشورہ دیا کہ سوشل میڈیا کا رقبہ بھی تو ریاست کی حدود میں ہے لہذا اس پر بھی ریاست کا محصولاتی و سٹرٹیجک اختیار ہونا چاہئے ۔

چنانچہ اب اگر الیکٹرونک میڈیا کے کسی پناہ گزین کو سوشل میڈیا کی کچی آبادی پر اپنا نشریاتی خمیہ، ویب ٹی وی یا ویب چینل کی شکل میں گاڑنا ہے تو اسے پیمرا سے لائسنس خریدنا ہو گا۔ ویب پر خبری چینل کے لائسنس کی فیس ایک کروڑ روپے اور غیر خبری چینل کی فیس پچاس لاکھ روپے ہو گی۔

اب اگر کوئی پیمرا سے پوچھے کہ بھائی انٹرنیٹ تو بین الاقوامی ملکیت ہے اور اس کا استعمال اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بنیادی حقوق کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ آپ کیسے کسی سے انٹرنیٹ پر خمیہ لگانے کی فیس وصول کر سکتے ہیں؟

اس سوال کا بھلے پیمرا کے پاس کوئی معقول تحریری جواب ہو کہ نہ ہو لیکن جب ایسے ٹیڑھے سوال اٹھانے والا اٹھ جائے یا اس پر کوئی نامعلوم یا غیر معروف شہری بغاوت یا ملک دشمنی یا کارِ سرکار میں مداخلت کا پرچہ کٹوائے گا تو لگ پتہ جائے گا کہ کس قانون کے تحت کسی قانونی سوال کو اٹھانے کی بدتمیزی کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

جب آپ کو وفاقی کابینہ، پارلیمانی پھرتیوں اور ٹاک شوز کی شکل میں بوریت دور کرنے کے اسباب فراہم کر دئیے گئے ہیں تو آپ ان میں من لگانے کے بجائے کارِ سرکارِ نادیدہ میں ٹانگ اڑانے پر کیوں بضد ہیں۔

آپ جیسے پاگلوں کا ایک ہی علاج ہے کہ آپ کو ڈیجیٹل زندانوں کی دیدہ و نادیدہ سلاخوں کے پیچھے ڈال کے بھول جایا جائے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •