کیا آپ غزالی کی دانائی اور دیوانگی سے واقف ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ غزالی کو پسند کرتے ہیں یا ناپسند؟
کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں یا نفرت؟
کیا آپ انہیں مسلمانوں کے کارواں کا رہبر سمجھتے ہیں یا رہزن؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ غزالی مسلمانوں کو راہِ راست پر لے کر آئے یا انہیں گمراہ کیا؟

غزالی کی شخصیت کو لوگ پسند بھی کر سکتے ہیں ناپسند بھی۔ وہ ان سے محبت بھی کر سکتے ہیں نفرت بھی لیکن وہ انہیں نظرانداز نہیں کر سکتے کیونکہ غزالی نے مسلمانوں کی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

بوحمید غزالی 1058 میں ایران کے شہر طبران میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور ان کی پرورش ان کے والد کے ایک صوفی دوست نے کی۔ غزالی نے فلسفے کی تعلیم اپنے عہد کے ایک مایہِ ناز دانشور الجوینی سے حاصل کی۔ جب 1085 میں الجوینی کا انتقال ہوا تو غزالی نے نیشا پور ہجرت کی جہاں وہ نظام الملک کے دربار سے متعارف ہوئے اور وہاں کے معتبر نظامیہ مدرسے میں معلم کے عہدے پر فائذ ہوئے۔ 1095 میں 37 برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے وہ اپنے شوق ’قابلیت اور محنتِ شاقہ سے ایک ہردلعزیز اور قابلِ احترام فلسفی بن چکے تھے۔ ان کی شہرت اس وقت اپنی معراج پر پنیچی جب ان کی تصنیف مقاصدِ فلسفہ منظرِ عام پر آئی۔

اپنی شہرت کی معراج پر پہنچ کر غزالی ایک جذباتی تضاد کا شکار ہو گئے۔ غزالی کو شدت سے یہ احساس ہونے لگا کہ وہ نیک نیتی سے درس و تدریس نہیں کر رہے۔ انہیں محسوس ہوا کہ ان کا مقصد دین کی خدمت نہیں بلکہ اپنی ذات کی شہرت اور اپنی انا کی تسکین ہے۔ ان کا یہ احساس ان کی روح کا کانٹا بن گیا کہ وہ مقدس کام سے اپنے غیر مقدس جذبات کی تسکین کر رہے ہیں۔

اس کیفیت سے وہ احساسِ گناہ کا شکار ہو گئے اور ان کا ضمیر انہیں ملامت کرنے لگا۔ وہ اپنے ضمیر کی آواز کو جتنا دبانے کی کوشش کرتے وہ اتنی ہی شدت سے ابھر کر آتا۔ آہستہ آہستہ ان کا جذباتی تضاد ’ان کا احساسِ گناہ‘ ان کا احساسِ ندامت اور ان کا احساسِ ملامت اتنا شدت اختیار کر گیا کہ وہ نفسیاتی بحران کا شکار ہو گئے اور ان پر دیوانگی کے دورے پڑنے لگے۔

کئی برس بعد انہوں نے اپنی خود نوشتہ روحانی سوانح عمری المنقد من الدلال PATH TO SUFISMمیں یہ اعتراف کیا ’مجھے احساس ہوا کہ میری زندگی کا مقصد دین کی خدمت کی بجائے اپنی ذات کی شہرت تھا اور میں اپنا ذہنی توازن کھونے کے بہت قریب آ گیا تھا‘ ۔

جوں جوں غزالی کا جذباتی تضاد اور نفسیاتی بحران بڑھتا رہا ان کی دیوانگی میں شدت پیدا ہوتی گئی۔ وہ نہ کھانا کھا سکتے تھے نہ راتوں کو سو سکتے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ جذباتی طور پر مفلوج ہو گئے اور خطبہ دینے کے قابل نہ رہے۔

انہوں نے اپنے دور کے جتنے ڈاکٹروں ’حکیموں اور طبیبوں سے مشورہ کیا سب نے ان کی بیماری کو لاعلاج قرار دیا۔ وہ اپنی سوانح عمری مں رقم طراز ہیں‘ خدا نے میری زبان پر تالا لگا دیا اور لوگوں کے سامنے تقریر کرنے اور درس دینے کے قابل نہ رہا، میرا دل اداس ہو گیا اور میں مغموم ہو گیا۔ یاسیت کا شکار ہو گیا۔ نہ میں کچھ کھا سکتا تھا نہ کچھ پی سکتا تھا۔ نہ ہی راتوں کو سو سکتا تھا۔ میں ذہنی طور پر پوری طرح مفلوج ہو گیا ’

غزالی کی بیان سے یوں لگتا ہے جیسے وہ مالیخولیا کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ ایسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہوئے جو آج کے دور میں PSYCHOTIC DEPRESSIONکہلاتی ہے۔

غزالی کو اپنی ذہنی بیماری اور اپنی دیوانگی کی وجہ سے اپنے دوستوں ’رشتہ داروں‘ طلبا اور خاص طور پر سلطان کے سامنے ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ندامت اور خجالت سے بچنے کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ وہ حج کرنے مکہ جا رہے ہیں۔ یہ علیحدہ بات کہ ان کے دل میں حج کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وہ بس شہر سے بھاگ جانا چاہتے تھے۔ آخر وہ حج کے بہانے دمشق چلے گئے۔ جب وہ دمشق جانے کا قصد کر رپے تھے تو ان کا واپس آنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ وہ ساری دنیا سے چھپنا چاہتے تھے۔ وہ ایسی جگہ جانا چاہتے تھے جہاں انہیں کوئی جانتا نہ ہو اور وہ گمنامی کی زندگی گزار سکیں۔

؎ رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

کوئی ہمسایہ نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

غزالی نے زندگی کا ایک طویل عرصہ مالیخولیا کی تاریکی میں گزارا۔ انہیں یوں لگتا تھا جیسے سیاہ بادلوں نے ان کی ذات اور کائنات کو گھر رکھا ہو۔

کئی برسوں کی اذیت کے بعد ان کی تاریک دنیا میں روشنی کی چند کرنیں نمودار ہوئیں۔ انہوں نے جن روحانی رہنماؤں اور صوفیوں کی کتابیں پڑھنی شروع کیں ان میں الحارث المحاصی کے ساتھ ساتھ الشبلی اور بایزید بسطامی کی تصانیف بھی شامل تھیں۔ ان کتابوں سے فیض حاصل کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اصل حقیقت ’اصل صداقت اور اصل حق فلسفیوں کے پاس نہیں صوفیوں کے پاس ہے۔ دھیرے دھیرے فلسفی غزالی صوفی غزالی بن گئے۔

صوفی بننے کے بعد غزالی نے فلسفے اور منطق کو خیرباد کہہ کر الہام اور وحی کو گلے سے لگا لیا۔

جب غزالی اپنے نفسیاتی بحران سے نکل آئے اور ایک صوفی کی زندگی گزارنے لگے تو انہیں سلطان کا ایک اور پیغام آیا کہ وہ واپس آ جائیں اور درس و تدریس کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیں۔ غزالی نے اپنی صوفی دوستوں سے ان کی رائے مانگی تو انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تاریخ میں ہر صدی میں ایک نیا مسیحا آتا ہے آپ اس صدی کے مسیحا ہیں اس لیے واپس لوٹ جائیں اور اپنے نظریہِ حیات کی تبلیغ کریں اس سے آپ اسلام کی بہت خدمت کریں گے۔

دوستوں کے مشورے کے بعد غزالی نے سلطان کی دعوت قبول کر لی اور بغداد چلے گئے جہاں وہ فلسفیوں سے دور اور صوفیوں کے قریب آ گئے۔ پہلے تو غزالی نے فلسفیوں سے نظریاتی فاصلہ اختیار کیا لیکن پھر وہ ان کے خلاف ہو گئے۔

غزالی نے مسلمانوں سے کہا ان کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ مذہب ’روحانیت اور طریقت کا راستہ ہے اور دوسرا راستہ سائنس منطق اور ریاضی کا راستہ ہے۔ غزالی نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ سائنس اور منطق کے راستے کو ترک کر کے روحانیت اور طریقت کا راستہ اختیار کریں۔

وہی غزالی جہنوں نے فلسفے کی حمایت میں کتاب لکھی تھی اب فلسفے کی مخالفت میں ایک کتاب چھاپی جس کا نام تہافتہ الفلسفہ INCOHERENCE OF PHILOSOPHYرکھا۔ اس کتاب مں غزالی نے نہ صرف مسلمان دانشوروں الفارابی اور بو علی سینا پر اعتراضات کیے کیونکہ وہ سائنس ’طب اور فسلفے کے حامی تھے بلکہ ارسطو اور افلاطون پر بھی سخت تنقید کی۔ اس کتاب کے بعد غزالی نے کیمیائے سعادت اور احیا العلوم جیسی کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں کے بعد غزالی شہرت کی ایک اور معراج پر پہنچے اور ان کے پرستاروں نے انہیں حجت الاسلام کا خطاب دیا۔

غزالی دھیرے دھیرے ایک متنازعہ دانشور کی حیثیت اختیار کر گئے۔ بعض نے انہیں مسلمانوں کے کارواں کا رہبر جانا اور بعض نے انہیں رہزن قرار دیا۔ بعض نے کہا کہ وہ مسلمانوں کو دوبارہ راہِ راست پر لے گئے اور بعض نے کہا کہ انہوں نے مسلمانوں کو گمراہ کیا ہے۔ جو انہیں گمراہ کرنے والے عالم سمجھتے تھے ان میں ایک مسلم دانشور ابن رشد بھی تھے۔ وہ غزالی کی فلسفے پر تنقید سے اتنے برہم ہوئے کہ انہوں نے غزالی کی فلسفے پر تنقید پر تنقید لکھی اور اس کا نام

INCOHERENCE OF INCOHERENCEرکھا۔

ابن رشد کے بعد مسلمانوں میں دو گروہ پیدا ہوئے۔ روحانیت کو ماننے والے غزالی کے اورفلسفے اور سائنس کو ماننے والے ابن رشد کے پرستار بن گئے۔ ۔ پرویز ہودبھائی اپنی کتاب اسلام اور سائنس میں لکھتے ہیں کہ غزالی کی تعلیمات کے بعد مسلمانوں نے سائنسدان پیدا کرنے چھوڑ دیے۔ بہت سے مسلمان اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کو سائنس اور فلسفے کے مضر اثرات سے محفوظ کر رکھا ہے۔

مسلمانوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے غزالی سے محبت بھی کر سکتے ہیں نفرت بھی ’ان کی حمایت بھی کر سکتے ہیں مخالفت بھی لیکن وہ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ غزالی نے مسلمانوں کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

عہد ِ جدید کے بعض مسلم فلسفیوں ’سائنسدانوں اور دانشوروں کا خیال ہے کہ اکیسویں صدی مں ہمیں غزالی کی تعلیمات اور مسلمانوں پر ان تعلیمات کے اثرات کا از سرِ نو تنقیدی جائزہ لینا چاہیے۔ اگر ہم خود یہ نہیں کریں گے تو پھر ہمارے بچے ایسا کریں گے۔ بچوں کے بارے میں میرے دو اشعار ہیں

؎ نئی کتاب مدلل جواب چاہیں

ہمارے بچے نیا اب نصاب چاہیں گے

حساب مانگیں گے اک دن وہ لمحے لمحے کا

ہمارے عہد کا وہ احتساب چاہیں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 290 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *