اگر یہ چار ٹھیک ہو جائیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دن کی بات ہے کہ عباسی خلیفہ منصور اپنے دربار میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔ بادشاہوں کا مزاج بھی بڑا عجیب ہوتا ہے۔ شیخ سعدی ؒ فرماتے ہیں کہ بادشاہوں کی متلوّ ن مزاجی سے ڈرنا چاہیے۔ اگر وہ خوش ہوں تو گالی پر بھی انعام دے دیتے ہیں اور اگر ناراض ہوں تو تعریف پر بھی سزا سنا نے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کو بہت محتاط رہنا چاہیے جو بادشاہوں کے قریب ہوں۔ خلیفہ منصور کے درباری بھی اسی لیے پریشان تھے۔

اچانک منصور نے اپنا سر اٹھایا اور درباریوں کی طرف متوجہ ہوا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی نتیجے پر پہنچ چکا ہو۔ اس نے وزیروں اورمشیروں کی طرف توجہ کی اور بولا ”اگر یہ چار ٹھیک ہو جائیں تو پورا ملک ٹھیک ہو سکتا ہے۔ جب تک یہ چار ٹھیک نہیں ہوں گے سلطنت کی بہتری کی امید کرنا فضول ہے“۔ بادشاہ نے یہ کہہ کر تھوڑا سا توقف کیا اورمصاحبوں کی کیفیت کا اندازہ لگانے لگا۔ اس نے محسوس کیا کہ دربار میں موجود تمام لوگ پریشان تھے۔

شاید ہر کوئی یہ سوچ رہا تھا کہ نہ جانے وہ چار کون ہیں؟ انہوں نے کیا جرم کیا ہے؟ کہیں میں بھی تو ان چار میں شامل نہیں جن کی بات بادشاہ کر رہا ہے؟ ان چار لوگوں کا کیا انجام ہونے والا ہے؟ خلیفہ منصور نے تمام حاضرین کو تھوڑی دیر اسی کیفیت میں رہنے دیا اورخود لطف اندوز ہونے لگا۔ جب اس نے محسوس کیا کہ اب ان کا صبر جواب دینے لگا ہے تو دوبارہ گویا ہوا ”ان چار میں سب سے پہلا فرد قاضی (جج) ہے جس کا انصاف یہ طے کرتا ہے کہ ملک میں قانون کی طاقت ہو گی یا طاقت کا قانون“۔

یہ سن کر تمام لوگوں کی جان میں جان آئی کہ بادشاہ کسی خاص فرد کی بات نہیں کر رہا بلکہ محکموں کی بات کر رہا ہے۔ بادشاہ کی بات جاری تھی ”دوسری پولیس ہے جو مظلو م کو ظالم سے چنگل سے چھڑاتی ہے۔ تیسرے نمبر وہ بندہ ہے جو ٹیکس اکٹھا کرتا ہے اوراسی کی دیانتداری قومی خزانے کا حجم اور ترجیحات طے کرتی ہے“۔ یہ کہہ کر بادشاہ رکا، اس نے اپنی شہادت کی انگلی منہ میں ڈالی اور اسے دانتوں سے کاٹ کر ہلکی سی آہ کے ساتھ باہر نکال لیا۔

اس نے یہ فعل تین بار دوہرایا اور پھر دوسرے ہاتھ سے متأثرہ انگلی کو سہلانے لگا۔ جب تھوڑا افاقہ ہوا تو وزیروں نے ہمت کی اور پوچھا ”چوتھا کون ہے؟ “۔ بادشاہ نے مسکرا کر جواب دیا ”چوتھا محکمہ خفیہ کا وہ بندہ ہے جو کسی کی خفیہ رپورٹ مرتب کرتا ہے اور اسی کی رپورٹ پر ملکی پالیسی کی ترجیحات کا فیصلہ ہوتا ہے“۔

یہ واقعہ پڑھ کر انسان منصور کی ذہانت اور اس کے تجزیے کی داد دیے بنا نہیں رہ سکتا۔ اس کا یہ اصول سالوں پہلے بھی اتنا ہی کارآمد تھا جتنا آج ہے۔ وہ جتنا قابل عمل کل تھا اتنا ہی قابل عمل آج بھی ہے۔ ریاست کی بقا اور ترقی کا دارومدار انہی چار چیزوں پرہے۔ ریاست میں ان کو وہی حیثیت حاصل ہے جوکسی چارپائی کے چار، پایوں کو حاصل ہے۔ اگر ایک پایہ بھی اپنی جگہ سے ڈھیلا ہو جائے یا ٹوٹ جائے تو چارپائی کی تمام چولہیں ہلنے لگتی ہیں اور ”چیں چیں“ کی آوازیں ہمسایوں کے گھر تک پہنچ جاتی ہیں۔ جس چارپائی کی حالت ایسی ہو جائے لوگ یا تو اس کی مرمت کراتے ہیں، یا اس سہارا لینا چھوڑ دیتے ہیں یا پھر اس کا ایندھن بنا لیا جاتا ہے۔

منصور کے تجزیے میں عدالت پہلے نمبر پر تھی۔ جدید دنیا میں بھی اس کی قائل ہے اور زمانہ قدیم کی بھی یہی روایت تھی۔ خود نبی کریم ﷺ نے جب ایک عورت کو سزا سنائی اور ایک صحابی نے اس کی سفارش کی تو آپ ﷺ نے فرمایا ”اگر ا س عورت کی جگہ میری بیٹی ہوتی تو اس کے لیے بھی یہی سزا ہوتی۔ تم سے پہلے قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان کے امیر جرم کرتے تھے تو انہیں چھوڑ دیا جاتا تھا لیکن جب غریب سے کوئی جرم ہو جاتا تھا تو اسے سزا ملتی تھی“۔

حضرت علی ؓ نے ارشاد فرمایا ”معاشرہ کفر کی بنیاد پر تو چل سکتا ہے لیکن ظلم کی بنیاد پر نہیں“۔ فرعون خدائی کا دعویدار تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر بھی اس کی بادشاہی کو قائم رکھا کیونکہ وہ انصاف پسند تھا۔ لیکن جس دن اس نے بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرانا شروع کیا اور ظلم کا راستہ چنا اس دن کے بعد اس کا زوال شروع ہوگیا۔ اسی طرح پولیس بھی بہت اہم ہے کیونکہ ملک کا داخلی امن اسی محکمے پرمنحصر ہے۔ کسی بھی ملک کے دشمن دو طرح کے ہوتے ؛بیرونی اور اندرونی۔

بیرونی دشمن سے بچاؤ کے لیے فوج وجود میں آئی جبکہ اندرونی خلفشار سے محفوظ رہنے کے لیے پولیس کا محکمہ بنایا گیا۔ بیرونی دشمن کی نسبت اندرونی دشمن سے لڑنا مشکل ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ماضی قریب میں تو کئی ایک ملک ایسے بھی تھے جہاں فوج کا محکمہ تو موجود نہ تھا لیکن پولیس کا محکمہ بہرحال موجود تھا۔ منصور نے تیسرا نمبر ٹیکس کودیاکیونکہ جس ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اس کی بات پوری دنیا سنتی ہے جبکہ غریب ممالک کی بات ہنسی مذاق میں اڑا دی جاتی ہے۔

چوتھے نمبر وہ افراد ہیں جن کا تعلق ریاست کے خفیہ محکمے کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ ریاست کے اندر اور باہر ان دشمنوں پر نظر رکھتے ہیں جنہیں دنیا کی جدید اصطلاح میں ”سلیپنگ اینیمیز“ کہا جاتا ہے۔ انہیں مارِآستیں اور خفیہ دشمن بھی کہا جاتا ہے۔ یہی محکمہ ملک کو آنے والے خطروں اور درپیش خطرات سے قبل از وقت آگاہ کرتا ہے۔ اگر یہ محکمہ دیانتداری سے کام نہ کرے تودنیا کے تمام بہادر کسی فوج میں اکٹھے کر کے ان کا سربراہ خواہ کسی ٹیپو سلطان کو ہی کیوں نہ بنا دیا جائے انہیں گرانے کے لیے دو افراد ہی کافی ہوجاتے ہیں میر جعفر اور میر صادق۔

قاضی عدل کرتا ہے تو معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے، امن سے خوشحالی آتی ہے، خوشحالی سے معیشت مضبوط ہوتی ہے، مضبوط معیشت خزانہ بھرتی ہے اور اسی خزانے سے ملک کا دفاع کیا جاتا ہے جس میں سب سے اہم کردار اس خفیہ والے کا ہے جو ”سلیپنگ سیل“ کی نشاندہی بھی کرتا ہے اور ملک کو درپیش خطرات سے پیشگی آگاہ بھی کرتا ہے۔ لیکن افسوس! ہمارے ملک میں یہ چاروں پائے سیاست زدہ ہوگئے یا انہیں سیاست زدہ کر دیا گیا ہے۔ یوں ملک کی چولیں اندر سے بھی ہل رہی ہیں اور بیرونی دنیا میں بھی ہمارا مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ واپسی صرف اسی صورت ممکن ہے جب یہ چاروں پائے اپنی پانی جگہ موجود رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *