گلگت بلتستان آئینی حقوق کا باب بند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حصول اور آئینی حیثیت کے تعین کے حوالے سے دو قسم کی سوچ کار فرماں تھی۔ ایک سوچ وہ تھی جو سیاسی میدان میں لڑتے ہوئے یا مزاحمت کے ذریعے ریاست کو مجبور کرے کہ گلگت بلتستان کو آئین پاکستان میں ظاہر کریں یوں اس کے آئینی حیثیت کا تعین بھی ہوگا اور آئینی حقوق کا حصول بھی ممکن ہوگا۔ یہ نوٹیفکیشن کی بنیاد پر حیثیت میں تبدیلی کا خواہشمند گروہ ہے اور سب سے زیادہ یہی پایا جاتا ہے۔

حتیٰ کہ گلگت بلتستان کے کشمیر سے الحاق کے خواہش مند طبقے کا شمار بھی اسی میں ہوتا ہے کیونکہ ان کا بھی وفاق سے مطالبہ رہا ہے۔ اس درجہ بندی میں گرنے والوں کا مطالبہ ’خواہش‘ کی بنیاد پر تھا لیکن ان کوتحریک چلانے کی ضرورت کا احساس تھا۔ گلگت بلتستان کے حقوق کے علمبرداروں میں زیادہ تر کا شمار اسی درجہ بندی سے ہے، بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا اب تک جتنے سیاسی شخصیات ہیں ان سب کا شمار اسی درجہ بندی میں ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک خاموش طبقے کا یہ خیال تھا کہ گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کا تعین وقت خود کرے گا۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاسی مشق نہ ہونے کے برابر ہے، صوبائی درجہ ملنے کے بعد محض دس سال ہوگئے ہیں، اس دوران ہمارے منتخب نمائندوں نے اپنے نام کے ساتھ صوبائی لکھنا شروع کردیا ہے۔ گلگت بلتستان کے ایک سینئر سیاستدان کہتے ہیں کہ ہم زمانہ طالب علمی میں زوالفقار علی بھٹو کے پاس ملاقات کے لئے گئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنادیا جائے۔

جس کے جواب میں وزیراعظم پاکستان زوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ وقت بنائیگا۔ اس درجہ بندی میں گرنے والوں کایقین ارتقاء پر ہے، یہ طبقہ سمجھتا ہے کہ ستر کی دہائی سے شروع ہونے والا ’احکامات‘ کا سلسلہ عوام کو اجتماعی طور پر اس سطح پر لائیگا جہاں سے ان کے فہم و ادراک میں شعور بھرا ہوگا۔ معاشرتی تبدیلیاں انسان کو جو سبق سکھاتی ہیں وہ کوئی کتاب شاید ہی سمجھاسکتی ہو۔

اب گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال پر غور کیا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ن کی باری چل رہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اپنی باری میں اپنا کام کرچکی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے باری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس میں سیاسی ’مس ہینڈلنگ‘ اور بے وقت کی راگنی زیادہ تھی۔ اس کے باوجود یہ امر کارفرما تھا کہ آنے والی حکومت گزشتہ کے مقابلے میں کچھ بہتر دینے کی خواہش رکھتی ہے۔ گلگت بلتستان آرڈر 2018 اسمبلی کے اختیارات کے لحاظ سے نسبتاً بہتر ہے، یقین نہ آتا ہے تو اسمبلی کارروائی اٹھائیں اور جی بی آرڈر 2018 کے بعد ہونے والی قانون سازی کو دیکھ لیں جو کافی تو نہیں لیکن ثبوت ضرور ہے۔ تحریک انصاف کو تو پالا ہی حادثات نے ہے۔

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی سماعت کرتے ہوئے 1999 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ دیا تھا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔ اس فیصلے پر عملددرآمد کے لئے تقریباً 19 سال بعد گلگت بلتستان بار کونسل سپریم کورٹ آف پاکستان چلی گئی اورساتھ میں وفاقی حکومت کا دیا ہوا آرڈر 2018 کو بھی چیلنج کردیا۔ اس کیس کے ڈرامائی سماعتوں کے آخر میں فیصلہ ہوا کہ اب ایک اور آرڈر آئے گا جو سپریم کورٹ سے جاری ہوگا۔ اس ’آرڈر‘ کے لئے جاری ہونے والے آرڈر پر ہنگامہ ہی برپا ہوا کہ سبھی نے اس کے فوری عملدرآمد کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردیا حتیٰ کہ اسمبلی میں بھی متعدد بار ممبران نے اس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے زور دیا۔

گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں لیکن ذرا سی نظر ڈالی جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ وفاق میں جو بھی حکومت آئی ہے، معاملہ اس کے اختیارات پر منحصر ہوا ہے۔ کوئی میاں محمد نواز شریف کے 2013 جیسی مضبوط حکومت لے کر آیا ہے اور اسی نہج پر بیٹھ کر فیصلہ کیا ہے تو کوئی عمران خان کے 2018 جیسی کمزور حکومت لے کر آیا ہے نتیجتاً کمزور فیصلے ہی سامنے آرہے ہیں۔ ملکی سیاسی استحکام سے جڑے اس داستان کو عدالت عالیہ پر لے کر جانے والوں نے ’دروازہ‘ ہمیشہ کے لئے بند کردیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی آئندہ حکومت یا رواں حکومت پہلی حکومت ہوگی جو باوجود موقع ملنے کے خاموشی سے گزرجائے گی۔

چند روز قبل قومی سلامتی کونسل کے ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور انور منصور خان نے اس حوالے سے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں ہمارے پاس سوائے توثیق کے کوئی بھی اختیار نہیں ہے لہٰذا اسی پر عملدرآمد آخری آپشن ہے۔

دلچسپ امر سپریم کورٹ آف پاکستان کامتوقع آرڈر ہے جس میں وزیراعظم پاکستان اور صدر پاکستان کو پابند کیا گیا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کے حوالے سے کوئی خیال بھی ابھر آئے تو پہلے عدالت کو مطلع کریں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر کسی رکن قومی اسمبلی کو بھی اس حوالے سے خیال آئے کہ وہ آئینی ترمیم کے ذریعے گلگت بلتستان کو کچھ عنایت کرنا چاہتا ہے تو سپریم کورٹ آف پاکستان کو مطلع کریں، ہر دو صورتوں میں سپریم کورٹ کی اجازت لازمی ہے ورنہ خیال ذہن سے نکالا جائے۔

یوں ہمارے معزز وکلائے سپریم اپیلٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اس اقدام کی وجہ سے ارتقاء پر یقین رکھنے والے طبقے پر بھی خاموشی اور مایوسی چھاگئی۔ نواز خان ناجی صاحب اسمبلی میں دلچسپ گفتگو کرتے رہتے ہیں اور یونہی ایک مرتبہ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ آرٹیکل 270 اور 35۔ A ہونے کے باوجود احتجاج کررہے تھے تو دونوں چھن گئے اور ہم جی بی آرڈر 2018 کے خلاف احتجاج کرتے رہیں اور ہم سے یہ سلسلہ ہی چھینا جارہا ہے۔ یوں اب آرڈر پہ آرڈر کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگا اور ’تاحیات‘ آرڈر چلتا رہے گا۔

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق نامی شے کا جب بھی مستقبل تذکرہ ہوگا، انگلیاں بار ایسوسی ایشن جی بی پر اٹھیں گی۔ تاریخی دوراہوں سے گزرتے ہوئے ہمیں اس آئینی حقوق کے باب بند کرانے والے کرداروں کی نشاندہی کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ چونکہ وکلاء ہیں تو عدالت کو ہی سب سے اہم اور آخری حل سمجھنا فطرت ہے۔ اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نے داستان کو داستان الف لیلیٰ کرکے آہنی دروازوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *