والدین کا بچوں کے ساتھ رویہ اور تعلق


بچے پیدا کرنا تو آسان ہے ’پالنا آسان ہے لیکن ان کی تربیت کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ جبکہ دورِ حاضر میں بچے پیدا کرنا اور پالنا بھی کوئی آسان کام نہیں رہا لیکن ان کی تربیت انتہائی مشکل کام بن گیا ہے۔ جب ہم بچوں کی تربیت کی بات کرتے ہیں تو اس میں بہت سارے محرکات کارفرما ہوتے ہیں جن کی اپنی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ تربیت میں ماں باپ کا بچوں کے ساتھ تعلق بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔

ہمارا دور بہت اچھا تھا۔ والد سخت مزاج ہوتے تھے ان کی شخصیت کا اپنا رعب تھا ’ایک الگ ہی ڈر و خوف ہوتا تھا۔ کوئی غلط بات منہ سے نکالنے سے پہلے یا کوئی غلط کام کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتے تھے۔ والدہ نرم مزاج ہوتی تھی لاڈ پیار اٹھاتی تھیں لیکن ہم میں اتنی ہمت نہ ہوتی کہ احترام کی حد کو عبور کرسکیں۔ والدہ کا گھورنا ہی کافی ہو جاتا تھا۔

لیکن اب وقت بہت بدل گیا ہے۔ والدین (والد اور والدہ) کو بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول رکھنا پڑتا ہے اگر ایسا نہیں ہوتا تو بچہ بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے۔

تربیت میں والد اور والدہ کا برابر کا کردار ہے۔ لیکن چونکہ والد روزگار کے سلسلے میں زیادہ وقت گھر سے باہر ہوتے ہیں لہذا ساری ذمہ داری والدہ پر آتی ہے۔ اب بیٹا ہو یا بیٹی کوئی فرق نہیں رہا۔ والدین کو ایک دوستانہ رویہ رکھنا چاہیے تاکہ آپ کے بچے آپ سے ہر بات شئیر کر سکیں بغیر کسی ڈر اور خوف کے۔ اگر آپ اپنی توجہ سے بچوں کو محروم کریں گے تو بچے توجہ پانے کے لیے گھر سے باہر کوئی سہارا ڈھونڈیں گے اور غلط صحبت کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔

ان کو اتنی آزادی دیں کہ وہ آپ کے ساتھ ہر طرح کی بات کر سکیں تاکہ آپ کو پتہ ہو کہ وہ باہر کیا کر رہے ہیں۔ ان کا ملنا جلنا کن کے ساتھ ہے۔ بے جا کی پابندیاں نہ لگائیں بلکہ ان کو صحیح اور غلط کی پہچان کرنا سکھائیں۔ صحیح راستہ کون سا ہے اور غلط راستہ کون سا ہے اس کی پہچان اور چناؤ کرنا سکھائیں۔

بچوں کو انگلی پکڑ کر چلنے کی عادت نہ ڈالیں بلکہ ان کو اختیارات دیں تاکہ وہ حالات کے مطابق اپنے اندر فیصلہ کرنے کی قوت پیدا کر سکیں۔ اب اگر فیصلہ غلط لیا ہے تو ان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں نہ کہ ان کو لعن طعن کر کے ان کی شخصیت کو مسخ کیا جائے۔ ہم اپنے تجربات سے سیکھتے ہیں ان کو بھی تجربات کرنے دیں۔ ہر اچھے اور برے وقت میں پرسکون رہیں اور ان کا بھرپور ساتھ دیں۔ اس طرح ان میں مسائل کا سامنا کرنے اور نمٹنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔ یہ والدین پر منحصر ہے کہ وہ کیسے اعتماد کا رشتہ قائم کرتے ہیں۔ جتنا زیادہ اعتماد ’پیار و محبت اور اپنائیت رشتوں میں ہو گی اتنے رشتے مضبوط ہوں گے۔

ہمیں بحیثیت والدین بچوں کی نفسیات کو سمجھنا پڑتا ہے۔ اگر بچہ نمبر اچھے نہیں لے رہا تو مار کٹائی ’طعنے یا مقابلہ بازی نہ کریں بلکہ یہ سوچیں کی اس کی ذہنی صلاحیت یا قابلیت ہی اتنی ہے۔ ہر بچہ ایک سا نہیں ہوتا ہمیں بچوں کی ذہنی سطح کو سمجھنا پڑتا ہے۔ یہ رویہ کہ میں تمھارا ماں یا باپ ہوں میری بات مانو اور اسی وقت مانواور جیسا میں نے بولا ہے ویسا ہی کرو تو ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ بچوں کی اپنی ایک شخصیت ہے‘ سوچ اور اندازِ فکر ہے۔

ان کی ایک الگ صلاحیت ہے۔ ہر بچہ دوسرے سے مختلف ہے حتٰی کہ ایک ماں کی اولاد ہونے کے باوجود سارے بچے مختلف عادات کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کی سطح پر آ کر سوچیں ’ان کی نفسیات کو‘ ان کی ضرورت کو ’ان کی پریشانی کو سمجھیں۔ ان کے ساتھ دوستانہ ماحول میں وقت گزاریں کچھ ان کی مان جائیں اور کچھ اپنی منوا لیں۔

بچے پیار کے بھوکے ہوتے ہیں ان کو جہاں سے پیار ملتا ہے وہاں چلے جاتے ہیں لہٰذا اپنے بچوں کو اپنا پیار اور سب سے بڑھ کر وقت اور اعتماد دیں تاکہ یہ خلا نہ پیدا ہو سکے۔

نوجوان بچوں میں ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جس میں وہ خود کو صحیح سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کو اہمیت دی جائے ان کی بات کو سنا جائے ان سے مشورہ لیا جائے یہ 10 سال سے 17 سال تک کی عمر بہت خطرناک ہوتی ہے کچھ بچے جلدی سمجھ جاتے ہیں اور ذمہ دار ہو جاتے ہیں لیکن کچھ بچے چیزوں کو سمجھنے میں وقت لیتے ہیں۔ اس عمر میں بچہ بگڑ بھی سکتا ہے اور سنور بھی سکتا ہے۔ ایسے بچوں کو بہت توجہ اور پیار کی ضرورت ہوتی ہے جو والدین ہی پوری کر سکتے ہیں بصورت دیگر وہ گھر سے باہر توجہ و پیار تلاش کرتے ہیں اور بری صحبت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تربیت میں صرف ماں کا کردار نہیں ہے بلکہ ماں اور باپ دونوں کا برابر کا کردار ہے۔ بچوں کو دونوں کے پیار اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے

اگر والدین اس بات کو سمجھ لیں توسارے مسائل خودبخود حل ہو جائیں اور ہم بحیثیت والدین اپنے بچوں کی اچھی پرورش کر کے سرخرو ہو سکیں گے۔ بات چھوٹی سی ہے اپنے بچوں کے ساتھ اچھا وقت گزاریں ان کے دوست بنیں ’غم گسار بنیں ان کی نفسیات کو سمجھیں ان کی سطح پر آ کر سوچیں وقت بہت بدل گیا ہے تھوڑا سا خود کو بھی بدل کر دیکھیں۔

Facebook Comments HS