وزیروں کی بے احتیاطیاں: طاقت، سازشوں اور بدعنوانیوں کی اندرونی کہانیاں۔ دوسرا حصہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک سرمئی ہفتہ کے دن حکومتی سرگرمیوں سے دور دس سال سے حکمران کنزرویٹو جماعت کا وزیر دفاع ”جون پروفیومو“ اپنی ایکٹریس بیوی ”ویلری ہوبسن“ کے ساتھ لندن سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع بکنگھم شائر کاؤنٹی کے قصبہ کلائیویڈن میں ہفتہ وار چھٹی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ کلائیویڈن برطانیہ کے ایک بڑے نواب خاندان ”آسٹر“ کی خاندانی سیٹ تھی۔ پروفیومو کا دوست لارڈ آسٹر اکثر یہاں بہت بڑی بڑی دعوتیں کرتا رہتا تھا۔ امراء۔ روساء۔ شہزادیاں۔ گورنمنٹ کے بڑے بڑے افسر ان دعوتوں میں شرکت کیا کرتے تھے۔

اس خاص دعوت میں بھی تیس سے زیادہ مہمان شریک تھے۔ لندن کی سوسائٹی گرل انیس سالہ ”کرسٹائن کیلر“ بھی اس دعوت میں موجود تھی۔ یہ دعوت دریا کے کنارے بنے ہوئے لارڈ آسٹر کے کاٹج میں ہو رہی تھی۔ لارڈ آسٹر نے یہ کاٹج اپنے معالج مشہور جراح ”سٹیفن وارڈ“ کو معمولی کرایہ پر دیا ہوا تھا۔ سینتالیس سالہ وارڈ او ر کیلر لندن میں ایک ہی فلیٹ میں اکٹھے رہ رہے تھے۔ کیلر اپنے دوست وارڈ کے ساتھ کلائیویڈن کی ایسی پارٹیوں میں اکثر شرکت کرتی تھی۔

سٹیفن وارڈ ایک برطانوی جراح اور مصور تھا۔ 1945 ء میں دوسری عالمی جنگ کے بعد اس نے فوج چھوڑ کر جراحی کی پریکٹس شروع کر دی تھی جو بہت کامیابی سے چل پڑی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے آرٹ کی تعلیم بھی حاصل کرنی شروع کی اور بہت جلدپورٹریٹ بنانے میں مہارت حاصل کر لی۔ امراء اور لارڈز کے ر پورٹریٹ بنانے اور جراعی میں مہارت کی وجہ سے اس کی دوستی لندن کے لارڈز اور امراء سے ہو گئی ان میں ایک لارڈ آسٹر بھی تھا۔

آٹھ جولائی 1961 ء ایک غیر معمولی گرم ہفتہ کا دن تھا۔ کلائیویڈن میں آسٹر کے گھر کا سومنگ پول وارڈ اور کیلر کو استعمال کرنے کی کھلی اجازت تھی۔ اس دن بھی پارٹی پول کے ساتھ ہو رہی تھی۔ کیلر نے وہاں رکھے ہوئے ایک ڈھیلے ڈھالے سومنگ سوٹ کا انتخاب کیا تو وارڈ نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس کو یہ پہننے کی کیا ضرورت ہے تم اس کے بغیر بھی نہا سکتی ہو۔ اگلے ہی لمحے کیلر نے بالکل ننگے ہو کر پانی میں چھلانگ لگا دی۔ یہ دیکھ کر تالاب کے کنارے بیٹھے ہوئے سب مہمانوں کے چہرے کھل اٹھے۔

پانی کے چھینٹوں اور لوگوں کی ہنسی کی آواز سن کرپروفیومو اور دوسرے مہمان بھی وہیں آ گئے۔ ان کے سامنے پانی میں بھیگی ہوئی کیلر ننگی کھڑی تھی جو ایک چھوٹے سے تولیے سے اپنے آپ کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ پروفیومو کی بیوی نے اسے کپڑے فراہم کئیے اور سب کو اندر چلنے کو کہا۔ لارڈ آسٹر نے سب سے کیلر کا تعارف کروایا۔ اندر چل کر پروفیومو نے کیلر کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ سارے لوگ سب کچھ بھلا کر زندگی کو قہقوں میں اڑا رہے تھے۔

لارڈ آسٹر نے کیلر کو اگلے دن پھر سومنگ پول میں نہانے کی دعوت دے ڈالی۔ اتوار کا دن ہفتہ سے بھی گرم تھا۔ کیلر لندن میں رات گزار کر دوبارا کلائیویڈن میں آ گئی۔ اس کے ساتھ اس کی سہیلی۔ سٹیفن وارڈ اور روسی ایمبیسی کا نیول اتاشی آئیونوف بھی تھا۔ آئیونوف سفارت کار کے بھیس میں ایک تربیت یافتہ روسی جاسوس تھا۔ دہ سیدھے سومنگ پول پر پہنچے۔ اس دن پروفیومو اور آئیونوف دونوں پانی میں کیلر کے آگے پیچھے اس کی توجہ حاصل کرنے میں لگے رہے۔

کیلر نے بعد میں اپنے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آئیونوف ایک چست و چالاک۔ خوبصورت اور پرجوش مردتھا لیکن میں جلد ہی پروفیومو کے حصار میں آ گئی۔ یوں دونوں میں کیلر کے حصول کے لئے ایک ان دیکھی جنگ شروع ہو گئی۔ وارڈ یہ سوچ رہا تھا کو اسے روسی اتاشی سے کیا معلومات مل سکتی ہیں اور ایسی ہی سوچیں روسی اتاشی سوچ رہا تھا۔ یوں یہ دعوتوں کاسلسلہ چل نکلا۔ ایسی ہی ایک دعوت میں برطانوی حکومت کے وزراء۔ لندن کی امراء خواتین۔ اس وقت کے صدر پاکستان محمد ایوب خان اور تیل کی کمپنیوں کے مالک شامل تھے۔ ایسی دعوت میں شریک روسی اتاشی کی موجودگی روسی ایمبیسی کے لئے بہت بڑا کارنامہ تھا۔ جہاں سے وہ بہت سی معلومات حاصل کر سکتا تھا۔

اگلے ایک ہفتہ کے اندر اندر پروفیومو کیلر کا فون نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے جب اسے فون کیا تو وہ اس وقت روسی اتاشی کے ساتھ تھی جو اس کے ساتھ اس کے فلیٹ پر رات گزارنے آیا تھا۔ اتنے طاقتور کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر کیلر کی آنکھیں غرور سے بند ہو گئیں۔ انھوں نے وہ رات محبت کرنے میں گزار دی۔ آئیونوف نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ اس نے اپنی ایجینسی ًکے جی بی ”کے کہنے پر وہ رات کیلر کے ساتھ گزاری تھی تا کہ کیلر کو اپنی محبت کا یقین دلا کربرطانیہ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کر سکے۔ ۔ وارڈ نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب کیلر نے اسے بتایا کر انھوں نے رات محبت کرنے میں گزار دی تو میں نے یقین نہیں کیا۔ لیکن میں حیران ضرور ہوا کہ ایک طرف وہ روسی اتاشی کے ساتھ تھی اور دوسری طرف وہ پروفیومو کی محبت کا دم بھرتی نظر آئی۔ ایسے میں وارڈ کا کردار ایک ڈبل ایجنٹ کا نظر آتا ہے۔

وارڈ کو یہ احساس ہوگیا کہ سرد جنگ کے عروج کے زمانہ میں آئیونوف۔ کیلر۔ پروفیومو کی مثلث ایک خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے اور یہ اگر غلط ہاتھوں میں چلا گیا تو بہت بڑی خرابی ہو گی۔ کیلر کے آئیونوف کے ساتھ رات گزارنے کے چند دن بعد وارڈ نے ایم آئی فائیو کے ایک نمائندے کیتھ ویگٹافی سے کی جو کہ آیؤنوف اور وارڈ کی دوستی کو مانیٹر کر رہا تھا۔ آہیونوف کی وارڈ سے ملاقات بھی ڈیلی ٹیلیگراف کے مینیجنگ ڈائریکٹر کولن کوئیٹے نے کروائی جس کا ایم آئی فائیو کے ساتھ بہت عرصہ سے رابطہ تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *