جام کا کمال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں کراچی کے فائیو اسٹار ہوٹل میں بلوچستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا گو کہ تقریب کا انتظام قابل تعریف تھا مگر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی تقریر نے ذہن میں کئی سوالات چھوڑ دیے۔

موصوف اپنی تقریر میں فرماتے ہیں کہ کراچی میں لوگ تفریح کے لئے ساحل سمندر کا رخ کرتے ہیں اور محض چند گھنٹوں کی تفریح کے لئے کئی ہزار خرچ کرلیتے ہیں میں اسے تفریح نہیں مانتا۔

چلو ٹھیک ہے ہم آپ کی بات مان لیتے ہیں مگر کیا بلوچستان کے خوبصورت ساحل جو کہ قدرت کی دین ہیں وہاں سیاحت کے فروغ کے لئے حکومت ہوٹلزتو کیا جہاں آپ کے بقول تفریح کے نام پر صرف پیسے خرچ کیے جاتے ہیں حکومتی سطح پر کوئی ڈھابا بھی موجودنہیں۔

بلوچستان میں جس کے سیاحتی مقامات 99 فیصد قدرت اور شاید ایک فیصد انگریز سرکار کی دین ہے جس میں کہ یہاں کا ریلوے کا نظام اور زیارت ریزیڈنسی شامل ہے آپ کا کمال نہیں۔

چلیں ہم پورے بلوچستان کو ایک طرف کرتے ہیں گوادر کو بھی جس میں ایک اکلوتا ہوٹل ہے اور وہاں تک رسائی عام عوام کے لئے ایک مشکل ترین مرحلہ ہے اب گڈانی کا ذکر کرتے ہیں جہاں سے نہ صرف آپ کی تین نسلیں وزیر اعلیٰ کی کرسیوں پر براجمان رہی ہیں اس کے ساتھ ہی ساتھ آپ وہاں سے وفاقی وزیر اور کابینہ کے ایک اہم رکن بھی رہ چکے ہیں۔

کیا وہاں کسی قسم کی سیاحتی سہولت موجود ہے جسے ہم سہولت کہہ سکیں؟

پھر سے یاد رہے کہ بلوچستان کی خوبصورت ساحلی پٹی جو کہ دنیا کے حسین ترین مقامات میں سے ایک ہے صرف اللہ کی دین اس میں آپ کا کوئی کمال نہیں۔

بلوچستان کے وہ سیاحتی مقامات کہ جس کا اس تقریب میں ذکر کیا جارہا تھا موجودہ یا سابقہ حکومتیں ایک لیٹرین کی بھی سہولت مہیا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

البتہ سرمایہ کاری کے نام پر وہاں کے عوام اور ماحول کا استحصال کیا گیا ہے گڈانی شپ بریکنگ یارڈجہاں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام موجود نہیں یا پھر کوئلے سے چلنے والے وہ پاور پلانٹ جس کی نہ صرف پوری دنیا مخالفت کرتی ہے ماحول کے لئے انتہائی خطرناک ہے لیکن آپ نے اس کی بھرپور حمایت کی، سیمینار کا انعقاد آگاہی کے لئے خوش آئند اقدام ہے اور سیاحتی فروغ کی تشہیر سے مقامی لوگوں کو معاشی و سماجی فوائد حاصل ہوتے ہیں مگر جب تک حکومت اس کے لئے حقیقی اقدامات نہیں اٹھائے گی تو یہ کچھ یوں ہے کہ نشتن گفتن برخاستن۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply