میں وہی بکی ہوئی لٹی ہوئی سندھی بیگم ہوں


ہوا یہ کہ میرے گھر والوں نے آفتاب کے خاندان والوں کو صاف منع کردیا یہ تو ممکن ہی نہ تھا کہ میری شادی آفتاب سے ہوتی ہم دونوں سندھی ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے کوسوں دور تھے۔ صدیوں کا فاصلہ تھا ہمارے درمیان۔ ایک دھرتی کا اگا ہوا کھاسکتے تھے ایک دریا کے پانی سے پیاس بجھا سکتے تھے ایک سورج کے دھوپ میں نہاسکتے تھے ایک چاند کو دیکھ کر گا سکتے تھے مسکراسکتے تھے لیکن ایک گھر میں رہ نہیں سکتے تھے۔ ہماری شادی نہیں ہوسکتی تھی کبھی بھی نہیں، کوئی اوررستہ نہیں تھا میرے سامنے اور میں نے وہ فیصلہ کرلیا جو شاید مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا۔

میں آفتاب کے ساتھ بھاگ کر سکھر آئی، سکھر سے چھپ کر نوابشاہ پہنچی اور نوابشاہ پہنچتے ہی سارے اخباروں میں خبریں آگئیں کہ میرے بھائی اور میرے گھر کے لوگ شکاری کتوں کی طرح آفتاب کو تلاش کررہے ہیں جس نے ان کی بہن اغوا کرلی ہے۔ اب تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ خبریں جان بوجھ کرآفتاب نے ہی اخباروں میں چھپوائی ہوں گی۔ شاید یہ سب کچھ پلان کا ہی حصہ ہوگا۔ کچھ دنوں کے بعدہم دونوں رات کی تاریکی میں ٹرین سے پنڈی کی طرف نکلے مگر ملتان میں ٹرین چھوڑ کر بس کے ذریعے اسلام آباد پہنچ گئے تھے۔

اسلام آباد میں ہم دونوں سویڈش ایمبیسی گئے جہاں آفتاب کا ایک دوست سندھ کے سارے اخباروں میں چھپنے والی خبروں کی کٹنگ لے کر پہنچا ہوا تھا۔ کیس بہت سیدھا تھا میں ایک لڑکی آفتاب ایک لڑکا دونوں ایک دوسرے کو جانتے تھے اور اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کرکے ہنسی خوشی رہنا چاہتے تھے۔ ہم نے خاندان کی روایات کو توڑا تھا۔ ہزاروں سال پرانے تمدن کی دھجیاں اڑائی تھیں۔ ہمارے خاندانوں میں لڑکیوں کی شادی کی جاتی ہے وہ خود شادی نہیں رچاتی ہیں۔ اب ہم لوگوں کا قتل ہونا ضروری تھا۔ ہم دونوں کاری ہونے والے تھے اور ہماری جانوں کوشدید خطرہ تھا۔ اس بنیاد پر ہم دونوں کو سویڈن آنے کی اجازت مل گئی۔ اسلام آباد میں ہی اس دن خاموشی سے ہم دونوں کا نکاح ہوا اوراسی رات سوئس ایئر کے جہاز سے ہم دونوں سویڈن آگئے تھے۔

یہ کہہ کر وہ پھر خاموش ہوگئی۔ بڑی زہریلی سی مسکراہٹ تھی اس کی آنکھوں میں، تھوڑی دیر رُک کر وہ دھیرے سے بولی تھی۔ سویڈن میں سب کچھ ہوگیا۔ ہم دونوں کو گھر مل گیا، شروع میں وظیفہ ملا، پھر کام کی اجازت ملی اور پھر نوکری بھی مل گئی۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی ہے۔ جب ہم دونوں کو سویڈن کی شہریت مل گئی، سفر کے کاغذات مل گئے تو کچھ عرصے کے بعد آفتاب مجھے طلاق دے کر انگلینڈ چلا گیا۔ اسے اب مجھ سے محبت نہیں رہی تھی، اس کے مطابق میں اس قابل نہیں تھی کہ زندگی اس کے ساتھ گزاروں، اس نے ہمیشہ انگلینڈ کے خواب دیکھے تھے میں سویڈن میں رہنا چاہتی تھی۔

میرا خیال ہے یہ تو محض بہانہ تھا مجھے تو لگتا ہے کہ اس نے یہی پلان بنایا تھا اوراس پلان کے مطابق مجھ سے مل کر اس نے محض اپنے مقصد کے لئے مجھے استعمال کیا۔ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ آج تک میں پریشان ہوتی رہتی ہوں۔ نہ جانے کیوں اس نے ایسا کیا۔ اسے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں نے تو اس سے محبت کی تھی۔ وہ میرا محبوب تھا اسے چاہا تھا میں نے۔ جان دے دیتی میں اس کے لئے۔ اس نے بھی یہی کہا تھا مجھ سے لیکن نہ جانے کیوں کیسے بدل گیا وہ۔ وہ یہاں آکر بدل گیا یا وہ ہمیشہ سے ہی ایسا تھا اس کا اندازہ نہیں ہے مجھے۔

سویڈن میری ماں کی طرح ہے جیسی بھی ہوں قابل قبول گھر سے بھاگی ہوئی، عاشق کی ٹھکرائی ہوئی لیکن گلے لگالیا ہے مجھے اس نے۔ آفتاب نے کیوں محبت کی تھی مجھ سے۔ کیوں خواب دکھائے تھے مجھے، کیوں وعدہ کیا تھا کہ ایک گھر ہوگا ہم دونوں کا۔ کیوں شادی کی تھی، کیوں طلاق دی۔ صرف استعمال کیا مجھے۔ آجتک نہیں سمجھ سکی ہوں۔ شاید ہمارے مرد ایسے ہی ہوتے ہوں گے۔ ایسا ہی کرتے ہوں گے اپنے مقصد کے حصول کے لئے۔ ان کے لئے رشتہ کچھ نہیں ہوتا، زبان کچھ نہیں ہوتی، محبت، اصول، پیمان صرف الفاظ ہوتے ہیں۔ میں سوچتی رہتی ہوں اور پریشان ہوتی رہتی ہوں۔ شاید شاہ لطیف نے میرے بارے میں ہی کہا تھا کہ مجھے لڑکی بنایا تو سمجھ کیوں دیدی ہے دکھ اٹھانے کے لئے۔ ٭

اس کی آنکھیں چھلک گئی تھیں۔ وہ خاموش ہوگئی پھر بڑے درد سے عجیب سے لہجے میں اس نے پوچھا تھا کہ تم سندھی بیگم کو نہیں جانتی ہو، وہ پریوں کی طرح خوبصورت تھی، لانبی اس کی گردن جیسے ایران کی کوئی منقش صراحی اورآنکھیں جیسے کسی سہمی سہمی غزال کی بھری بھری بڑی آنکھیں اور چہرہ ایسا کہ بار بار دل دیکھنے کو تڑپے۔ میں اسی سندھی بیگم کی بیٹی ہوں، بہن ہوں، ماں ہوں۔ میرے باپ، میرے بھائی، میرے چچا، میرے سردار، میرے سائیں، ٹھٹھہ کے حکمران سندھ کے والی مرزا باقی ٭نے بکھر کے حکمران سلطان محمود کی طرح سالوں پہلے اپنی بیٹی زمین جائیداد، پگڑی، مونچھیں بچانے کے لئے شہنشاہ اکبر کے حوالے کردیا تھا۔ شہنشاہ اکبر نے اسے ایک رات کے لئے اپنے حرم میں رکھ کر فارغ کردیا جیسے آفتاب نے مجھے فارغ کردیا ہے۔ کچھ بھی نہیں بدلا ہے، ہمارے سندھ میں پہلے بھی وہاں کے مرد دھرتی اور بیٹی بیچتے تھے، اب بھی بیچتے ہیں۔ میں وہی بکی ہوئی لٹی ہوئی سندھی بیگم ہوں، ٹھٹہ کے مالک مرزا باقی کی بیٹی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

One thought on “میں وہی بکی ہوئی لٹی ہوئی سندھی بیگم ہوں

  • 04/02/2020 at 1:03 شام
    Permalink

    Ajeeb aor hairat angez. bilkul galat aor atkal se milai hui mumasilat. Lala Rukh ki zindagi ka Sindhi Begum kis tarah taluq banaya jasakta hy? Dr Sb! Mujhey aap se ye umeed nahi thi. 180 degree ka farq hy dono me. Sindhi Begum Ko baap ne becha that. Yahan Lala Rukh Mohabbat me Bik gayi.Usey uss ke azaad fesley ne bikwa diya. us ne Itna bara faisal lene se pehley Aftab ko kitna jana tha? wo uss ke background ko kitna janti thi? uss ne kis dost ya barey (maa baap k ilawa) se koi mashwara kiya tha? kuch nahi. Uss k haal ka zimedaar us ka jhoota piyaar aor shohar tha. jiss kam nasal bandey ko azaadi milny k baad koi ma’ashra nahi rok saka. Sweden jessi Jannat ne hi Afabtab ko ye faisal karney ka haq diya that k wo Lala Rukh k saath rahe ya nahi. iss par lala rukh ko apna mahasba karna chihiye. Yun apne backward muashiry ko gaali dene ki kia tuk banti he. mjhy smajh nahi aya.
    Dr Sb, maazrat se kahun ga…aap ne Sindhi Begum Ka Hawala sirf apni tehreer me wazan peda karney k liye lagaya he. warna iss kahani ka Sindhi Begum se koi taluq nahi.

Comments are closed.