ولایت پلٹ ڈاکٹر کی پراسرار موت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”جنوری 2018 میں ڈاکٹر ذوالفقار منگی کے نجی کلینک پر مسلح افراد نے حملہ کرکے انہیں، ان کی والدہ اور چھوٹے بھائی سمیت زخمی کر دیا تھا۔ ان کے مطابق وہ وڈیروں کی غلامی اور ان کے گھر جاکر علاج نہ کرنے پر ان کو اور ان کی بوڑھی والدہ اور بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اور بعد میں یہ معاملہ صلح پر حل ہوا۔ پھر دو سال کے عرصے کے بعد کچھ دن پہلے 30 جنوری 2020 میں ڈاکٹر کی لاش ان کے کمرے میں بستر پر پائی گئی۔ پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد ہی پتہ لگ سکتا تھا کہ ان کی موت کیسے ہوئی۔ لیکن ڈاکٹر کے گھر والوں نے پوسسٹ مارٹم کروانے کے لیے منع کر دیا ہے۔ “ ( نشان دہ معلومات مختلف اخبارات کی ویب سائیٹ سے لی گئی ہے غلطی کا اندیشہ ہو سکتا ہے ) ۔

میں قومی خدمت کا جذبہ پاکستان کی کم ہی قوموں کے افراد میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اپنی زندگی کی آسائشیں اپنی قوم کے لیے چھوڑ آئیں اور اپنی کامیابیاں قوم کے ساتھ بانٹے۔ سندھ کے ڈاکٹر ذوالفقار منگی ان چند کامیاب افراد میں تھے جو اپنی کامیابی اپنی قوم کے ساتھ بانٹنے آئے تھے۔ اس سے بڑھ کر وہ پاکستان کے گنے چنے نیوروسرجن ڈاکٹرز میں سے ایک تھے۔ ڈاکٹر ذوالفقار منگی جو انگلینڈ گلاسگو سے پڑھ کر آئے پھر کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی جاب کی اور ساتھ ہی ساؤتھ سٹی ہسپتال میں پریکٹسنگ ڈاکٹر بھی تھے۔

ان کے ایک ویڈیو کے مطابق جو انہوں نے لوکل نیوز ٹی وی کو 2018 میں واقعے کہ دن انٹرویو دیتے ہوئے کہا ت تھا کہ وہ کراچی میں 25 لاکھ کے تنخواہ چھوڑ کر وہ اپنے آبائی گاؤں میں آئے تھے تا کہ وہ وہاں غریبوں اورمسکینوں کا علاج کم پیسوں میں ممکن بنائیں اور اپنی قوم کے خدمت کریں۔ وہ اپنی آبائی گاؤں کی کلینک میں 10 لاکھ کا آپریشن 10 ہزار میں کرتے تھے۔ ان کی ویڈیو بیان کا جب میں نے مطالعہ کیا تو میں نے دیکھا وہ اپنا تعارف فخر سے کروا رہے تھے۔

لیکن جب انہوں نے اپنی فریاد بتائی تو وہ فریاد انتہائی دکھ اور درد سے سنائی کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ اور مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ ان کو اس بات کا بالکل دکھ نہیں کہ ان کی فریاد نہیں سنی جا رہی، کیوں نہیں سنی جا رہی، اس کی وجہ بھی انہوں نے سمجھائی کہ وہ اس لیے کہ اس کے پیچھے ایک سسٹم ہے اور وہ ہے فیوڈل ازم۔ اور ٖفیوڈل لارڈ جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔ اس سسٹم سے بالا کوئی قانون نہیں کیوں کہ وہ قانون اسمبلیوں میں بیٹھے وہ لارڈ ہی بناتے ہیں اور وہ ایسا قانون کیوں کر بنائیں جو ان کے بالا دستی کو چیلنج کرے۔

بے حسی کا عالم یوں تو پوری دنیا میں محسوس ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ کس کس کو دوش دیا جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے کامرس سیکریٹیری سے لے کر سندھ کے عوام تک سب بے حسی کا شکار ہیں۔ ٹرمپ کی ٹیم میں سیکریٹری کا انسانی جانوں کی تباہی کی صورتحال میں کہنا ہے کہ چین میں پھیلتا وائرس امریکا کی اکانومی کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

پھر اس کے ساتھ ہمارے ملک میں آئے روز نئی خبریں سننے کو ملتی ہیں بچوں کی زیادتی اور پھر ان کی پر اسرار موت۔ لوگوں کے رویے ایسی خبروں پر بے حس ملتے ہیں۔ نہ ہی نہ انصافی پر کوئی ملامت ہوتی ہے اور نہ ہی کہیں کوئی آواز ہے اٹھتی۔ ایسی بے حسی قوم کا علاج میرے نزدیک ایک ہی ہے کہ کیوں نہ کورونا وائرس سے فائدہ لیا جائے اور اس کورونا کو پاکستان میں خوش آمد ید کہا جائے۔ ایسی بے حسی زندگی سے بہتر تو ابدی موت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *