فلم روڈ ٹو پرڈیشن کا ریویو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شگاگو، امریکہ کا نام سنتے ہی کسی دور میں ذہن پہ اک دھندلا سا خاکہ جو ابھر کے سامنے آتا تھا وہ انڈر ورلڈ مافیا، کرائم، ڈرگز ڈیلنگ، قتل کے نئے سے نئے طریقے اور گینگ لارڈز کی چھوٹے اوروسیع پیمانے پہ نو گو ایریاز بنانے کے لئے جھڑپیں خصوصاً اٹالین اور آئرش گینگ کا ہوتا تھا۔ اٹالین۔ امریکن مافیا کا ذکر کیا جائے تو شگاگو کا بے تاج بادشاہ ڈان ال کپون تھا۔ جس نے بہت ہی کم عرصہ میں لرزہ خیز داستانیں رقم کر کے شگاگو پہ بھی کنٹرول حاصل کیا اور باقی شہروں اور ریاستوں میں اپنا سکہ جمانے کے لیے جب دستک دینا شروع کی تو ایف بی آئی کی لسٹ میں بھی ترقی پا کے وانٹڈ نمبر ون بن گیا۔

سنہ انیس سو تیس میں جب امریکہ اپنے وقت کے بد ترین معاشی حالات سے گزر رہا تھا تب بھی ریاست الینوائس میں آئرش امریکن گینگ کی کارروائیاں عروج پر تھیں۔ ڈان ال کپون باس آف آل باسز کے طورپہ کام کر رہا تھا۔ باقی گروپ یا تو ڈان ال کپون کے ساتھ مل گئے تھے یا پھر گریٹ ویلنٹائن ماسکر کے طرز پہ مارے جا رہے تھے۔ یہ فلم بھی اسی دوران ہوئے گینگ وار پہ مبنی ہے۔

”جب لوگ مجھ سے پوچھتے کہ مائیکل سلیوان اچھا آدمی تھا یا اس میں کچھ بھی اچھا نہیں تھا تو میں ہمیشہ ان کو یہ جواب دیتا تھا کہ وہ میرا باپ تھا“

باپ اور بیٹے کی کیمسٹری، فیملی سے محبت، سردی کے خنک جھکڑ، روئی کے گالوں جیسی برف باری، کافی کا مسلسل حلق میں انڈیلنا، ٹرنک کوٹ، وول کے اوور کوٹ، ہیٹ، مو سم بہار کی خوبصورت ہوائیں، برسات کی بارش، خزاں کا پت جھڑ، غرض یہ کے سب مو سموں کے رنگ، فلم کا بیک گراؤنڈ میوزک جس میں جاز کی مدھم دھنیں، اک جاندار سٹوری جو آپ کو انیس سو تیس میں واپس لے جائے گی اور اک سیکنڈ کے لئے بھی پلک چھپکنے نہیں دے گی۔

فلم کا نام ہے ”روڈ ٹو پرڈیشن“ جو کہ سنہ 2002 ء میں باکس آفس میں ریلیز ہوئی۔ فلموں کی سب سے بڑی ڈیٹا بیس ”آئی ایم ڈی بی“ پہ اس کی ریٹنگ تقریباً آٹھ ہے۔ اس کے ڈائریکٹر سام مینڈس ہیں جس کو ہم زیرو زیرو سیون (سکائی فال) دو ہزار بارہ کے ڈائریکٹر کے طور پہ جانتے ہیں۔ سام مینڈس نے دس سال پہلے دو ہزار دو میں روڈ ٹو پرڈیشن سے بھی بہت کامیابی سمیٹی تھی۔ مشہور اداکار ٹام ہانکس اس فلم میں ہٹ مین کے روپ میں مائیکل سلیوان کے نام سے اپنا کردار نبھا رہا ہے جبکہ ڈینئیل کریگ زیرو زیرو سیون والا مشہور ہیرو اور پال نیومین جیسا منجھا ہوا اداکار بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔

آئرش امریکن گینگ کے سربراہ جون رونی (پال نیو مین) نے اپنے جانشین بیٹے کونر رونی (ڈینئیل کریگ) اور اپنے سب سے قابل اعتماد ہٹ مین مائیکل سلیوان (ٹام ہانکس) کو فن میکگورن کے پاس بھیجا لیکن وہاں حالات گینگ کے کنٹرول سے نکل گئے اور اک دوسرے پہ حملہ کے نتیجے میں کچھ لوگ مارے گئے۔ مائیکل سلیوان کا بیٹا مائیکل سلیوان (جونیئر) جس کو اپنے باپ کے پیشہ سے متعلق تجسس رہتا تھا۔ اس نے یہ سب واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

مافیا کے اصول کے مطابق کہ کسی بھی کام میں کوئی گواہ نہ ہو۔ جو بھی کوئی عینی شاہد ہوتا اس کو بھی ساتھ ہی ختم کیا جاتا۔ اب بات تھی اپنے ہی سب سے خاص آدمی کے بیٹے کی لیکن کونر رونی اس بات پہ سمجھوتا نہیں کرنا چاہتا تھا۔

یہاں سے کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔ جب کونر رونی مائیکل سلیوان جونئیر کو قتل کرنا چاہتا وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتا لیکن اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی کیونکہ حملہ میں مائیکل سلیوان کی باقی سب فیملی ماری جاتی۔ مائیکل سلیوان اپنے بیٹے کے ساتھ شگاگو پہنچتا ہے جہاں وہ ڈان ال کپون سے مدد طلب کرتا لیکن شنوائی نہ ہونے کی وجہ سے خود ہی بدلہ لینے کی ٹھان لیتا۔

مائیکل سلیوان نے پھر کیسے اپنا بدلہ پورا کیا۔ پیسہ کے لئے کیسے بنک لوٹے۔ کس چالاکی کے ساتھ آئرش گینگ کو ٹارگٹ کیا اور کن لوگوں نے اس کی مدد کی۔ اس سب کے لیے ہمیں مائیکل سلیوان کے ساتھ اس سڑک پہ سفر کرنا پڑے گا جو پرڈیشن کی طرف جاتی ہے۔

اٹالین آئرش مافیا کو فالو کرنے والے دوستوں کے لئے اور خصوصاً ان دوستوں کے لئے جو آج کل دی آئرش مین، جوکر جیسی فلم کو پسند یا نا پسند کر رہے لازمی ریکومنڈ کی جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *