کچا کمرہ: بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گاؤں میں سبھی گھروں کے کمروں کی بناوٹ ایک سی ہوتی تھی۔ کمرے میں داخل ہوں تو سامنے دیوار پر چھت سے دو اڑھائی فٹ نیچے ’کنس‘ ہوتی تھی۔ پوری دیوار کی چوڑائی جتنی۔ نیچے آدمی کے سینے تک کی بلندی پر ’انگیٹھی‘ ہوتی تھی جس کی لمبائی پانچ فٹ ہوتی ہو گی۔ انگھیٹی کے دونوں اطراف طاقچے ہوتے تھے۔ کنس، انگیٹھی، طاقچے سب پہ برتن سجے رہتے تھے۔ برتن ٹھکانے بھی لگ جاتے اور کمرے کی سجاوٹ کا روایتی مقصد بھی پورا ہو جاتا۔

میں نے جس کمرے میں ہوش سنبھالا وہ کچھ الگ سا کمرہ تھا۔ شاید کچھ الٹا ہو گیا تھا۔ ہمارے کمرے کی کنس اور طاق سامنے والی دیوار کی بجائے دروازے والی دیوار پہ تھے۔ ہمارے دادا جی نے دو کمرے بنوائے تھے جن کا رخ ڈوبتے سورج کی طرف تھا۔ ابو اور تایا دونوں بھائیوں کے حصے میں ایک ایک کمرہ آیا تھا۔ چاردیواری ایک ہی تھی۔ رشتوں میں کچھ کٹھاس پڑی تو آنگن جدا ہو گئے۔ ابو نے پچھمی دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کروا دیا اور کمرے کی پشت چیر کر پورب کی سمت کھلنے والا نیا دروازہ گاڑ دیا۔

چاردیواری بھی کھڑی کر لی۔ دونوں بھائیوں کے گھر ایک دوسرے سے منہ پھیر کے کھڑے ہو گئے۔ جیسے دو بھائی کسی تلخی پہ منہ بسورے الگ سمتوں میں دیکھ رہے ہوں۔ گو ساتھ ساتھ تھے مگر رخ بدل گئے تھے۔ دونوں کمروں کی درمیانی دیوار سانجھی تھی۔ گویا بازو میں بازو ڈالے کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہوں۔ ایک ابھرتے سورج کی پھوٹتی کرنوں کو دامن میں نہ سمیٹ پاتا اور دوسرا ڈھلتے سورج کے رنگوں سے محروم رہتا۔

ایک در بند ہوا تھا تو دوسرا کھل گیا۔ اس بٹوارے میں ہمارے کمرے کی کنس اور طاق الٹے ہو گئے۔ ماں نے البتہ مٹی سے انگیٹھی ضرور بنا لی تھی تا کہ کمرے کی صورت کچھ بھلی لگے۔

کمرے میں داخل ہوں تو بائیں طرف دو پیٹیاں رنگدار پکی اینٹوں پہ رکھی رہتی تھیں۔ بڑی اور نئی پیٹی میں رضائیاں، دریاں، گدے، تکیے، بچھونے، بستر وغیرہ ہوتے تھے۔ چھوٹی پیٹی میں ابو کی کتابیں، مختلف ناموں کے پرانے ڈائجسٹ، فلمی میگزین، شعری مجموعے، نسیم حجازی کے ناول، کئی دہائیاں پرانے خطوط وغیرہ بند رہتے تھے۔ پیٹیوں پہ صندوق پڑے رہتے جن میں سب گھر والوں کے کپڑے رکھے جاتے۔ پیٹیوں اور صندوقوں پہ دیدہ زیب کپڑے بچھے رہتے جن پہ رنگ برنگے دھاگوں سے پھول بوٹے کڑھائی کیے ہوتے۔

انگیٹھی پہ بھی کپڑا لٹکا رہتا تھا جس پہ خوش رنگ پھول تھے جن کی شاخوں پہ دو طوطے بیٹھے تھے۔ وہ بھی ہاتھ سے ہی کاڑھے گئے تھے۔ کتنے ہی موسم بیتے مگر طوطوں کا وہ حسیں جوڑا اڑ کر کہیں نہیں گیا اور خزاں آتی یا جاڑے، پھول کبھی مرجھائے نہیں تھے۔ بہار کا ایک موسم تھا جو ہمارے کمرے میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر گیا تھا۔

انگیٹھی گھر کے قدرے چھوٹے اور دلکش برتنوں کا مسکن ہوتی تھی۔ پھوپھی مرحومہ کے ہاتھوں کے خریدے چینی کے خوبصورت کپ اور گلاس وہاں اوندھے پڑے رہتے اور پرچیں، کیتلی سیدھے ٹکے رہتے۔ جاذب نظر پلیٹیں دیوار سے ٹیک لگائے نخرے سے کھڑی رہتی تھیں۔ مجھے یاد ہے شیشے کا ایک پیارا سا برتن بھی وہیں ہوتا تھا جو لیموں نچوڑنے کے کام آتا تھا۔

کنس پر سٹیل پیتل کی پراتیں، ڈونگے، جگ، گاگریں، تھال اور کڑاہیاں سجی رہتی تھیں۔ بچوں کی پہنچ سے دور رکھنے والی چیزیں، درانتی، ساگ کاٹنے والا ’دات‘ اور روح افزا کی بوتل بھی کنس پہ رکھی جاتیں۔ کبھی کبھار ہم روح افزا کی بوتل پہ کمند ڈال لیتے اور دو چار گھونٹ گٹکا لیتے۔

کمرے میں چھت کے ’بالوں‘ اور شہتیریوں کے ساتھ دریچوں میں چڑیوں نے اپنے گھروندے بسائے ہوئے تھے۔ کنس پہ پڑی بڑی کڑاہی کی اوٹ میں بھی تنکے جوڑ کر بسیرا کرتیں۔ ان کی چوں چوں ہماری زندگی کا حصہ تھی۔ سرد راتوں میں جب ہم گرم لحافوں میں دبکے امی ابو سے کہانیاں سنا کرتے تو چڑیوں کی ہلکی ہلکی چوں چوں سنائی دے جاتی۔ جیسے سوئے سوئے کوئی سہانا خواب دیکھ کر چہک اٹھی ہوں۔

سال میں دو بار کچے گھروں میں لپائی کا موسم اترتا تھا۔ چکنی مٹی میں بھوسہ ملا کر گھانی تیار ہوتی۔ کمروں کی دیواروں اور فرش پہ نئی تہہ لیپ دی جاتی۔ نم فرش پہ تانبے کے ڈونگے کا پیندا رگڑ کر دلکشی بھری جاتی۔ ہم بچوں کو اوندھے لیٹ کر گال گیلی مٹی کے ٹھنڈے فرش پہ لگانا کتنا اچھا لگتا تھا۔ ٹھنڈک کا ایک احساس سارے من میں اتر جاتا تھا۔ مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو کتنی بھاتی تھی۔ دیر تک خوشبو کے دامن سے لپٹے رہنے کو جی چاہتا تھا۔

کمرے کی چھت کی لپائی رات کے وقت ہوتی تھی۔ بچوں کے لیے یہ ایک مزے کی سرگرمی ہوتی تھی۔ ہم بھی قطار کی شکل میں مٹی تھال، پراتوں میں بھر بھر پکڑاتے جاتے اور امی پانی کا چھڑکاؤ کر کے لپائی کرتی جاتیں۔ ہنسی مذاق، شرارتیں، لگاتار باتیں اور لپائی سب چلتا رہتا۔

اس کمرے سے ہماری کتنی ہی یادیں جڑی ہیں۔ کپاس کی چنائی ہوتی تو ’چونیاں‘ (چنائی کرنے والی خواتین) کپاس بھری گٹھڑیاں ہمارے کھیتوں سے سر پر اٹھا کر ہمارے گھر لاتیں۔ صحن میں بیٹھ کر کپاس سے گھاس، تنکے، گوکڑے الگ کرتیں۔ ہر عورت کی کپاس کے دو حصے کیے جاتے۔ ایک حصے کے مزید چار حصے ہوتے۔ اپنی مرضی کا ایک حصہ چنائی کی اجرت کے طور پہ اٹھا لیتی۔ کپاس کا ڈھیر لگ جاتا جسے ہم سب بچے مل کر ’لتاڑتے‘ تھے۔ کپاس اپنی جیب میں بھر کر کمرے میں پڑے سکول کے تھیلے میں چھپا آتے۔ پھر آنکھ بچا کر ہٹی پہ بیچ کر ٹافیاں مرنڈے کھا لیتے تھے۔ اس کمرے نے ہمیں کپاس چراتے بھی دیکھا، روح افزا کی بوتل سے کئی گھونٹ چڑھاتے بھی دیکھا، شہد چاٹتے اور ٹرنک سے مصری پتاشے کھسکاتے بھی دیکھا مگر خاموش رہا۔ اچھے دوست کی طرح بھید چھپائے رکھے۔

ہمارے بچپن میں شام کے بعد جگنووں کی ٹولیاں نکلتی تھیں۔ جگنو ہر سمت اڑتے پھرتے تھے۔ یوں لگتا جیسے آسماں کے سبھی تارے ہمارے گاؤں میں اتر آئے ہوں۔ اندھیری شاموں میں وہ کتنے سہانے لگتے تھے۔ ہم جگنو پکڑ کر جیب میں ڈال لیتے تھے اور کمرے میں جلتا دیا بجھا کر روشن جیب کو تکتے رہتے تھے۔ دل چاہتا تھا کہ بہت سارے جگنو پکڑ کر دامن بھر لیں مگر اڑتے جگنو آسانی سے ہمارے ہاتھ نہیں آتے تھے۔

سردی کی یخ بستہ راتوں میں ہم ابو سے مونگ پھلی اور ریوڑیاں لانے کی فرمائش کرتے۔ اپنا اپنا حصہ جیبوں یا کٹوریوں میں بھر کر ابو سے عاقل بادشاہ کی کہانی سنتے یا پہلیاں بوجھتے کہتے رہتے۔ یہ پہیلی کتنی اچھی لگتی تھی۔

ہری تھی من بھری تھی

نو لاکھ موتی جڑی تھی

لالہ جی کے باغ میں

دوشالا اوڑھے کھڑی تھی۔

صرف یہی پہیلی اردو میں تھی باقی سبھی پنجابی میں ہوتی تھیں۔

ان بجھارتوں پہ ہم سب بہن بھائی بہت ہنستے تھے۔ جاڑے میں گرم لحافوں کی گرماہٹ، مونگ پھلی ریوڑیوں کی مٹھاس، جن بھوتوں، پریوں، چڑی طوطوں کی کہانیوں کے مسحور کن تخیل، بہن بھائیوں کی شرارتیں، نوک جھونک اور قہقہے، والدین کی شفقت سب اس کمرے میں یکجا ہوتا تھا۔ کچے کمرے کی اس چھت تلے زندگی کتنی حسین ہوتی تھی۔

گرمیوں میں ہم آنگن میں بچھی چارپایوں پہ لیٹے تاروں سے کھیلا کرتے تھے۔ وہ نہ جانے کیا ہوتے تھے جو چلتے ہوئے ستاروں سے دکھائی دیتے تھے۔ ہم انہیں راکٹ کہتے تھے۔ بس انہی کو ڈھونڈتے اور گنتے رہنے میں کافی وقت بیت جاتا تھا۔ چاند پیڑوں کی اوٹ میں دھیرے دھیرے چلتا رہتا۔ ساتھ سڑک سے کوئی ٹریکٹر گزرتا تو ہیڈ لائٹس کی روشنی نیم کی شاخوں سے چھن کر گزرتی اور ہمارے کمرے پہ بیل بوٹے بنا دیتی۔ ٹریکٹر چلتا جاتا اور کمرے پہ بیل بوٹے بھاگنے لگتے۔ ٹریکٹر کے گزر جانے سے اسکرین پہ پھر اندھیرا چھا جاتا۔

گاؤں میں جب بجلی آئی تو کمرے کی چوکھٹ کے کنڈے سے لٹکتی لالٹین اتر گئی۔ طاقچے میں رکھے مٹی کے تیل سے جلنے والے دیے کی بھی ضرورت نہ رہی۔ اس کی لو ہمیشہ کے لیے بجھ گئی۔ بلب جلنے لگے۔ پیٹی پہ پڑے صندوق پہ ٹی وی چلنے لگا اور روزانہ شام کو ڈرامہ دیکھنے پڑوس سے خواتین اور بچے اکٹھے ہو جاتے۔

پھر نیا گھر بن گیا۔ کچی مٹی کی جگہ پختہ اینٹوں، سیمنٹ، ٹی آئرن اور سٹیل نے لے لی۔ مٹی کی سوندھی خوشبو بھی مر گئی۔ پھر شہر کے گھر میں ٹھکانا ہوا۔ اب کنکریٹ کی دیواروں میں بسیرا ہو گیا ہے۔ پرانا کمرہ اپنا گھر لگتا تھا۔ اپنا جہان تھا۔ اب تو کوئی بھی کمرہ اپنا سا نہیں لگتا۔

گویا اب اپنا کوئی بھی کمرہ نہ ہو۔ آسمان اپنی چھت ہے اور زمین فرش۔ میں گھر بدوش ایسے کمرے کی تلاش میں ہوں جس کی چھت میں چڑیوں کے گھونسلے ہوں اور ان کے بچوں کی چہچہاہٹ ہو۔ جس کے فرش پہ لیٹیں تو مٹی کی خوشبو روح میں اتر جائے۔ جس کے آس پاس سر شام جگنو منڈلاتے ہوں۔ جس کی دیواروں پہ نیم کے پیڑ سے چھنتی روشنی کے پھول بوٹے اگ آئیں۔ یوں جیون کے کچے کمرے میں ایک ننھے سے دیے کی مدھم سی روشنی پھیل جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 50 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *