عالمگیر سطح پر انسانی حقوق کا تحفظ اور نوول کرونا وائرس کے خلاف جاری جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال ہی میں، شنگھائی انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹڈیز نے ”چین میں نوول کرونا وائرس کے خلاف جنگ: پیشرفت اور اثرات“ کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی، جس میں نوول کرونا وائرس کے خلاف چین کی جدوجہد کی پیشرفت، وبائی صورتحال کے ممکنہ اثرات اور اس سے متعلقہ انسداد ی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وبائی صورتحال کی روک تھام کے لئے چینی حکومت نے ووہان شہر کو بند کیا جو ہنگامی صحت عامہ کا ایک بے مثال اقدام ہے، یہ ایک ذمہ دار طاقت کے طور پر چین کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ صوبہ ہوبے سے لوگوں کی بیرون ملک سمیت اندرون چین سفری سرگرمیوں کو سختی سے کنٹرول کرنا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے سلسلے میں ایک اہم اور موثر اقدام ہے۔ چینی حکومت کی جانب سے اختیار کیے جانے والے یہ اقدامات نہ صرف چینی باشندوں بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کو بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

چین کی معیشت پر وبا کے اثرات کے بارے میں، رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس وبا کے براہ راست اثرات سروس انڈسٹری، مینوفیکچرنگ اور تجارت کے تین بڑے شعبوں پر مرتب ہوں گے۔ لیکن چین کی معاشی لچک کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ طویل عرصے سے، دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کی حیثیت سے، چین میں کھپت کی بھر پور قوت، شہرکاری، فائیوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے نئے معاشی شعبوں کی ترقی، اس وبا سے متاثر نہیں ہوگی۔

وبائی صورتحال کی روک تھام اور کنٹرول کے سلسلے میں عالمی برادری کے کردار اور تعاون سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوول کرونا وائرس کے خلاف جنگ کے دوران، چین نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو کبھی فراموش نہیں کیا، اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ فعال طور پر تعاون کیا ہے اور اس وبا کی صورت حال کے حوالے سے واضح اور شفاف معلومات فراہم کی ہیں۔ چین مختلف ملکوں کی طرف سے وبائی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اپنائے جانے والے اقدامات کو سمجھتا ہے اور ان کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

عالمی بینک نے تین فروری کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پرنوول کرونا وائرس سے متاثرہ تمام لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ چین کے پاس اس وبائی مرض کا سامنا کرنے کے لئے اپنائی گئی پالیسیوں میں وسیع گنجائش موجود ہے اور معیشت میں لیکوئیڈٹی مہیا کرنے جیسے اقدامات سے اس وبا کے معاشی اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

نوول کرونا وائرس کے ممکنہ عالمی اثرات کے تناظر میں رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ عالمی برادری اس وباء سے متعلق معلومات کے تبادلے کے نظام میں بہتری لائے، تجربات کے تبادلے کو مستحکم بنائے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس وبا کو ممالک کے مابین تبادلے کی راہ میں ہرگز رکاوٹ نہیں بنایا جانا چاہیے بلکہ مختلف ملکوں کے عوام کے قریبی تعاون کے لئے اسے ایک عمل انگیز ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *