مسئلہ کشمیر یوں بھی تو حل ہو سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

5 فروری یوم یکجہتی کشمیر، راستوں پر کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی جیتی جاگتی تصاویر نظر آتی ہیں میڈیا پر وزیر اعظم کے کشمیریوں بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی اور بھارتی مظالم پر شدید تنقید کے بیانات جاری ہوتے ہیں۔ حکومتی وزراء اپنے اپنے محکموں پر کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا علم بلند کرتے ہوئے فوٹو سیشن اور اپنی اپنی کارکردگی کو مثالی بنانے کی کوششیں کرتے نظر آتے ہیں اور وزارت خارجہ بھی اپنے نپے تلے بیان جاری کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ بس اب کشمیر آزاد ہونے والا ہے۔

لوگوں کے ہاتھوں کی بنائی ہوئے زنجیر، پارلیمانی قراردادیں، اقوام متحدہ کے دفاتر میں یادداشتیں پیش کرنا اور بھارتی سفارت خانہ کے باہر مظاہرے، کچھ حکومتی اور نجی تقاریب، کچھ نئے نغمے اور کچھ غم اور اداسی کی باتوں میں یہ یوم یکجہتی گزر جاتا ہے اور پھر اگلے ہی دن دفتری امور، گھرداری اور حکومت داری میں کشمیروں کے زخم اور کشمیروں کی آزادی کے 72 سالوں کے خواب گم ہو جاتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کے حوالے سے خطاب جسے کشمیر کے آزادی کی پہلی کرن کہا جا رہا تھا اس کے بعد کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، کرفیو، لاک ڈاؤن، بربریت، سفاک رویوں پر ملکی چوراہوں پر نصب گھڑیال جو کشمیر میں ہونے والی ظلم و زیادتیوں اور لاک ڈاؤن کا گزرا ہوا وقت تو بتا رہے ہیں مگر حکومتی کارکردگی، شعلہ بیانی کشمیر کی آزادی کے خواب تو تبدیلی حکومت کے اقوام متحدہ میں ہی ظاہر ہو گئے تھے جب کشمیر پر قرارداد منظور کرانے کے لیے یہ چند ووٹ بھی حاصل نہ کر پائے۔

کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراداد کے رو سے کشمیریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے رائے کا اظہار کریں اور اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں کہ وہ کس ملک کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں مگر 72 سالوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگوں اور ہمیشہ سرد جنگ کے باوجود بھی کشمیروں کی مسلح جدوجہد، آزادی کے خواب سے بہت دور نظر آتی ہے۔ پاکستان کے سفارتی اور اخلاقی حمایت بڑھنے کے باوجود بھی کشمیروں پر بھارتی مظالم بڑھتے جا رہے ہیں، عزتیں نیلام ہو رہی ہیں، بیہمانہ تشدد بڑھتا جا رہا ہے، مسخ شدہ لاشوں کے لاپتہ قبرستان کی تلاش جاری ہے۔

ارندھتی رائے جیسے سینکڑوں بھارتی پروانوں کی آوازیں بلند ہونے کے باوجود بھی مودی کے اکھنڈ بھارت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ کیا پاکستان کے سفارتی، اخلاقی اور اسٹرٹیجک پلان میں کوئی کمی ہے یا پھر ان سرد جنگوں renaissance، انقلاب فرانس، یونیفیکیشنز اور مسلح جدوجہد کے طریقہ کار اب زائد المعیاد ہو گئے ہیں۔ اب تو نان کانٹیکٹ وار کا زمانہ ہے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے آپ کسی کو وار فیئر میں مشغول تو کر سکتے ہیں مگر جیتنے کے لیے کوئی اور طریقہ کار اپنانا پڑے گا۔

عرب اسپرنگ، مشرق وسطیٰ میں آنے والی تبدیلی بھی عارضی تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے کو فلسطین سمیت اقوام عالم رد کر رہا ہے فلسطین میں اسرائیل فوج پر پتھر برسانے والے بچے تک اب بوڑھے ہوگئے ہیں۔ کشمیریوں کی آزادی ان کا بنیادی حق ہے جو ان کو ملنا چاہیے مگر طریقہ کار تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے ہمیں اب ان کی جاں بخشی کی ضرورت ہے۔ ہم نے تو کچھ دن مقرر کیے ہوئے ہیں کشمیروں کے ساتھ یکجہتی دکھانے کے لیے۔

کیا ہم صرف کشمیر کے بینرز کے ساتھ اپنی سیلفی بنا کر، کشمیری جھنڈا اپنے سینوں پر سجا کر کشمیریوں کے اس دکھ درد اور کرب کو محسوس کر سکتے ہیں جس کا ان کو سامنا ہے؟ پاکستان کی قرارداد سندھ اسمبلی میں پیش کرنے والے سائیں جی ایم سید نے اپنی پوری زندگی سندھو دیش بنانے اور پاکستان سے علیحدگی کی جدوجہد کی مگر ان کے بیٹے سید امیر حیدر شاہ، امداد محمد شاہ نے سائیں جی ایم سید کی زندگی میں ہی پارلیمانی سیاست میں حصہ لیا اور ان کے پوتے جلال محمود شاہ اور گل محمد جاکھرانی اور ان کے دیگر پیروکاروں نے بھی پارلیمانی سیاست کا راستہ اختیار کیا۔

بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخواہ کے قوم پرست سیاستدان پاکستان کے نظریات اور مارشل لاؤں کی مخالفت کرنے والے، حیدر آباد بغاوت کیس کے اہم کرداروں نے بھی علیحدگی کی سیاست پر پارلیمانی سیاست کو ترجیح دی تاکہ وہ اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر سکیں۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزراء اعلیٰ محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ بھارتی پارلیمانی سیاست میں ہونے کے باوجود بھی کشمیریوں کی حمایت حاصل نہ کر سکے اور آخرکار وہ مودی حکومت کے کشمیر پالیسی کی شدید مذمت کرتے نظر آئے کیوں کہ ان کو معلوم تھا کہ وہ کشمیر کے وزراء اعلیٰ اور بھارتی سیاست کے اہم کردار ہونے کے باوجود بھی کشمیریوں کے دل و دماغ جیتنے میں ناکام ہیں اس لیے وہ کشمیر میں ظلم و ستم، زیادتیوں اور لاک ڈاؤن کے خلاف بولتے نظر آئے مگر اس کے باوجود بھی پارلیمانی سیاست کا راستہ ترک نہ کیا کیونکہ کہ وہ جانتے ہیں کہ پارلیمانی سیاست میں رہ کر ہی کشمیر اور کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اپنی سیاست کو زندہ رکھ پائیں گے۔

یہ واضح ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور اگر وہ پارلیمانی سیاست کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو وہ دن دور نہیں کہ وہ جلد سے جلد اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنے لگیں گے کیونکہ ان 72 سالوں کی جدوجہد میں کشمیریوں نے پانے سے زیادہ کھویا ہے یا تو ہماری پالیسی کا فقدان ہے یا پھر نیت میں ہی شاید کوئی فتور ہے کیونکہ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ ان نان اسٹیٹ ایکٹرز کو پالنے والے نہیں چاہتے کہ ان کی دکان بند ہو کیونکہ جب بھی مسئلہ کشمیر پر بات چیت ہوتی ہے اور کچھ قدم آگے بڑھتے ہیں تو یک دم کچھ نہ کچھ ایسا ناخوشگوار واقعہ وقوع پذیر ہو جاتا ہے کہ ہم اس معاملے کے حل سے میلوں دور چلے جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *