کالا دھن اور میر و غالب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت میں کالی یا نان ریگولیٹڈ معیشت کا حجم اکیس فیصد کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے۔ مگر یہ بھی عالمی بینک کا محض اندازہ ہے۔ پاکستان میں نان ریگولیٹڈ یعنی کالی معیشت کا حجم کیا ہے؟ اس کا آنکڑا ستر سے نوے فیصد حلال معیشت کے برابر بتایا جاتا ہے۔ مگر ٹھیک ٹھیک جانتا کوئی بھی نہیں۔ جیسے یہ کوئی نہیں جانتا کہ اس وقت پاکستان کی آبادی کتنی ہے؟ کسی زمانے میں کہا جاتا تھا کہ بھارت اور پاکستان میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ وہاں ریاست امیر ہے اور عوام غریب جب کہ پاکستان میں ریاست غریب عوام امیر۔ اب لگتا ہے کہ دونوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ وہاں دو فیصد قابلِ ذکر لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ یہاں ایک فیصد سے بھی کم لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔

بھارت میں  ہر حکومت اپنے دورِ اقتدار میں کم ازکم ایک بار ضرور کہتی ہے کہ وہ مغربی بینکوں میں پوشیدہ ارب ہا ڈالر کالا دھن واپس لائے گی۔ بلکہ مودی جی نے تو جوشِ خطابت میں یہ انتخابی وعدہ بھی کر لیا تھا کہ جب ہم کالا دھن دیش واپس لائیں گے تو ہر بھارتی ناگرک کی جیب میں پندرہ لاکھ روپے ہوں گے۔ مودی نے جنتا کا دل خوش کیا اور پھر جنتا نے مودی کا۔ مگر یہ عہد بھی محبوبہ سے کیے اس وعدے کی طرح تھا کہ ڈارلنگ میں تمہارے لیے چاند تارے توڑ لاؤں گا۔ اور اب بھارتی عوام کا وہی حال ہے جو ایسے خواب خریدنے والی محبوبہ کا شادی کے بعد ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی گزشتہ الیکشن سے پہلے چھوٹے میاں صاحب نے بڑھک لگائی تھی کہ سوئس بینکوں میں زرداری کا جو پیسہ جمع ہے ہم پیٹ پھاڑ کے نکال لیں گے۔ تب تک پانامہ عالمِ زر کی ایٹلس میں نظر نہیں آتا تھا۔ اب چھوٹے میاں صاحب کالا چھوڑ سفید دھن کی واپسی کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہتے۔

جب مودی کو اندازہ ہوا کہ کالا دھن پردیس میں ہو کہ بدیس میں۔ ڈان پر ہاتھ ڈالنے کی طرح مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ چنانچہ انھوں نے کچھ کر دکھانے کے بھرم میں کلیا اپنے ہی سر پر پھوڑ لی اور پانچ سو اور ہزار کے نوٹ منسوخ کر کے کمہار کے بجائے گدھے کے کان اینٹھ دیے۔ کہنے کو مودی جی بھارت کی سب سے زیادہ کاروباری ریاست گجرات سے ہیں۔

اتنے کامیاب کاروباری کہ ریلوے پلیٹ فارم پر چائے بیچنے والا بچہ ایک دن ترقی کرتے کرتے پردھان منتری ہو گیا۔ پھر بھی ایسی اداکاری کر رہا ہے گویا یہی معلوم نہ ہو کہ ایک چھوٹے سے کاروباری  کی سوچ بھی دگج ریاستی بابوؤں کی سوچ سے ہمیشہ کوسوں ہاتھ آگے رہتی ہے جیسے سیانا کوّا ہاتھ کی جنبش سے ہی سمجھ جاتا ہے کہ یہ خالی ہے یا اس میں غلیل ہے۔ سرمایہ اپنی عقل اور دوسرے کے خون پسینے سے جمع ہوتا ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو آج میں بھی ارب پتی نہ سہی کروڑ پتی تو ضرور ہوتا۔ نوٹوں کی شکل میں کالا دھن تو صرف چھ سات فیصد ہوتا ہے۔ نوے فیصد سے زائد دھن تو سونے، ریئل اسٹیٹ  اور آف شور اکاؤنٹس کی شکل میں ہے۔

پاکستانی حکومتیں زیادہ ’’سیانی‘‘ نکلیں۔ انھوں نے بہت پہلے ہی تاڑ لیا کہ عوام کو خوش کرنے کے لیے تو کالے دھن اور کالی معیشت کو ریاستی رٹ کے دائرے میں لانے کی بات بہت دلکش ہے مگر جس معیشت کو یہ مرض لاحق ہو جائے تو بلڈکینسر کی طرح پورا خون بدلنے کی عاجلانہ کوشش میں مریضِ معیشت مر بھی سکتا ہے۔ لہذا حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے اس بابت جتنی بھی معاشی حکمتِ عملیاں اپنائی گئیں ان میں پورا اہتمام رکھا گیا کہ ٹیکسوں کا جال ایسے بچھایا جاوے کہ اکا دکا چھوٹی مچھلیاں تو پھنستی رہیں پر از قسمِ وہیل اور شارک جال کے آر پار آسانی سے آ جا سکیں اور جی چاہے تو جال بھی لے جائیں۔ چنانچہ پاکستان میں اب تک غیر رجسٹرڈ معیشت کو رجسٹر کرنے کی جتنی بھی کوششیں ہوئیں حسبِ توقع ناکام ثابت ہوئیں۔

گزشتہ برس چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے غیر اعلانیہ آمدنی کو نصف فیصد سے بھی کم ٹیکس  کے ذریعے حلال کرنے کی پیشکش اس وہم کے ساتھ کی گئی کہ کم از کم ایک ملین چھوٹے تاجر تو دوڑے دوڑے آئیں گے اور کالی آمدنی سفید کر لیں گے۔ مگر دس لاکھ کے ہدف میں سے صرف پچیس ہزار کے لگ بھگ چھوٹے تاجر ہی اس اسکیم کے تحت رجسٹر ہو پائے۔ اب تو مارے شرمندگی  حکومت یہ بھی نہیں بتاتی کہ اس ٹیکس اسکیم کا تازہ حال کیا ہے۔ مگر حکومتوں کی اچھی بات یہ ہے کہ مایوس نہیں ہوتیں۔ چنانچہ ٹیکس قوانین  میں تازہ ترین یہ ترمیم لائی گئی ہے کہ آپ کی جائداد بھلے جتنی بھی ہو بس اس جائداد کی ویلیو کی سرکاری اسیسمینٹ کے بعد اس ویلیو کی  تین فیصد رقم ٹیکس والوں کو دے کر باقی غیر اعلانیہ (نان ڈکلئیرڈ) ستانوے روپے سفید کروا لیں (ایک قہقہہ بر سادگی ریاست)۔

میرؔ صاحب دو سو برس پہلے ہی اس طرح کی ٹیکس معافی اسکیموں کے بارے میں کہہ گئے تھے۔

میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لمڈے سے دوا لیتے ہیں

بات بظاہر کیسی سادہ سی ہے کہ دوسرے کو گڑ کھانے سے منع کرنا ہو تو پہلے خود گڑ کھانا چھوڑو تاکہ بات میں تاثیر کی مٹھاس آ سکے۔ جس ریاست میں اربوں روپے کے بینک قرضے ایک دستخط سے رائٹ آف ہو جائیں، جہاں فروغِ تعلیم کا جھانسہ دے کر کھربوں روپے اقرا ٹیکس کی مد میں نکال لیے جائیں اور ناخواندگی کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جائے۔ جہاں قرض اتارو ملک سنوارو اسکیم کے بارے میں آج تک یہی معلوم نہ ہو کہ کتنے پیسے جمع ہوئے اور کتنا قرض اترا اور اچانک اس اسکیم کی وفات کے اٹھارہ برس میں پتہ چلے کہ قرضہ تو اس عرصے میں تین گنا اور بڑھ گیا اور عملاً یہ اسکیم قرض سنوارو ملک اتارو میں تبدیل ہو گئی۔

یہاں تقسیمِ دولت تو خیر کیا ہو گی۔ارتکازِ دولت کی صورت یہ ہے کہ سن ستر کے(جب کہ مشرقی پاکستان بھی وفاق کا حصہ تھا) پاکستان میں امیر ترین خاندانوں کی تعداد بائیس بتائی جاتی تھی۔ بھٹو صاحب نے ان بائیس خاندانوں کی کمر توڑنے کے وعدے پر الیکشن جیتا۔ آج چھیالیس برس بعد بائیس خاندان تو بڑھتے بڑھتے ڈیڑھ سو کا ہندسہ پار کر چکے اور کمر عام آدمی کی ٹوٹ گئی۔ اس بارے میں بھی میرؔ صاحب دو سو برس پہلے ہی کہہ گئے تھے

امیر زادوںسے دلی کے مت ملا کر میرؔ
کہ ہم غریب ہوئے ہیں انھی کی دولت سے

پاکستان کو ستر برس میں قرضے ہی نہیں ملے گرانٹ بھی ملی۔ میں یورپی یونین، جاپان اور خلیجی ممالک کی بات نہیں کر رہا۔ اس عرصے میں صرف امریکا سے ملنے والی گرانٹ کا اندازہ کم از کم پچیس ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ میری جیب تک تو ان میں سے ایک پھوٹا ڈالر تک نہیں آیا۔ چلیے نہ آیا کوئی بات نہیں۔ لیکن اگر اس میں سے آدھی چھوڑ ایک چوتھائی گرانٹ بھی اسکول اور اسپتال پر لگ جاتی تو آج میرے گھر کام کرنے والی ماسی کا بیٹا بھی ماں کے ساتھ فرش پر ٹاکی لگانے کے بجائے پڑھ لکھ کر کسی اسپتال میں ڈاکٹر لگا ہوتا اور ماسی اپنے گلے کے کینسر کا علاج دس روپے کی پینا ڈول سے کرتے ہوئے یہ نہ کہہ رہی ہوتی کہ بارہ سو روپے کا ایکسرے بھی کرا لیا پر صاحب جی آرام نہیں آ رہا۔

جہاں پارلیمنٹ میں پچاس فیصد ارکان ایسے ہوں جنہوں نے ڈھائی برس میں کھڑے ہو کر ایک سوال بھی نہ پوچھا ہو اور ان کا ہاتھ صرف یس سر کہہ کے کوئی بھی بل بنا پڑھے منظور کرنے یا پھر ڈیسک بجانے کے لیے ہی بنا ہو اور اس مشقت کے عوض اپنی مشاہروں میں خود ہی ڈیڑھ سو فیصد کا اضافہ کر لیا ہو۔ چلیے یہ بھی برداشت ہو گیا۔ مگر ان میں سے کتنے ارکانِ پارلیمان و اسمبلی ہیں جو املا کی اعداد و شمار کی الٹ پھیر سے آلودہ چمتکاری کاغذوں کے پیچھے چھپنے کے بجائے سچائی کے ساتھ اپنے منہ سے یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہوں کہ ہماری املاک اتنی ہیں اور ان کی مارکیٹ ویلیو اتنی بنتی ہے۔ اس مارکیٹ ویلیو کے حساب سے ہمارا ٹیکس اتنا بنتا ہے۔ آؤ ہم سے پچھلے برس کی نسبت دس فیصد زیادہ ٹیکس لے لو۔ ہم ٹیکس دیں گے تو ووٹر کا ہاتھ پکڑ کر بھی کہہ پائیں گے کہ ہمارے لیے نہیں تو دھرتی کے مستقبل کے لیے ہی ایمانداری سے ٹیکس دے دو۔ مگر وہ سپنے ہی کیا جو پورے ہو جائیں۔

تھا خواب میں خیال کو دل سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی تو زیاں تھا نہ سود تھا (غالبؔ)

اور پھر یہ ختم کریں گے اس ملک سے کالے دھن کو۔ یہ توڑیں گے عالمی ساہو کاروں کا کشکول، یہ ڈکٹیشن نہیں لیں گے امیر ممالک سے، یہ اپنے ٹیکس گوشواروں میں دکھائیں گے تمام ملکی و غیر ملکی املاک، اپنی بھی اور اپنے بچوں کی بھی، یہ بنیں گے دیوار ہر ماورائے آئین سازش کے آگے، یہ قائم کریں گے سویلین بالا دستی والی جمہوریت اور بنیں گے گیم چینجر۔ یہ پرائے کندھے پر شکرا پالنے والے…

دھن سے پہلے کرتوت سفید ہو جائیں تو ہم سب ہی دھنی نہ ہو جائیں۔

(بشکریہ ایکسپریس نیوز)
Dec 3, 2016 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *