سکولوں میں تاریخ نہ پڑھائی جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں عامۃ الناس کی سطح پر حقیقی اور خیالی دشمنوں کے خلاف ذہنوں میں نفرت کا جو لاوا پک رہا ہے اس کا بڑا سبب سکولوں میں پڑھایا جانے والا تاریخ کا نصاب ہے۔ پاکستان کے نصاب میں پائے جانے والے نفرت انگیز مواد کی طرف متعدد صاحبان علم وقتاً فوقتاً توجہ دلاتے رہے ہیں۔ میں اس وقت بھارت کے نصابات تاریخ پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مراد کسی قسم کی عذر خواہی نہیں، نہ کوئی دفاع مقصود ہے بلکہ ایک حقیقی مسئلے کی طرف توجہ دلانا مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ میں کوئی محقق نہیں ہوں نہ یہ تحریر کسی قسم کی تحقیق پر مبنی ہے۔ یہ بس آوارہ خوانی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی اتفاقی معلومات سے چند نتائج اخذ کرنے کی سعی ہے۔ خدا بھلا کرے ریختہ ڈاٹ کام والوں کا کہ انھوں نے اردو کی کتنی ہی کتابوں اور رسائل کا ذخیرہ آن لائن فراہم کر دیا ہے جس سے مجھ جیسے تن آسان گھر بیٹھے ہی استفادہ کر سکتے ہیں۔

ریختہ کی مہربانی سے خدا بخش لائبریری جرنل، پٹنہ، کا 1994 میں شایع ہونے والا شمارہ نمبر 98 میرے سامنے ہے۔ خدا بخش لائبریری میں مارچ 1988 میں تاریخ ہند (عہد وسطیٰ) کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد ہوا۔ یہ شمارہ اس سیمینار میں پڑھے جانے والے مضامین پر مشتمل ہے۔ اس کا عنوان ہے: تاریخ کے ساتھ کھلواڑ: درسی کتابوں میں زہریلا مواد۔ تیس کے قریب مقالہ نگاروں میں صرف دو غیر مسلم ہیں، باقی سب مسلمان ہیں جو سیکولر نیشنلسٹ دکھائی دیتے ہیں۔

ان مضامین میں دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، بہار، راجستھان، گجرات، مہاراشٹر کے پرائمری اور سیکنڈری سکولوں میں تاریخ اور شہریت کی کتابوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کتابوں میں بہت سا ایسا مواد شامل ہے جو قومی یک جہتی کی نفی کرنے والا اور فرقہ وارانہ جذبات کو انگیخت کرنے والا ہے۔ ریاست مہاراشٹر میں مروجہ تاریخ کی درسی کتابیں سب سے زیادہ فرقہ وارانہ رنگ لیے ہوئے ہیں

اس رسالے کے مشمولات کا جائزہ لینے سے پیش تر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ پس منظر بھی بیان کر دیا جائے۔ آزادی ملنے اور بھارت اور پاکستان کےنام سے دو ملکوں کے معرض وجود میں آنے سے پہلے کی کئی دہائیاں فرقہ واریت سے مسموم ہو چکی تھیں۔ مسلم لیگ کو تو خیر فرقہ وارانہ جماعت کہا ہی جاتا تھا لیکن کانگرس کے چہرے پر بھی واحد قومیت کے نظریے کا مہین سا نقاب تھا کہ صاف نظر آتا تھا ادھر سے ادھر کا پہلو۔ مجھے پنڈت جواہر لال نہرو کے پکے اور سچے سیکولر ہونے میں کوئی شبہ نہیں لیکن محض کسی ایک لیڈر کے آدرش اور نیک نیتی سے تلخ اور سنگین زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ اس ضمن میں پروفیسر آل احمد سرور صاحب کا یہ مشاہدہ بہت اہم ہے۔

خواجہ غلام السیدین کی یاد میں منعقد ہونے والے سیدین لیکچر میں ان کا فرمانا تھا: “مجھے یاد پڑتا ہے 15 اگست 1947 کی رات کو جب میں لکھنئو کی سڑکوں پر آزادی کا جشن دیکھ رہا تھا تو میرےکانوں میں دو علیحدہ نعرے گونج رہے تھے۔ ایک جواہر لال نہرو کا کہ دو سو سال کی غلامی کے بعد آزاد ہو رہے ہیں۔ دوسرا پنڈت گووند ولبھ پنت کا کہ ہم ایک ہزار سال کی غلامی کے بعد آزاد ہوئے ہیں۔ حکومت جواہر لال نہرو کی تھی مگر بات پنت کی مقبول تھی۔”

نہرو اور گووند ولبھ پنت

پنڈت پنت کی بات کی مقبولیت کا نتیجہ تھا کہ 1947 کے بعد سکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں کو فرقہ واریت سے پاک نہ کیا جا سکا۔ چنانچہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ڈاکٹر نور جہاں صدیقی آزادی ملنے کے بعد سکول کی تاریخ کی کتابوں میں فرقہ وارانہ انداز کو فروغ دینے کا ذکر کرتے ہوئے 1992 میں کہتی ہیں “تاریخ کی کتابوں کا یہ میٹھا زہر پچھلے پینتالیس برس سے کارفرما ہے۔”

بھارت میں بہت سے کمشن بنے اور انھوں نے اپنی رپورٹیں پیش کیں۔ ان میں سیکولر سوچ رکھنے والے ہندووں نے تاریخ کی کتابوں میں پڑھائے جانے والے مواد پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پروفیسر اکبر رحمانی نے اپنے مضمون ‘قومی یک جہتی کے نقطہء نظر سے ابتدائی اور ثانوی جماعتوں کی تاریخ کی کتابوں کا تنقیدی جائزہ’ میں ان رپورٹوں کا حوالہ دیا ہے۔

اسی کی دہائی میں یو پی میں قائم کردہ اقلیتی کمشن کے جائنٹ سیکریٹری سری این سی سکسینہ نے سکولوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ کی کتابوں کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ میں لکھا تھا:

“کیا ہماری حکومت ایسی کتابیں پڑھا کر نوجوانوں کے ذہن کو مسموم کرنےکی عظیم غلطی نہیں کر رہی۔ اگر ہندو یہ پڑھ کر جوان ہوں کہ ایک ہزار برس تک مسلمانوں کی حکومت بربریت اور ظلم سے بھری رہی تو کیا ان کے دماغ میں انتقام لینے کا جذبہ پیدا نہ ہو گا اور ان کو یہ احساس نہ ہو گا کہ ماضی میں ان کی زندگی شرمناکی اور ذلت سے بھری رہی۔اس جذبے اور احساس کو پیدا کرنے کی ذمہ داری کس پر ہو گی؟ کسی پر نہیں بلکہ خود ہم پر ہو گی کہ ہم نے اپنے ملک میں فرقہ واریت کو پنپنے دیا۔”

سن 1987 میں گوا میں منعقد ہونے والے انڈین ہسٹری کانگرس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وہاں کے گورنر ڈاکٹر گوپال سنگھ نے کہا تھا: آج ملک میں جو فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جاتی ہے اس کی ذمہ داری تاریخ کی ان کتابوں پر ہے جو سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ تاریخی کتابیں تاریخ کے نام پر نفرت پھیلا رہی ہیں۔

30  جنوری 1984 کو نصابی کتابوں سے متعلق ساتویں سالانہ کانفرنس پونا میں منعقد ہوئی جس میں دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مونس رضا نے اپنے کلیدی خطبہ میں سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن دہلی کی شائع کردہ تاریخ کی درسی کتابوں میں پائے جانے والے مخالف قومی یک جہتی مواد کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ایک کتاب میں عنوان تھا: مسلمانوں کے حملے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا: اسے تاریخ نہیں کہا جا سکتا، اس قسم کی تاریخ نویسی قومی یک جہتی کے لیے بے حد خطرناک ہے۔ اس سے ہندو طلبہ کے دلوں میں نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور وہ اپنے ہم جماعت مسلم طلبہ کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں کہ ارے یہ تو حملہ آوروں کی اولاد ہیں جنھوں نے عورتوں کی عزتیں لوٹیں اورطرح طرح کے ظلم کیے۔ اور جب کہیں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑتا ہے اور مسلمان مارے جاتے ہیں تو آپ جانتے ہیں اس قسم کی تاریخ پڑھنے والے ہندو ایسے واقعات کے بارے میں یہی سوچتے ہیں، اچھا ہوا جوکچھ انھوں نے (ہندووں کے ساتھ) کیا تھا اس کا کچھ بدلہ تو ملا۔

رام پور کے پروفیسر اوم پرکاش گپتا نے مضمون ‘یو پی کی سیکنڈری کلاسوں کے نصاب میں ہندوستان کے عہد وسطیٰ پر تاریخی کتابیں’ میں یو پی میں ساتویں جماعت میں پڑھائی جانے والی پروفیسر رومیلا تھاپر کی لکھی ہوئی کتاب سے محمود غزنوی کے بارے میں یہ رائے نقل کی ہے: مندروں کو منہدم کرنے کا ایک فائدہ اور بھی تھا۔ محمود یہ دعویٰ کر سکتا تھا اور اس نے کیا بھی کہ بتوں کو توڑ کر اسے مذہبی امتیاز حاصل ہو گیا ہے۔

پروفیسر گپتا کے نزدیک یہ بات اگرچہ صحیح ہے لیکن اسے اس درجے کی کتاب میں بیان نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ہندوستان میں قومی یک جہتی اور جذباتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ایسے واقعات کو بیان کرنے سے پرہیز کرنا ہو گا جن سے فرقہ وارانہ جذبات میں اشتعال پیدا ہوتا ہو۔

اس کے بعد پروفیسر گپتا نے مکتبہ اسلامی، دہلی سے شائع ہونے والی کتاب آئینۂ تاریخ کا ذکر کیا ہے جس کے مصنف کا نام افضل حسین ہے۔ اس کتاب میں اکبر اور دارا شکوہ کو خوب برا بھلا کہا گیا ہے۔ دارا شکوہ کو تو مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے۔

پٹنہ کے تقی رحیم کو گلہ ہے کہ مسلم حکمرانوں کے مذہبی جبر کی خود ساختہ داستانیں تاریخ میں بھر دی گئی ہیں۔ محمود غزنوی،فیروز تغلق، علاء الدین خلجی اور اورنگ زیب وغیرہ کے مظالم کو بیان کرنے میں انتہائی مبالغہ آمیزی سے کام لیا گیا ہے اور ان کی برائیوں کو ان کی اسلامیت سے منسوب کر کے اور ان کی ساری زبردستی اور زیادتیوں کو ہندو دشمنی سے تعبیر کرکے مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہاں ایک دل چسپ صورت حال سے واسطہ پڑتا ہے۔ جو مسلمان حکمران ہندووں کی نظر میں روادار اور انصاف پسند تھے وہ مسلمانوں کے ہاں معتوب و مغضوب ٹھہرتے ہیں۔ جو مسلمانوں کے منظور نظر ہیں وہ ہندووں کے ہاں سب سے بڑے ولن کا درجہ رکھتے ہیں۔

علی گڑھ کے ڈاکٹر ظفر الاسلام اپنے مقالہ “تاریخ کی درسی کتابیں اور فیروز شاہ تغلق” میں لکھتے ہیں: درسی کتابوں کے تاریخی اسباق کے مطابق عہد وسطی کے وہ مسلمان حکمران زیادہ متعصب، تنگ نظر اور فرقہ پرست واقع ہوئے تھے جو دینی میلانات اور مذہبی رجحانات کے لیے معروف تھے۔۔۔ان درسی کتابوں سے منافرت پھیلانے والے جو اقتباسات بطور مثال پیش کیے گئے تھے ان میں سے بیشتر کا تعلق فیروز شاہ تغلق اور اورنگ زیب سے تھا۔ دوسرے یہ کہ مذہب کی پابندی یا اسلامی شریعت کی پیروی اور تعصب و تنگ نظر میں گہرا رشتہ ہے۔

مسلمانوں کو اس بات پر بھی افسوس ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو جیسے روادار اور سیکولر انسان نے بھی اورنگ زیب کے بارے میں یک طرفہ بیانیے کو ہی ترجیح دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: “اس کے بعد آخری عظیم مغل اورنگ زیب آیا۔ وہ بڑی سادگی سے رہنے والا عابد تھا اور کٹڑ مذہبی تھا۔ وہ اپنے مذہب کے سوا کسی دوسرے مذہب کو برداشت نہیں کرتا تھا۔ اپنی ذاتی زندگی میں اورنگ زیب سادہ مزاج اور سنیاسی جیسا تھا۔ اس نے ارادہ کر کے ہندووں کو ستانے کی پالیسی چلائی۔اس نے ہندووں پر جزیہ ٹیکس پھر لگا دیا۔ جہاں تک ہو سکا ہندووں سے سب عہدے چھین لیے۔ اس نے ہزاروں ہندو مندروں کو توڑ ڈالا اور اس طرح بہت سی پرانی حسین عمارتوں کو دھول میں ملا دیا”۔

ہندو مسلم ذہن کی کشکمش اس مرحلے پر بہت عیاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ اس کا ایک عبرت انگیز نمونہ مولانا حسین احمد مدنی کی سرپرستی میں مرتب اور شائع ہونے والی مولانا محمد میاں کی کتاب “علمائے ہند کا شاندار ماضی” میں ملتا ہے۔ اس کتاب میں اکبر پر جو حملہ کیا گیا ہے اس میں لگتا ہے کہ عبدالقادر بدایونی کی روح بول رہی ہے۔

اس پر تقی رحیم صاحب کو سخت اچنبھا ہے کہ نہرو اور مولانا مدنی دونوں مانے ہوئے نیشنلسٹ لیڈر تھے لیکن اکبر اور اورنگ زیب کے متعلق ہم آواز نہیں تھے بلکہ ایک کا ہیرو دوسرے کا ولن ہے۔

Sardar-Patel-with-Jawaharlal-Nehru

یہاں وہ مسئلہ کھل کر نمایاں ہو جاتا ہے جب ایک کا ہیرو دوسرے کا ولن قرار پائے وہاں حقیقی یک جہتی کا حصول اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ مسلم ذہن کا مخمصہ یہ ہے کہ ایک طرف ان کا مطالبہ ہے کہ عہد وسطی کے بادشاہوں کی شناخت مسلمان کے طور نہیں، ترک، غوری، لودھی اور مغل وغیرہ کے طور پر کی جائے۔ ان کا حکومت کا نظام شاہانہ تھا جس کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن جب محمود غزنوی، فیروز تغلق اور اورنگ زیب پر تنقید ہوتی ہے تو خم ٹھونک کر ان کے دفاع پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ محمود غزنوی کے بعد فیروز تغلق اور اورنگ زیب مسلمانوں کے بڑے ہیرو اور ہندووں کے نزدیک سب سے بڑے ولن ہیں۔

انڈیا میں ایک قابل تعریف بات یہ ہوئی کہ 1970 میں نیشنل کونسل آف ایجوکیشن، ریسرچ اینڈ ٹتیننگ۔ (این سی ای آر ٹی) قائم کی گئی۔ اس کمشن کی رائے میں ملک میں استعمال ہونے والی نصابی کتابوں کا معیار اطمینان بخش نہیں۔ تاریخ کی بدترین نصابی کتابیں دہلی اور بعض دیگر ریاستوں میں استعمال کی جاتی ہیں۔ انھوں نے ایسی کتابیں تیار کرائیں جن میں معروضی اور غیر جانبدارانہ انداز اپنایا گیا تھا لیکن وہ کتابیں قبول عام حاصل نہ کر سکیں اور نہ فرقہ وارانہ منافرت کو کم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکیں۔

نوے کی دہائی میں جب چار ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں قائم ہوئیں تو ہندوتوا کے منشور کے تحت تاریخ کی کتابوں کو تبدیل کرنا شروع کیا اور تاریخ نویسی کی ایک نئی طرح ڈالی گئی۔ مدھیہ پردیش میں سنگھ پریوار تعلیمی بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ سنگھ پریوار کے سکولوں میں جو تاریخ پڑھائی جاتی ہے اس کے دو نمونے ملاحظہ ہوں:

“پرتھوی راج نے محمد غوری کو ہلاک کیا۔ غوری کی لاش پرتھوی راج کے قدموں میں ایسے پڑی تھی جیسے اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کر رہی ہو۔ قطب مینار سمدرا گپت نے تعمیر کرایا تھا اور اس کا اصلی نام “وشنو استمبھ” ہے۔ پیشوا مادھو راو کے تحت ہندوستان آزاد ملک بن گیا۔”

بھارت پر یونانیوں کے حملوں کا ذکر کرنے کے بعد مسلمان حملہ آوروں کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے:

“اس کے بعد وہ غیر ملکی آئے جن کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قرآن تھا۔ تلوار کے بل پر لاتعداد ہندووں کو زبردستی مسلمان بنایا گیا، آزادی کی لڑائی ایک مذہبی لڑائی بن گئی۔ لاتعداد لوگوں نے مذہب کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ہم ایک کے بعد دوسری جنگ جیتتے گئے۔ ہم نے کبھی بھی غیر ملکی حکمرانوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا مگر ہم اپنے سے جدا ہوئےبھائیوں کو پھر سے ہندو نہیں بنا سکے۔”

آر سی مجمدار جدید ہندوستان کا بہت نامور مورخ ہے لیکن حد درجہ کا فرقہ پرست بھی ہے۔ اس کے نزدیک مسلمانوں کا عہد حکومت ہندوستانی تہذیب کی شب تاریک ہے اور برطانوی سامراجی حکومت کا قیام اسی شب تاریک کا تسلسل ہے۔

وہ اپنی کتاب مختصر تاریخ ہند میں شیوا جی کے متعلق لکھتا ہے: “اپنے ملک اور مذہب کو غیر ملکی غلامی کے جوئے سے نجات دلانے کا شریفانہ خیال ان کے ذہن میں پیدا ہوا اور انھوں نے ساری زندگی اس مقدس فریضہ کے لیے وقف کر دی۔۔۔ ان کے شکرگزار ہم وطن انھیں بھگوان کا اوتار مانتے ہیں۔ آج بھی عظیم ہمالیہ سے لے کر کیپ کمرون تک طاقت ور ہندو فرقہ کی نبض اس عظیم مرہٹہ لیڈر کا نام لینے سے تیز ہو جاتی ہے۔”

ہندوستان کے سکولوں میں استعمال ہونے والی اردو، ہندی اور انگریزی کتابوں کی اپروچ میں فرق بہت واضح ہے۔ انگریزی کتابوں میں خاصی حد تک معروضی اور غیر جانب دارانہ پایا جاتا ہے لیکن ہندی اور اردو کتابیں مکمل طور پر فرقہ وارانہ رنگ لیے ہوئے ہیں۔ اردو میڈیم کتابیں سلاطین اسلام کی تعریف و توصیف سے لبریز ہیں۔ ہندی کے کچھ نمونے اوپر پیش کر دیے گئے ہیں۔

Krishan Gopal Gokhale – A True Liberal

جدید ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کو ایک عجیب صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہندو قوم پرست شمال اور مغرب سے آنے والے حملہ آوروں کو عرب، ترک اور افغانی ہی نہیں کہتے بلکہ ان کی مسلم شناخت کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ قوم پرست مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان حملہ آوروں کو صرف عرب، ترک اور افغان کہا جائے کیونکہ ان کا ہند پر حملہ آور ہونا، یہاں پر ایک خاص انداز میں حکمرانی کرنا بر بنائے اسلام نہیں تھا بلکہ اس زمانے کے احوال کے مطابق تھا۔ عہد وسطی کی تاریخ کو اس دور کے حالات اور ان سے پیدا اس دور کے سیاسی اخلاق و اقدار کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ ذاتی اقتدار اور خاندانی حکومت کے لیے ہندو اور مسلمان حکمرانوں میں ہونے والی لڑائیوں کو مذہبی جنگ قرار دینا فرقہ پرست لوگوں کا ذہنی فتور ہے۔

ہندو تاریخ نگاروں کے بنیادی نکات یہ ہیں: مسلم حکمرانوں نے زبردستی ہندووں کو مسلمان بنایا، مندروں کو مسمار کیا اور مورتیوں کو توڑا اور ان کی بے حرمتی کی۔

اب مسئلہ یہی ہے کہ جن حکمرانوں نے یہ کام زیادہ کیے ہیں وہی مسلمانوں کے ہیرو ہیں۔

جدید ہندوستان کی تاریخ بھی اسی طرز پر لکھی جا رہی ہے جس میں مسلمانوں کو انگریزوں کا آلہ کار بتایا جاتا ہے۔ آزادی کی جدوجہد میں کسی مسلمان کا نام نصابی کتابوں میں لکھا ہوا نہیں ملتا، حتی کہ مولانا ابوالکلام آزاد کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا جاتا۔ سنگھ پریوار کی کتابوں سے تو مہاتما گاندھی کا نام بھی حذف کر دیا گیا ہے۔

میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: کیا تاریخ کے سیاہ کوے کو قومی یک جہتی کے چونے کے ڈرم میں غوطے دے کر بگلا بنایا جا سکتا ہے؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ تاریخ نہ پڑھانے سے ہمارے بچوں کا کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ اگر انھیں محمود غزنوی اور دیگر حملہ آوروں اور بادشاہوں کے بارے میں معلوم نہیں ہو گا تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔ بہتر ہو گا کہ سکول کی کتابوں میں محمود غزنوی کے بجائے البیرونی، علاء الدین خلجی کے بجائے امیر خسرو پر اسباق شامل کیے جائیں۔ ہمارا حال اور مسقبل بادشاہوں کی تاریخ پڑھنے سے بہتر نہیں ہو گا بلکہ خراب ہی ہو گا۔ اس لیے نفرتوں اور قتل و غارت گری کے ان صحیفوں کو سکول کے نصابات کا حصہ نہ بنایا جائے۔ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ تاریخ کا مطالعہ ضرور کریں کیونکہ وہ اس وقت بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ سکول میں بس ان کی تجزیاتی اور تنقیدی صلاحیت کو پروان چڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ کالج اور یونیورسٹی میں اپنی تنقیدی بصیرت کی روشنی میں اپنے مطالعے کو اپنی ذہنی نشو و نما کے لیے استعمال کر سکتے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *