سوچ رہی ہوں، سوچوں کیسے؟
ٹیکنالوجی کی بدولت جہاں ہم کلک کلک کر کے منٹوں میں کسی بھی مطلوبہ موضوع پر ڈھیروں معلومات حاصل کر لیتے ہیں، وہیں ہمیں وہی معلومات ملتی ہیں جو گوگل ہمیں دکھانا چاہتا ہے۔ ہماری سوچ سمجھ گو گل کے تا بع اور محدود ہو گئی ہے۔ جب ہم پڑھائی کے دنوں میں اسائنمنٹ بناتے تھے تو لائبریری جا کر کتابیں جمع کرتے۔ پھر ان کتا بوں میں سے ڈھونڈ کر مطلوبہ معلومات جمع کرتے۔ اس مطلوبہ گوہر مقصود کی تلاش میں بہت کچھ اضافی بھی پڑھنا پڑ جاتا اور پھر فلٹر کر کے کام کی بات نکال لی جاتی۔ آ ج کا طالب علم سب سے پہلے گوگل کے پاس جاتا ہے۔ جو چیز گوگل نے نہیں دکھائی یا اس پر دستیاب ہی نہیں وہ تو تلاش کے دائرے سے ہی خارج ہو گئی۔ ہمارا دماغ تو گوگل کے مر ہوں منت ہو گیا جو وہ چاہے دکھائے جو وہ چاہے سکھائے۔
ہمارے پاس پوری کتاب پڑھنے کا تووقت ہی نہیں رہا۔ چار پانچ لائنوں میں کام کی بات تو سرچ بار پر لکھتے ہی سامنے آ جاتی ہے۔ ہماری سوچ سست ہورہی ہے۔ ہماری imagination کوزنگ لگ رہا ہے۔ ہماری creativity ختم ہورہی ہے۔ ہم الفاظ کے ردوبدل سے کوئی بھی معلومات اپنے نام کا ٹھپہ لگا کر پیش کر دیتے ہیں۔ کچھ نیاسوچنے کا وقت ہی نہیں رہا۔
تو یہ نئی سوچ کہا ں سے آ ئے۔ سمجھیں گوگل ایک بہت بڑا سٹور ہے جہاں ضرورت کی ہر چیز دستیاب ہے۔ ہماری ضرورت کی ہر چیز بر وقت مل جانے کی وجہ سے ہمیں کسی اور سٹور پر جانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اور سٹور نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے دوسرے سٹور پر ایسی چیزیں ہوں جو بہتر ہوں۔
تو اپنی سوچ کو کیسے آ زاد کریں، کیسے نیا سوچیں؟
کوشش کر کے فطرت کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔ باہر نکلیں مناظر قدرت کامشاہدہ کریں۔ مٹی کی خوشبو اور اس کے texture کو محسوس کریں۔ اپنا ٹیکنالوجی والا سوئچ کچھ دیر آ ف کریں۔ اپنے آ پ کو اس وائر ڈ اور وائر لیس ٹیکنالوجی کی زنجیروں سے آ زاد کریں گے تو ہی دماغ کچھ نیا سوچے گا۔
ایک صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ ہوتا یے تو جسمانی مشقت کے ذریعے اپنے جسم اور دماغ کو مضبوط بنائیں۔ سوچنے کی عادت اپنی فکر کو آ زاد کرنے سے ہی پڑتی ہے۔ سوچنے کی مشق کر کے ہی دماغ کو نیا سوچنے اور غور فکر کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ مستقل پریکٹس ہمارے ذہن کو مضبوط بناتی ہے۔ نئے لوگوں سے ملنا، نئی جگہوں کا سفر، نا مانوس اطراف میں خود کومانوس کرنے کی کوشش بہت کچھ نیا لاسکتی ہے۔ اپنی سوچ کو وسیع کریں۔ دوسروں کی باتیں سنیں، ان کا تجزیہ کریں اور اپنی سوچ کے در ہمیشہ وا رکھیں۔
تو سوچیں پھر کچھ نیا۔


