کمزور اور غریب طبقہ کا تحفظ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی سیاسی، سماجی اور معاشی پالیسیوں سے جڑا ایک بنیادی نکتہ یا سوال معاشرے میں موجود کمزور اور غریب طبقہ کے تحفظ ہے۔ عمومی طور پر اس تحفظ کی ذمہ داری ریاست، حکومت، اداروں سمیت معاشرے میں موجود بالادست طبقات سے جڑی ہوئی ہے او ریہ عمل کمزور طبقات پر احسان نہیں بلکہ ان فریقین کی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔ کیونکہ یہ ریاستی آئینی ذمہ داری ہے کہ ہر فرد کے بنیادی حقوق کی ضمانت ریاست کی ہے او روہ ایک ایسے ماحول کو پیدا کرتی ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ عام او رکمزور طبقات خود کو کسی بھی صورت میں یہ نہ سمجھیں کہ ریاست یا حکومت ان کے تحفظ کے لیے تیار نہیں۔ یہ ہی مثبت رویہ ہوتا ہے جو کسی بھی ریاستی امور میں شہری اور ریاست کے باہمی تعلق کو اعتماد سازی اور مضبوط بنانے کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

پاکستان میں موجود طاقت ور طبقات کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ معاشرے میں موجود معاشی بدحالی، عدم انصاف، سیاسی، سماجی محرومیوں بدترین عملی مظاہرہ ہمیں ان ہی کمزور اور غریب طبقات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ لوگوں کا ریاست اور حکومت پر اعتماد نہ صرف کمزور ہوا ہے بلکہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی حیثیت برابر کے شہری کی نہیں اور اس تناظر میں ان کو مختلف استحصالی عمل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان او رپاکستان سے باہر وہ ادارے جو معاشی حیثیت کا جائزہ لینے کی شہرت رکھتے ہیں ان کی طرف سے جاری ہونے والے اعداد وشمار میں بھی ہماری سماجی حیثیت میں عام آدمی کی مشکلات کو تواتر سے پیش کیا جارہا ہے جو ہمارے حکمرانی کے نظام او راس سے جڑے عوامی مفادات پر سوالیہ نشان ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان اپنی حکمرانی کے نظام میں تواتر کے ساتھ ”کمزور اور غریب طبقات“ کے مفادات پر بڑی شدت سے بات کرتے ہیں، ان کے بقول وہ ایک ایسی ریاست مدینہ یعنی فلاحی ریاست کے حامی ہیں جس میں کمزور طبقات کو تحفظ دینا ہے۔ وزیر اعظم کی بیشتر تقاریر میں بھی ہمیں ان باتوں کی جھلکیاں نمایاں نظر آتی ہیں۔ اسی تناظر میں پناہ گاہ، احساس پروگرام، کامیا ب جوان پروگرام، احسا س کفالت پروگرام، بزرگوں، معذوروں، بیواوں، یتیموں، خواجہ سراوں سے جڑے ایسے پروگراموں کو کسی نہ کسی شکل میں شروع کیا گیا ہے تاکہ حکومتی سطح پر ان کمزور طبقات کو تحفظ دیا جاسکے۔

کمزور اور غریب آدمی کو تحفظ دینے یا اسے مضبوط بنانے کے حوالے سے دو سطحوں پرکام ہوتا ہے۔ اول جسے ہم خیراتی کام کہتے ہیں یعنی ہم فوری طور پر لوگوں کی بنیادی ضرورت کو پورا کرکے اسے تحفظ دیں۔ یہ عمل برا نہیں ہوتا مگر اس میں خیراتی سے جڑی سوچ لوگوں کی ریاست اور حکومت پر انحصار کو بڑھاتی ہے، وہ خود سے کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جبکہ اس کے برعکس ایک سوچ یہ ہوتی ہے کہ ریاست یا حکومت اس سطح پر کمزور طبقات کی مدد کرے کہ یہ عمل اس کی سیاسی، سماجی او رمعاشی حیثیت کو مضبوط بنائے اور وہ جلد سے جلد ریاستی یا حکومتی انحصار سے نکل کر خود بھی اپنے لیے کچھ کرسکے۔ اس عمل میں ریاست یا حکومت اس انداز سے کمزور لوگوں کی مدد کرتی ہے کہ وہ بہت جلد خود کچھ کرنے کے قابل ہوسکیں۔ یہ ہی وہ بڑی سوچ ہے جو ہمیں ریاستی و حکومتی سطح پر کمزور طبقات کی سیاست کی شکل میں واضح اور شفاف انداز میں نظر آنی چاہیے۔

ہماری سیاسی او رجمہوری حکمرانی کے نظام میں بنیادی خرابی یہ ہے کہ اس میں عام آدمی یا کمزور آدمی کی سیاست سے جڑے مفادات بہت ہی کمزورہیں۔ ہماری حکمرانی کی طاقت میں کمزور افراد کم اور پہلے سے موجود طاقت ور افراد کو زیادہ بالادستی حاصل ہے۔ ہماری بیشتر پالیسیاں اور قانون سازی میں جو جھلک نظر آتی ہے اس میں بھی کمزور طبقہ پیچھے کھڑا ہے۔ اگر کچھ پالیسیاں یا قوانین عام آدمی کو تحفظ دیتے ہیں تو اس میں موجود عملدرآمد میں غیر منصفانہ، غیر شفاف اور استحصال پر مبنی حکمرانی کے تضادات عام آدمی کو ریلیف دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہماری سیاست، جمہوریت یا نظام میں بنیادی کنجی کمزور او رغریب طبقہ ہوتا ہے۔ ان کو ایک بڑا ریلیف یا استحکام دے کر ہی ہم اپنے سیاسی او رجمہوری نظام کی ساکھ کو قائم کرسکتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیر اعظم عمران خان کمزور اور غریب طبقہ کی سیاست میں خوشحالی کو پیدا کرنے کی خواہش کے باوجود کامیاب ہوسکیں گے؟ کیونکہ سیاست میں خواہش کا پیدا ہونا ایک شکل میں سیاسی کمٹمنٹ سے بھی جڑا ہوتا ہے او راس کی اہمیت ہوتی ہے کہ حکومتی امور میں کوئی ان کمزور اور غریب طبقات کے بار ے میں سوچتا ہے۔ لیکن یہ پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔ جبکہ اس کی دوسری سیڑھی نظام میں قانونی اور سیاسی دائرہ کار میں رہتے ہوئے نظام کی سرجری اس انداز سے کرنی ہوتی ہے کہ یہ اقدامات روایتی سیاست کے مقابلے میں غیر معمولی عمل سے جڑی ہوتی ہے۔ کیونکہ جب ہم یہ ادراک رکھتے ہیں کہ کمزور اور غریب طبقہ کی سیاست سے جڑے معاملات غیر معمولی ہیں تو پھر اس کے لیے اقدامات بھی غیر معمولی ہی درکار ہوتے ہیں۔

ہماری قومی سیاست او راس سے جڑے بڑے طاقت ور فریقین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ روایتی انداز میں سیاسی، سماجی اور معاشی نظام چلانا چاہتے ہیں۔ جو بھی حکومت غیر معمولی اقدامات کی مدد سے آگے بڑھنا چاہے گی تو اسے اپنی ہی حکمرانی کے نظام میں حکومتی یا حزب اختلاف سمیت دیگر طاقت ور فریقین کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عمومی طور پر کمزور طبقات کے مفادات کی سیاست میں ایک اہم نکتہ یہ ہوتا ہے کہ ریاست یا حکومت طاقت ور طبقات پر دباؤ ڈال کر یا ان کو بڑے ٹیکس نیٹ میں لاکر کمزور طبقات کو زیادہ طاقت فراہم کرنے کی سیاست کرتی ہے۔ اسی طرح وہ قومی وسائل کی تقسیم کے نظام کو اس انداز سے مضبوط بناتی ہے کہ اس میں منصفانہ اور شفافیت کا عمل نہ صرف نمایاں نظر آتا ہے بلکہ اس سے عام آدمی کا حکومتی نظام پر اعتماد بھی بڑھتا ہے۔

اصل مسئلہ انسانی سرمایہ کاری کا ہے۔ جو بھی ریاست یا حکومت انسانی سرمایہ کاری میں کمزور اور غریب طبقہ کو تحفظ دے گی وہی ریاست آج کی دنیا میں اپنی اہمیت منوا سکتی ہے۔ پاکستان کے سیاسی نظام میں 18 ویں ترمیم کے بعد کمزور اور غریب طبقہ کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری وفاق سے زیادہ صوبائی حکومتوں کی ہے۔ صوبائی حکومتوں کو اب اس سیاسی نظام میں ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقت انتظامی و مالی تناظر میں حاصل ہے۔ صوبائی حکومتیں اپنے صوبہ میں میں ایک خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام کو بنیاد بنا کر صوبہ میں کمزور اور غریب طبقہ کی ترقی کا بہتر ماڈل پیش کرسکتی ہے۔

اس کی شکل صوبائی او ربالخصوص مقامی سطح پر موجود مقامی حکمرانی کے نظام میں عام آدمی کی زیادہ سے زیادہ فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت اور مقامی وسائل کی مقامی سطح پر تقسیم سے جڑی ہوئی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری صوبائی نظام حکومت اپنی اصلاح کے لیے تیار نہیں او رنہ ہی مقامی نظام حکومت کو مضبوط او رخود مختار بنانا ان کی بڑی ترجیحات کا حصہ نظر آتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ چاروں صوبوں میں حکمرانی کا نظام سوالیہ نشان ہے اور وہ اپنی اہمیت کھورہا ہے۔

تعلیم، صحت، روزگار، انصاف، تحفظ، شیلٹر، نقل و حمل، مہنگائی ایسے بنیادی نوعیت کے مسائل ہیں جو کمزور اور غریب طبقہ کی ترقی یا خوشحالی میں اسے سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *