مرشد! پلیز، آج مجھے وقت دیجیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی کبھی لگتا ہے مجھ جیسے سفید پوش افراد بلاوجہ زندگی کو سنوارنے کے لئے اپنی خوشیاں تیاگ دیتے ہیں۔ اپنے جذبوں کو دبا دیتے ہیں اور اچھی بھلی دل کو لبھاتی ہوئی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں۔ حاصل وہی روایتی سے سمجھوتے ہوتے ہیں، وہی روزمرہ کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور دلی خوشی تو خالی مٹھی سے ریت کی طرح سرک چکی ہوتی ہے۔ سچی بات ہے کہ باقی دنیا کے ساتھ ہمارا تعلق مجبوری کا ہی ہے ورنہ ہم تو اپنی بسائی ایک خوابی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں، یہاں ہماری اپنی ہی ایک تاریخ ہے اور اپنا ہی حال جس پر ڈگمگاتے ہوئے ہم ایک نیا مستقبل چاہتے ہیں۔

اپنا کوئی تعلق نہ تو صنعتی ایجادات سے تھا اور نہ ہی اس وقت ابھرتی ٹیکنالوجی سے ہمیں کوئی واسطہ ہے۔ دور دور تک مجھ جیسے لوگ زندگی کے کاموں میں الجھے کیڑے مکوڑوں کی مانند اپنی ضرورتوں، خواہشوں پر صبح شام ناچتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ بھی سچ ہے کہ وقت ٹھہرتا نہیں مگر لفظ وقت اور زمانوں سے ماورا ہوتے ہیں، دودھیا یادوں میں آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں اور جب دل چاہے سر نکال کر سامنے آ جاتے ہیں۔ لفظ سادہ ہو سکتے ہیں مگر یادیں کبھی سادہ نہیں ہوتیں، ان کے اپنے رنگ اپنی خوشبو، بناؤ سنگھار اور اک انوکھی سی چاشنی اور گہری اثر انگیزی ہوتی ہے۔ بھلے وقت کو پر لگ جائیں یادیں اپنی گہرائی کے حصار میں رہتی ہیں۔

ہر انسان کے لئے پہلی پہلی چیزیں اور اولین تجربے دونوں ہی عموما یاد گار اور خوبصورت ہوتے ہیں جیسے لڑکپن کا پہلا خواب، پہلی محبت، پہلی کمائی، شادی کے اولین دن، پہلا گھر، پہلے بچے کا اولین لمس اور خاص کر بچپن کی پہلی دوستیاں۔ طالبعلمی کے دور میں اردو کی نصابی کتاب میں ”مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ“ کے عنوان سے سجاد حیدر یلدرم کا ایک مضمون ہوا کرتا تھا۔ جس کو بڑے چاؤ سے پڑھتے تھے۔ خوش ہوتے تھے۔ لیکن زندگی کی دو کم پچاس بہاریں دیکھنے کے بعد احساس ہوتا ہے اور دل کرتا ہے کہ پوری قوت سے کہیں کہ جی ہاں سید صاحب!

نہ جانے کس وقت آپ نے دوستوں سے بچنے کی آہ بھری تھی کہ سیدھی بارگاہ الٰہی میں منظور ہو گئی اور اب ہم اس کے جملہ اثرات بھگت رہے ہیں۔ کاش کوئی سید سجاد حیدر ہو جو اُتنے ہی درد سے دوستوں سے ملاپ کا قصیدہ ”مجھے میرے دوستوں سے ملاؤ“ رقم کرے جسے شرف قبولیت نصیب ہو۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں سید سجاد حیدر بھی کیا نصیب والے آدمی تھے، تب احباب کو ملنے کے لئے وقت میسر تھا بس بہانہ درکار ہوتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ آج کے دور میں اُن کے احساسات ہم جیسے لوگوں سے مختلف نہ ہوتے اور وہ بھی اپنے بچپن، جوانی اور طالبعلمی کے دور کے دوستوں سے چند گھڑیوں کی ملاقات کی آرزو کرتے۔

بچپن کسی نہ کسی حد تک سب کا ایک جیسا ہوتا ہے۔ چھوٹی موٹی شرارتیں، معصومانہ دوستیاں، گلی محلے کا ماحول، کوئی پریشانی نہ کسی قسم کا غم، بچے گلیوں میں کھیلتے کھیلتے تھک جاتے تو گھر کی طرف بھاگتے۔ بچپن ہر خاص و عام شخص کی زندگی کا زرین و بہترین حصّہ ہوتا ہے۔ اس دور کی بہت ساری یادیں ناقابل فراموش ہوتی ہیں جسے یاد کرکے خوش ہونے کا لطف بہت ہی بہترین اور نرالہ ہوتا ہے۔ یہ وہی خوبصورت دور ہوتا ہے جس میں ہر بچہ اپنی ہی موج مستی میں مگن رہتا ہے۔

نہ کسی قسم کا تناؤ نہ کسی قسم کی ذمہ داری نہ ہی فکر فردا بس کھانا، پینا، سونا، پڑھنا اور کھیلنا یہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اسی بے فکری کے زمانے کو بچپن کہتے ہیں۔ اس سنہری دور میں موج، مزہ اور مستی کرنا کوئی عیب نہیں ہوتا کسی مفکر نے سچ کہا ہے ”وہ بچپن، بچپن ہی نہیں جس میں شرارتیں نہ ہوں۔ لیکن بچپن اسی وقت یاد آتا ہے جب بچپن کے کسی دوست سے اچانک ملاقات ہوجاتی ہے پرانی باتیں دہرائی جاتی ہیں پرانے دوستوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے ان شرارتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو بچپن کا اٹوٹ انگ ہوتی ہیں۔

زندگی میں وہ اصول جو لڑکپن یا ادھیڑ عمر میں بالکل نبھائے نہیں نبھتے، بچپن ان اصولوں پہ بہت آسانی سے عمل پیرا ہوتا ہے۔ دوستی ہی کی مثال لے لیں۔ بچپن کی دوستیاں اتنی پکّی اور سچی معلوم ہوتی ہیں کہ حد نہیں۔ میری طرح کئی لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے بچپن میں اس طرح کی باتوں کو اپنا دین ایمان بنایا ہوگا۔ کسی کی بات پہ اتنا پکا یقین کیا ہوگا جیسے پتھر کی لکیر۔ کسی دوستی کو اپنا سب کچھ مانا ہوگا۔ دو انگلیاں ملا کر دوستی کرنے والے جس میں بھید بھاؤ اور سیاست والی بات بالکل نہیں ہوتی تھی۔

جہاں دوستی دو انگلیاں ملا کر ہوتی وہاں کنارہ کشی بھی ہاتھ کی چھوٹی انگلی دکھا کر ہو تی یعنی ”کُٹی“ اور پھوئی، کچی یا پکی ”لیکن اب یاد کر کے ہنسی آتی ہے اور اپنا وقت بھی یاد آتا ہے جب بڑوں کی باتوں پہ ہنستے تھے، قہقہے لگاتے تھے کہ انہیں کیا پتہ، جب ہم جوان ہوں گے تو ایسے بالکل نہ ہوں گے۔ ایک دوسرے سے پھول اور کلیاں، نونہال، تعلیم و تربیت اور عمران سیریز جیسی کہانیوں اور رسالوں کا تبادلہ کرنا، لکڑی کی تلواریں بنوا کر محمد بن قاسم ڈرامے کے کرداروں میں خود کو ڈھالنا، گلی ڈنڈا کھیلنا۔

کاپی پھاڑ کے صفحوں کی کشتیاں اور جہاز بنانا۔ تختیاں لڑانا، ایک دوسرے کی قلم چھپا لینا۔ پتنگیں اڑانا، ایک دوسرے کے نام رکھنا جو کسی نہ کسی پس منظر کے ساتھ ہوتے۔ کسی کو بھنڈی، کسی کو بِڈا، کسی کو ڈندل، کسی کو موٹا تو کسی کو کوڈو کہنا۔ یہ سہانادور کیسے بیت گیا۔ اس دور میں دوسروں کی کج ادائی تو محسوس ہی نہ ہوتی تھی۔ اچھا ہوا کہ یہ نام عمر کے اسی حصے میں رہ گئے اور ہم نے انہیں بھلا دیا۔ کبھی کبھار ان ناموں اور ان کے پس منظر کی یادآتی ہے تو بے اختیار ہنسی نکل جاتی ہے۔

آج بچوں کے پاس سمارٹ فون ہے، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کی سہولت ہے وہ گھنٹوں ان مشینی عجوبوں کے ساتھ مصروف رہتے ہیں اس حوالے سے انہیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ سائنس کی ترقی نے ان سے جسمانی کھیل کود اور بچپن کی دوستیاں بھی چھین لئے، اسی لئے اب جس طرف دیکھئے بچے ناک پر عینک سجائے چھوٹے چھوٹے فلسفی نظر آتے ہیں۔

نئی نسل کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ان کی زندگیوں میں بہت سی چیزوں کی کمی ہے۔ جو چیزیں ہمیں ترس ترس کر ملتی تھیں وہ ان کے پاس وافر ہیں۔ ہم پھر بھی مطمئن ہوتے تھے مگر ان کو سکون اور اطمینان میسر نہیں، سب کچھ پا کر بھی یہ اداس رہتے ہیں۔ ان کے چہروں پہ بچپن کی طمانیت کھو گئی۔ انھیں تشنگی کا مستقل احساس ہے کیونکہ ان کی دوستیاں نہیں، ان کی شرارتیں نہیں، جسمانی کھیل نہیں۔ ہاں دوستیاں ہیں تو صرف سوشل میڈیا پہ، شرارتیں ہیں تو صرف کمنٹس کی حد تک، کھیل ہیں تو موبائل یا لیپ ٹاپ پر۔

جہانِ بود و باش میں قدم رکھنے سے لے کر دار فانی کو وداع کہنے تک انسانی شخصیت کی تعمیر و تشکیل، اخلاقی و روحانی تربیت، ذہنی شعور اور فکری ارتقاء، اطراف میں موجود افراد سے وابستہ ہوتا ہے۔ یہ وابستگی کبھی والدین کی محبت و شفقت کے روپ میں انسان کو جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے اور کبھی استاد کی کوشش و تربیت کے نتیجہ میں آگے بڑھنے کا انداز بتاتی ہے۔ انسانی شخصیت کی تعمیر و تربیت میں والدین اور اساتذہ کا کردار بنیادی نوعیت کا ہونے کے باوجود محدود وقت پر محیط ہوتا ہے اورا سکے مقابلے میں ایک تعلق اور رشتہ ایسا بھی ہے جو ہوش کی وادی میں قدم رکھتے ہی انسان کا ہاتھ ہمیشہ کے لئے تھام لیتا ہے جی ہاں! دوست اور دوستی ایک ایسارشتہ ہے جو نسبی طور پر دور ہونے کے باوجود قریبی ترین افراد سے بھی قریب تر ہوتا ہے۔

ہم اس وقت کی پیداوار ہیں جس میں ایک دوسرے سے ملنے، وقت دینے اور ٹائم ”ضائع“ کرنے کی فرصت ہی فرصت تھی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ترقی کی دوڑ میں شامل کئی افراد کہتے ہیں کہ دوستوں سے مل کر وقت کیوں ضائع کریں یا وقت ہی نہیں۔ یاد رکھیں ہم دوست ایک دوسرے کو وقت دے کر اگراپنا وقت ”ضائع“ کرنا شروع کر دیں تو ہمارے بہت سے اعصابی مسئلے حل ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ہم خود کو اور آپ کو بھی مشورہ دے رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر وقت نکال کر اپنوں اور دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیں اور وہ باتیں کریں جن کا کام سود و زیاں اور خاص کر سیاست سے کوئی تعلق نہ ہو۔

ایک دوسرے کو بچپن اور لڑکپن کے ناموں سے پکار کر دیکھیں۔ چند لمحوں کے لئے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بچپن میں کھو جائیں۔ دل و دماغ میں سکون و راحت کی لامتناہی کرنیں پھوٹنے لگیں گی۔ نسخہ کارگر ثابت نہ ہوا تو مشورہ پیسوں سمیت واپس۔ اس لیے مزید وقت ضائع کیے بغیر اگر سکون حاصل کرنا چاہتے ہیں، شکوے اور گلے دور کرنا چاہتے ہیں، زندگی سے مزہ لینے چاہتے ہیں، سکون و راحت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنا وقت ”ضائع“ کرنا شروع کر دیں۔ غور سے دیکھیں تو آپ کو اپنے بچپن، لڑکپن کی دوستیاں ہاتھ پھیلائے کہہ رہی ہیں : مرشد! پلیز، آج مجھے وقت دیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *