پولیس نے سابق رکنِ قومی اسمبلی جمشید دستی کو آئل ٹینکر چوری اور اغوا کے مقدمے میں گرفتار کر لیا


سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو گرفتار کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی کو ملتان سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں جمشید دستی کے دو سابق گن مین اور دیگر پانچ ساتھی شامل ہیں۔ جمشید دستی کو ساتھیوں سمیت گیلانی ہاؤس کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔ جمشید دستی کو آئل ٹینکر چوری کیس میں گرفتار کیا گیا۔

جمشید دستی پر آئل ٹینکر روک کر ڈکیتی اور تیل چوری کرنے کے الزامات عائد ہیں۔ اس سے قبل پولیس نے جمشید دستی کے قریبی دوستوں کو گرفتار کیا اور نا معلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ جن میں چیئر مین یونین کونسل ملک اجمل کالرو اور ملک عابد مکانی سمیت دیگر افراد شامل تھے۔ آئل ٹینکر روک کر ڈکیتی اور تیل چوری کیس میں ایک پولیس اہلکار بھی گرفتار کیا گیا جو سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی سیکیورٹی پر مامور رہ چکا ہے۔

پولیس نے موقف اختیار کیا تھا کہ جمشید دستی سے رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم ان کا فون بھی بند ہے۔ ان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ آج پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔

جمشید دستی سیاست دان ہیں اور ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر مظفر گڑھ سے ہے۔ ان کی وجہ شہرت عوامی سیاست ، اپنے علاقے کے روایتی جاگیردار سیاستدانوں کے خلاف آواز بلند کرنا اور ”جعلی ڈگری” بھی رہی ہے۔ انہیں ارکان پارلیمنٹ کے لاجز سے شراب کی خالی بوتلیں جمع کرنے اور اپنے آبائی حلقے میں گدھا گاڑی چلانے کا بھی شوق ہے۔ وہ پہلی مرتبہ 2008ء کے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ٹکٹ پر رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 2010ء میں جعلی ڈگری رکھنے کے الزام میں انہیں قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینا پڑا تھا لیکن اس کے بعد وہ ضمنی انتخاب میں دوبارہ اسی نشست سے منتخب ہوگئے تھے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں جمشید دستی نے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی جبکہ 2018ء کے انتخابات میں انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔

Facebook Comments HS