مسلمانو نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں مسلمان ممالک کی بڑی تعداد ہو نے کے باوجود مسلم مخالف قوتوں کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہیں، اس کی وجہ باہمی انتشار ہاہے، حالا نکہ اسلامی ممالک کی اپنی اسلامی تعاون تنظیم 57 مسلم ممالک پر مشتمل ہے، مگر غیر فعالیت کے باعث حوصلہ افزا مثبت نتائج دینے سے قاصر رہی ہے۔ او آئی سی کا بنیادی مقصد مسلمان ممالک یا دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے بین الاقوامی رابطوں کے ذریعے متحرک کردار ادا کرنا ہے۔

عرب اسرائیل جنگ کے بعد پاکستان نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو متحرک کیا اور او آئی سی کے پلیٹ فارم کو مضبوط بنانے کے لئے اپنا بھرپورکردار ادا کیا، مگر اہل پاکستان کے لئے سعود ی عرب اور متحدہ عرب امارات کا طرز عمل اس لحاظ سے قابل تعجب رہا ہے کہ انہوں نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت بدلنے اور بھارت میں مسلمانوں کو کچلنے کے لئے متنازع شہریت بل کے حوالے سے نہ صرف خا موشی اختیار کر رکھی ہے، بلکہ ترکی، ملائشیا نے جب کھل کر اہل کشمیر کے لئے آواز بلند کی تو رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہیں۔

اؤ آئی سی مسلم ممالک کا سب سے بڑا اور مؤثر پلیٹ فارم ہے، مگر یہ اتحاد جن مقاصد کے حصول کا متقاضی ہے، ان کے حصول میں مایوسی ہوئی ہے۔ اس چھتری تلے مسلم ممالک نے متحد ہونا تھا، مگراس میں ہی چھید پڑ گئے ہیں۔ اُمت مسلمہ کے متحدہ پلیٹ فارم پر اتحاد سے زیادہ انتشار نظر آتا ہے، او آئی سی کے رکن ممالک ہی آپس میں جنگ تک لڑ رہے ہیں اور کئی بڑے ممالک آمادہ ٔجنگ ہیں، اس کے علاوہ متعدد کے درمیان پراکسی وار جاری ہے۔

ایسی صورتحال میں او آئی سی کے اتحاد اور کردار پربہت بڑا سوالیہ نشان اُٹھ رہا ہے، او آئی سی کے پلیٹ فارم کو نقصان پہنچانے میں سب سے زیادہ اس کا اپنا ہی کردار نظر آتا ہے، جبکہ اس کے اتحادیوں میں انتشار پیدا کرنے والوں کا الگ ایجنڈاہے، بہرصورت مسلم امہ کے اس سب سے بڑے پلیٹ فارم کی اہمیت کا ادراک ہونا ضروری ہے۔ جب تک یہ ادارہ امہ کے مسائل بالخصوص کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل کے حل میں اپنا مؤثر اور ٹھوس کردار ادا نہیں کرے گا، دنیا کے سامنے اس کی حقیقی اہمیت اجاگر نہیں ہوگی۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی گلہ کیاہے کہ او آئی سی مسلمہ کشمیر پر ایک سربراہی اجلاس تک نہیں بلاسکتے، ان کا اشارہ بھارت کی طرف سے کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کی جانب ہے جس کے بعد بھارت نے وادی میں سخت ترین پابندیوں کا حامل کرفیو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ سے نافذ کیا ہوا ہے۔ بھارت کی طرف سے اس سے بھی زیادہ شدت متنازعہ شہریت قانون کی ہے جس کے نتیجے میں پورے بھارت میں آگ لگی ہوئی ہے۔ بھارتی مسلمانوں کو بربریت کا سامنا ہے، مودی سرکار کی آشیرباد سے آرایس ایس کے غنڈے بھارتی مسلمانوں پر ہر طرح کے مظالم ڈھا رہے ہیں، مگراس پر بھی او آئی سی خاموش ہے۔

امریکہ کی طرف سے فلسطین کے حوالے سے جارحانہ پالیسی سب کے سامنے آرہی ہیں، مگر او آئی سی کی سربراہی کانفرنس کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا، کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے حق کے لیے آواز بلند کرنے والا ادارہ بے آواز ہو تا جارہا ہے اوردو کروڑ سے کم یہودی پونے دو ارب مسلمانوں سے زیادہ مضبوط اور طاقتور کیوں ہیں؟ اس کی ایک بنیادی وجہ او آئی سی میں شامل اسلامی رکن ممالک کی ایک دوسرے کے ساتھ عدم تعاون اور آپس کے اختلافات ہیں۔ او آئی سی میں شامل ممالک متفقہ طور پر قرارداد تو منظور کرلیتے ہیں، لیکن اپنی ہی منظور کی جانے والی قراردادوں پر عمل نہیں کرواسکتے، کیو نکہ سب عملاً نفاق اور فروعی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ اُمت مسلمہ کے انتشار میں مسلم مخالف قوتیں کار فرما ہیں، مگر پا کستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کی مسلم اتحاد کاؤشوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، مسلم امہ کو متحد کرنے کی اجتماعی کوششوں کا مقصد مسلمان ملکوں کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی مفادات کا تحفظ کرنا ہے، لیکن بیشتر مسلم ممالک کی قیادتیں خواب خرگوش میں ہیں، انھوں نے ذاتی مفادات کے حصول میں مصلحتوں کا لبادہ اوڑھ رکھاہے۔ ، زیادہ ترمسلم ممالک مصلحت پسندی اور خودغرضی کا شکار ہو چکے ہیں۔

اگر مسلم ممالک یکسو ہوکر او آئی سی کے پلیٹ فارم پرہندوستان میں مسلمانوں پر کیے جانے والے مظالم پر آواز بلند کرتے، کشمیریوں کی جدوجہد کی آزادی کے لیے کردار ادا کرتے، فلسطینوں پر اسرائیل کے ظلم و جبر کے خلاف علم اٹھاتے، روہنگیا کے مسلمانوں پر بربریت کے جو مظالم ڈھائے گئے، مسلم ممالک متحد کر ٹھوس اور سخت جواب دیتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ نہ رکتا، لیکن او آئی سی کے غیر فعال کردار اور مسلم ممالک کی آپس کے اختلافات کے باعث یہود و نصاریٰ متحد ہوکر مسلم ممالک کو مسلسل کمزور کررہے ہیں جومسلم ممالک کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف تمام مسلم ممالک کو مل کر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس میں او آئی سی کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ دنیا بھر کے مسلم ممالک کی نمایندہ تنظیم ہے، اگر اس نے اپنا کردار ادا نہیں کیا تو پھر مسلمانوں کے تحفظ کے لیے کون آواز بلند کرے گا۔ اگر او آئی سی موثر کردار ادا نہیں کرے گا تو دیگر پلیٹ فارم کا سہارا ڈھونڈنا پڑے گا۔ اس حوالے سے، ملیشیا ء، ترکی اور پا کستان نے مل کرمسلم اُمہ کی آوازبلند کرنے کی کاؤشوں کا آغاز کردیا ہے، دیگر اسلامی ممالک کوبھی مسلم اتحاد کی مضبوطی کے لئے موثرکردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

بدقسمتی سے مسلمان ممالک خود رواداری، برداشت اور تحمل کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں، سب مسلم مخالف قوتوں کی سازشوں کا شکار ہو کرانتہاپسندی میں الجھے ہو ئے ہیں، آپس میں دست گریباں ہیں۔ ستم طریفی کی انتہا ہے کہ مسلم ممالک ایک دوسرے پر دہشت گردی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ اپنے دشمنوں کو مٹانے کی بجائے ایک دوسرے کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں، بے پناہ جانی اور مالی نقصانات اٹھانے کے باوجود ہوش مندی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں، مسلمانوں کو ایک دوسرے کا دشمن بناکر مسلم مخالف خود متحد ہیں، اس صورت حال کو سمجھتے ہوئے متحد حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے، اگر اب بھی فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مسلمان متحد نہ ہوئے تو بطور مسلم اُمہ طاغوتی طاقتوں کے ہاتھوں تباہی نوشتہ دیوار ہے یعنی دیوار پر لکھی جاچکی ہے، مسلمانوں سمجھو، نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *