کیا علم اور شعور ڈگریوں کا محتاج ہوتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں کہ جہاں پر یہ بات گولڈن اصول کا در جہ اختیار کر چکی ہے کہ کتابوں میں لکھا ہوا حرف بہ حرف ٹھیک ہوتا ہے اور اس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس اصول کو شعوری درجہ دینے والے بھی ہمارے ہی سماج کا حصہ ہیں یہ لوگ کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے سکول کالجز اور یونیورسٹی معمارانِ نوجوان ہیں جنہیں ہم تقدس کی شال میں لپیٹ کر اساتذہ کرام کہتے ہیں۔ ان معماران کے پاس استحصالی ہتھکنڈے موجود ہیں جن کے ذریعے یہ اپنا حق ”جبری احترام“ کے ذریعے سے وصول کرتے ہیں اور طلباء کے درمیان ایک ایسے فاصلے کو برقرار رکھتے ہیں کہ کہیں ہماری پروڈکٹ سوال ہی نہ پوچھنے لگ جائے۔

کیونکہ سوال میں وہ طلسماتی طاقت موجود ہوتی ہے جو کہ سامنے والے کابناوٹی طلسم تباہ کر ڈالتی ہے۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے جب کہ دوسرا رخ کچھ اس سے کافی مختلف ہے۔ کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر ایک کلپ میری نظر سے گزرا جو کہ ایک شخص کے ساتھ انٹرویو پر مشتمل تھا۔ اس شخص کا نام محمد سلیم ہے جن کا تعلق خانپور ضلع رحیم یار خان سے ہے اور آج کل لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔ یہ صاحب کہتے ہیں کہ ان کے پاس ماسٹرز کی چار ڈگریاں ہیں اور ان کو ان ڈگریوں نے کچھ نہیں دیا اور آج 65 سال کی عمر میں اپنے خاندان کی کفالت کرنے کے لیے رکشہ چلانے پر مجبور ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے جاب وغیرہ کے لیے اپلائی نہیں کیا تھاتو موصوف کا کہنا ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی مجھے کوئی جاب نہیں ملی اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے معاشرتی ظلم و ستم کی کہانی کی گردان شروع کر دی۔ جب ان سے پوچھا گیاکہ آپ نے اپنے بچوں کو تعلیم وغیرہ دلوائی تو موصوف کا جواب یہ تھا کہ ”جب میری تعلیم نے مجھے کچھ نہیں دیا تو کیا میں بے وقوف ہوں کہ میں اپنے بچوں کو بھی اسی تعلیمی سرکل کا حصہ بننے دوں“ مایوسی بانٹتی ہوئی یہ معاشرتی تصویر اپنے اندر بہت سارے سوالات لئے ہوئے ہے مگر ان سوالوں کا جواب جذباتی انداز سے نہیں بلکہ منطقی بنیادوں پر کھوجنے کی ضرورت ہے۔

جب آپ اس شخص کی گفتگو سنیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس شخص کو قابلیت سے زیادہ ڈگریوں پر بھروسا ہے چونکہ اس نے یہ ڈگریاں حاصل کر لی ہیں اور معاشرے اور ریاست کو مہربان ہو کر اسے جاب آفر کر دینی چاہیے۔ علم شعور اور آگہی ان تمام پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔ جس دماغ میں شعور اپنی جڑیں قائم کر لیتا ہے تو وہ دماغ معاشروں کی امامت کا فریضہ سرانجام دینے لگ پڑتا ہے اور مایوسیوں کا سامنا اپنے علم و ہنر سے کرتا ہے۔

چار ڈگریوں کے حامل محمد سلیم سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا آپ کامکان ذاتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ کرایہ پر ہے اور جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے بچے اور آمدن کتنی ہے اس پر موصوف کا جواب تھا کہ گیارہ بچے اور آمدن پانچ سو روپے ہے۔ گفتگو کا یہ پہلو اس شخص کے مائنڈسیٹ کو کھول کے رکھ دیتا ہے کہ جسے تعلیم نے اتنا بھی منور نہیں کیا کہ اپنے فیملی سٹرکچر کو کیسے برقرار رکھے تو پھر معاشرتی ظلم و ستم کی گردان کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔

اس تصویر کے باقی حصوں کو ملا کر سمجھنے کا بقیہ فریضہ میں پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں۔ تصویر کا ایک رخ ہمارے علاقہ میاں چنوں میں بھی موجود ہے۔ یہاں ایک ایسی علم دوست شخصیت آباد ہے کہ جس کے قریب سے کبھی مایوسی چھو کر بھی نہیں گزری۔ اس 65 سالہ بزرگ کا نام محمد جمیل راز ہے ان کی بنیادی تعلیم انڈر میٹرک ہے اور علمی نشئی ہیں اور یہ علمی نشہ ان کو فیض احند فیض، حبیب جالب، سید سبط حسن، منیر نیازی اور سی آر اسلم جیسی شخصیات سے ورثہ میں ملا اور آج اسی نشے کی بدولت وہ انگریزی شناس، اردو شناس، پنجابی شناس، سندھی شناس اور ادب شناسی کے ایک بڑے منبر پر براجمان ہیں اور ایم اے انگریزی، اردو اور ادب کے بے شمار طلباء ان سے علمی فیض حاصل کر کے بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہیں۔

اس باہمت شخص نے یہ ثابت کر دیا کہ علم اور شعور ڈگریوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ یہ ان سب چیزوں سے ماورٰی ہوتا ہے۔ اگر ہم آج اپنے سماج کے پڑھے لکھے نوجوانوں سے ملیں اور ان سے بات چیت کریں تو آپ کو چند لمحوں میں پتہ چل جائے گا کہ ان کی ذہنی صلاحیت کس درجے پر فائز ہے کیونکہ ہمارا آج کا نوجوان ڈگریوں کا متلاشی ہے علم و ہنر کا نہیں۔ زندگی کی پینسٹھ سالہ بہاریں دیکھنے والے دو بزرگوں کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں فیصلہ آپ خود کر لیجیے کہ ڈگری شعور ی پیکج کا حصہ ہوتی ہے یا ڈگریوں سے ماوراء ہوتی ہے۔ میری نظر میں ڈگری وقتی ہوتی ہے جب کہ شعوری سفر ساری عمر جاری رہتا ہے اور شعوری عنصر کا ہمارے معاشرے میں بہت فقدان ہے مگر شرط یہ ہے کہ شعور بانٹنے کا ہنر آنا چاہیے ورنہ ڈگریاں بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *