جاوید احمد غامدی کا ایک تعارف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جاوید احمد غامدی اسلام کی علمی دنیا میں ہلچل مچا دینے والی ہوشربا شخصیت ہیں۔ ہمارے روایتی علماء اور متشدد طبقے ان پر شدید تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن تحقیق سے شغف رکھنے والے اور متلاشان حق انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم ان کے تعارف کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک حصہ میں ان کی شخصیت اور دوسرے میں ان کی علمی خدمات کا ذکر کریں گے۔

جاوید احمد غامدی کے آبا و اجداد کا وطن اقبال کے شہر سیالکوٹ کا ایک قصبہ داؤد ہے۔ ان کی پیدائش پاک پتن کے ایک نواحی گاؤں میں ہوئی۔ آپ کے نام میں موجود غامدی کا لفظ ”غامد“ سے ماخوذ ہے۔ غامدی کے معنی ”کسی چیز پر پڑی دھول کو صاف کرنے والا“ کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، اس کا مترادف ”مصلح“ بھی ہے۔ جب جاوید احمد غامدی نے ”غامدی“ کا لفظ اپنے نام کے ساتھ لگایا تو انہیں معلوم نہ تھا کہ عرب میں اس نام سے ایک قبیلہ بھی موجود ہے۔ خیر اب یہ نام ان سے جڑ گیا ہے یہ یاد رہے کہ آپ عرب نہیں بلکہ پٹھان ہیں۔

ان کے والد گرامی چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے میں علمی ذوق پیدا ہو اسی بنا پر ان کی خواہش تھی کہ جاوید عربی، فارسی اور سنسکرت سیکھے لیکن ان کی والدہ چاہتیں تھیں کی جاوید جدید عصری تعلیم حاصل کرے۔ قصہ مختصر طے یہ پایا گیا کہ یہ بچہ صبح سکول جایا کرے گا پھر عصر سے مغرب تک مسجد میں جا کر مولوی نور احمد صاحب سے عربی اور فارسی پڑھا کرے گا۔ (مولوی نور احمد صاحب غالبا دیوبندی مسلک سے تھے ) ۔ جاوید صاحب نے تیسری کلاس تک ”شرح جامی“ تک عربی اور ”پندنامہ“ شیخ عطار تک فارسی پڑھ لی۔

نویں کلاس تک آپ نے درس نظامی کی تمام کتب پڑھ لیں۔ اسی اثناء میں وہ مولانا مودودی سے واقف ہوئے اور لاہور میں انھیں اسلامی جمعیت طلباء کے سالانہ اجتماع میں دیکھا بعد میں ان سے تعلیم بھی پائی۔ دسویں کلاس کے بعد پاک و ہند کی عظیم درسگاہ ”گورنمنٹ کالج لاہور“ میں ان کا داخلہ ہو گیا وہاں سے انہوں نے انٹرمیڈیٹ، بی۔ اے آنر (انگلش ادب میں ) کیا۔

درسگاہوں ’دانش کدوں کے شہر لاہور میں رہتے ہوئے انہوں نے لاہور میں موجود علم کی چوٹیوں پر افروزاں شخصیات سے اپنے علم کی تشنگی کو بجھایا۔ آپ لاہور میں موجود علمی فنون کی ماہر شخصیات کی خدمت میں گاہے بگاہے حاضر ہوتے اور علم کے رموز سے فیض یاب ہوتے۔ آپ نے ڈاکٹر صوفی ضیاء الحق صاحب سے ”مقامات ہمدانی“، مولانا عطاء اللہ صاحب حنیف (ان کا تعلق اہل حدیث مسلک سے تھا) سے ”دارمی“ پڑھی۔ پانچ سالہ کالج کی زندگی کا زیادہ وقت لائبریری فیروزسنز اور یونائیٹڈ پبلشرز میں کتابیں پڑھنے کے علاوہ ان استادوں کی صحبت میں گزرتا تھا۔ (اس زمانہ میں فیروزسنز اور یونائیٹڈ پبلشرز پر بیٹھ کر کتب کا مطالعہ فری ہوا کرتا تھا)

بی۔ اے کا آخری سال وہ سال تھا جس میں آپ کی فہم و بصیرت کی دنیا ہی بدل گئی۔ اس سال آپ امام حمید الدین فراہی کی تحروں سے روشناس ہوئے۔ اس کے بعد آپ امام فراہی کے شاگردِ تلمیذ مولانا امین احسن اصلاحی کے شاگرد ہو گئے۔ آپ نے مولانا سے 25 سال پڑھا (اپنی کتاب میں جاوید صاحب نے اسے کم و بیش دس سال بیان کیا ہے اور اپنی بعض ویڈیوز میں 25 سال بیان کیا ہے ) ۔ امام امین احسن اصلاحی کے ساتھ پہلی ملاقاتوں سے جو حقیقت آپ پر عیاں ہوئی آپ اسے یوں بیان فرماتے ہیں ”قرآن ایک قول فیصل ہے، دین و شریعت کی ہر چیز کے لیے میزان ہے، پورے عالم کے لیے خدا کی حجت ہے۔

اِس کی روشنی میں ہم حدیث و فقہ، فلسفہ و تصوف اور تاریخ و سیر، ہر چیز کا محاکمہ کر سکتے ہیں۔ ”۔ آپ نے مولانا اصلاحی سے پوچھا کہ مجھے قرآن کا طلب علم بننے کے لئے کیا کرنا ہوگا تو مولانا نے فرمایا“ اِس طریقے سے پڑھنا چاہتے ہو تو لیڈری کے خیالات ذہن سے نکال کر علم و نظر اور فکر و تدبر کے لیے گوشہ گیر ہونا پڑے گا۔ یہ فیصلہ کرو کہ تمھارا سایہ بھی ساتھ نہ دے تو حق پر قائم رہو گے۔ ہمارے مدرسۂ علمی میں کوئی شخص اِس عزم و ارادہ کے بغیر داخل نہیں ہو سکتا۔ ”

اب ہم جناب جاوید احمد غامدی کی علمی خدمات کو اختصار کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ آپ نے چار دہائیوں قبل جس احساس سے دین کی خدمت شروع کی اس کا اندازہ مندرجہ دیل اقتباس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے

”تفقہ فی الدین کا عمل ملت میں صحیح نہج پر قائم نہیں رہا۔ فرقہ وارانہ تعصبات اور سیاست کی حریفانہ کشمکش سے الگ رہ کر خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر دین حق کی دعوت مسلمانوں کے لیے اجنبی ہو چکی ہے۔ قرآن مجید جو اس دین کی بنیاد ہے، محض حفظ و تلاوت کی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ امت کی اخلاقی اصلاح اور ذہنی ترقی کے لیے اس سے رہنمائی نہیں لی جاتی اور ہم عمل کے لیے اس قوت محرکہ سے محروم ہوگئے ہیں جو صرف قرآن ہی سے حاصل ہو سکتی تھی۔ مذہبی مدرسوں میں وہ علوم مقصود بالذات بن گئے ہیں جو زیادہ سے زیادہ قرآن مجید تک پہنچنے کا وسیلہ ہو سکتے تھے۔ حدیث، قرآن و سنت میں اپنی اساسات سے بے تعلق کر دی گئی ہے اور سارا زور کسی خاص مکتب فکر کے اصول و فروع کی تحصیل اور دوسروں کے مقابلے میں ان کی برتری ثابت کرنے پر ہے“

انکی خدمات کی فہرست درج ذیل میں ملاحظہ کیجئے

1۔ البیان (قرآن کا ترجمہ ایک جلد میں اور تفسیر 5 جلدوں میں )

2۔ میزان (اسلام کو جیسے انھوں نے خالص قرآن وسنت کی بنیاد پر سمجھا یہ اس کا بیان ہے۔ اس میں سب سے اہم اصول و مبادی ہیں جس میں انہوں نے بتایا کہ فکر فراہی کے ہاں قرآن، سنت اور حدیث کو کیسے سمجھا جاتا ہے۔ )

3۔ برہان (یہ ان مضامین کا مجموعہ ہیں جن میں ان کا نقطۂ نظر دوسرے علما سے مختلف ہے )

4۔ مقامات (اجتہادات، ذاتی و علمی سفر کی روداد اور تنقیدی مضامین کا مجموعہ)

5۔ الاسلام ( ”میزان“ کا خلاصہ)

6۔ خیال وخامہ (خیال وخامہ آپ کی شاعری کا مجموعہ ہے )

7۔ علم النبی (نبی صل اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئیوں، قرآن و سنت کی تبین)

8۔ فقہ النبی (نبی صل اللہ علیہ وسلم کے اجتہادات)

9۔ سیرۃ النبی (نبی صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح)

( 7، 8، 9 پر ابھی وہ کام کر رہے ہیں )

10۔ المورد (علم و تحقیق کا مرکز ادارہ، جس کے بنیادی مقاصد میں لوگوں کی تعلیم و تربیت شامل ہے )

11۔ اشراق (ماہنامہ مجلہ)

خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر دین کو پیش کرنے کی پاداش میں آپ وطن عزیز پاکستان کی سرزمین سے باہر ڈیلس میں مقیم ہیں۔ آپ وہاں سے قرآن (البیان) اور میزان ہفتہ وار پڑھا رہے ہیں، جس میں ان کے چاہنے والے اور نہ چاہنے والے شریک ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ دنیا کے مختلف حصوں میں المورد کے مرکز بنا چکے ہیں جہاں تعلیم و تربیت کے علاوہ لوگوں کو ان کے سوالات کے جوابات دیے جاتے ہیں اور آپ وقتاً فوقتاً ان میں جا کر خود بھی لوگوں کے ساتھ اوپن سیشن کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عمیر ارشد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *