کشمیر۔ ہماری آہ پہ ان کی واہ نکلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

90 کی دہائی میں جب ہم بھی بستہ کاندھے پر لٹکائے سکول جایا کرتے تھے انہی دنوں میں پہلی مرتبہ پانچ فروری کو کشمیر کے نام کر دیا گیا۔ اور سالانہ طے شدہ سرکاری چھٹیوں میں ایک اور چھٹی کا اضافہ ہو گیا۔

جناح روڈ کوئٹہ پر واقع ہمارے سکول کی بہت ساری خوبیوں کے ساتھ ساتھ ایک بڑی خوبی اس سکول کی روایات تھیں۔ اور ان کو نبھانے کے لیے اساتذہ کی کوششیں واقعی قابل داد تھیں۔ اب تو خدا جانے کیا حالات ہوں گے۔

ہرکام اور ہر تقریب ایک معین وقت پر ہوتے۔ چونکہ پانچ فروری جب بھی آتا اس وقت ہم سردیوں کی چھٹیوں کا لطف لے رہے ہوتے تھے لیکن بقایا اہم دنوں کی تعطیلات کو خوب زور شور سے منایا جاتا۔ اور سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوتی تھی کہ ہم اس دن کلر ڈریس میں بغیر بستہ لیے سکول آیا کرتے تھے۔ تقریب سے لطف اندوز ہوتے اور پھر گھر کو روانہ ہو جاتے۔

ایک اور اہم بات یہ تھی کہ چودہ اگست، چھ ستمبر، بارہ ربیع الاول اور محرم الحرام جیسے دن کو منانے کی تیاریاں بہت پہلے سے شروع ہو جاتی تھیں۔ ہر کلاس سے بچے حصہ لیتے اور انہیں باقاعدہ تیاری کروائی جاتی۔ جس سے نہ صرف اس دن کی اہمیت اجاگر ہوتی بلکہ بچوں کو شعوری طور پر بھی اپنی اساس کو سمجھنے میں مدد ملتی۔ اور اب تویہ حال ہے کہ بزم ادب جیسا پیریڈ ویسے ہی ناپید ہو چکا ہے۔ اور اگر کہیں کوئی تقریب کرنا مقصود بھی ہو تو اصل دن کے بعد ہوتی ہے جو کہ بے اثر ہوتی ہے۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں جب کبھی بچوں کو مطالعہ پاکستان یا تاریخ پڑھاتے ہوئے واقعات کو تواریخ کے ساتھ بیان کرتا ہوں تو بچے حیران ہوتے ہیں کہ آپ کو یہ سب کیسے یاد رہ جاتا ہے؟ حالانکہ یہ سب کچھ بچپنے سے یاداشت کا ایسا حصہ بنا ہے کہ آج بھی نہیں بھولتا۔

اور آج کل جس طرح روز مرہ کے معمولات سے ہٹ کر ایک دن سرکاری طور پر چھٹی کا مل جاتا ہے تو وہ بے لطف سا دن ہوتا ہے کیونکہ اس میں کچھ بھی روٹین کا نہیں ہوتا اور ہم ہیں کہ اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنے پر تلملا اٹھتے ہیں۔ اور نہ اس طرح کی کوئی تقریب میں شمولیت ہمارے ایجنڈے کا حصہ ہوتی ہے تو پھر سوائے دیر تک سونے یا دیر سے ناشتہ نما لنچ کے اور کچھ نہیں بچتا۔ اور پھر شکوہ بھی اپنی نئی نسل سے کہ انہیں کچھ پتا نہیں۔ بھئی ان بچوں کو کیسے پتا چلے گا جبکہ ہم خود سب بھول چکے ہیں۔

آرٹیکل 370 کے بعد پانچ اگست 2019 سے پانچ فروری 2020 تک ان 180 دنوں میں مسلم اُمہ نے بالعموم اور پاکستان نے بالخصوص ایسا کیا خاص کیا جس سے ہمارے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کی داد رسی ہوئی ہو۔

کم ازکم اس ایک دن ہم کچھ تو ایسا کر لیں جس سے ہماری اپنی شناخت اتنی بہتر ہو جائے کہ باقی دنیا ہماری آواز میں کشمیر کے درد کو محسوس کر سکے۔ اس ایک دن کی چھٹی نے معیشت کو آگے بڑھانے کی بجائے مزید تعطل میں ڈال دیا۔ اور ہم نے وہ جو ایک ضرب الامثل سن رکھی ہے ”جس کے گھر دانے، ان کے کملے بھی سیانے“ کو ہی مدنظر رکھیں تو بات واضح ہوتی ہے کہ جن ممالک کی معیشت بہتر ہے انہی کی بات میں وزن ہے۔ خدارا اپنی بات منوانے کے لئے اپنی معیشت کی طرف توجہ دیں۔ اور کشمیر کے درد پہ واہ کی بجائے ان کی آہ کو سمجھیں، کیونکہ ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کا یہ شکوہ ہے کہ

ہمارے درد پہ فقط واہ کی گئی

ہماری آہ کو سمجھا نہیں گیا۔

کشمیر کا خیر اندیش ایک پاکستانی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *