روح پر وار کرتے روحانی والدین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ ہفتے قبل رابعہ خرم صاحبہ کی ایک پوسٹ نظر سے گزری، پڑھ کے بہت افسوس ہوا۔ پوسٹ تھی ان کے بچے کے بارے۔ بچے کی ٹیچر نے بچے کی کٹنگ نہ ہونے پر اس کے سر کے بال سامنے پیشانی سے اس طرح کاٹے کہ سر کی جلد نظر آنے لگی بچہ گھر آیا تو اس نے کسی سے کچھ نہ کہا۔ بس جلدی سے سو گیا۔ سوتے بچے کو پیار کرنے لگیں تو نظر اس خالی جلد پر پڑی۔ بچے سے پوچھا تو پتا چلا کہ اس کی ٹیچر نے کٹنگ نہ کروانے پر ریمائنڈر کے طور پر ٹکی لگائی ہے یعنی ہاتھ میں پکڑ کے خود ہی بال کاٹ دیے تاکہ بچہ ہر صورت اگلے دن کٹنگ کروا کے آئے۔ اس کے بعد انہونے غصّے اور رنج کے ساتھ پرنسپل سے بات کی پرنسپل نے معذرت کی اور ٹیچر سے بات کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔

مجھے لگتا تھا کہ ہمارے ملک میں جہاں اتنا کچھ بدلہ ہے تھوڑی بہت تبدیلی سوچ میں بھی آئی ہوگی لیکن بدقسمتی سے پوسٹ پہ ٹیچر کی حمایت میں ڈھیروں کمنٹس دیکھ کے بہت ہی دکھ ہوا خاص طور پہ ان کمنٹس پہ جو ٹیچروں کی طرف سے آے تھے۔

بچپن کی سہانی یادوں میں کچھ بد نما سے ہیلوے ان یادوں کے بھی ہیں جن کو سرے سے مٹانے کا دل چاہتا ہے۔ انہی میں سے ایک یاد اس قسم کی بھی ہے۔ کے جی ٹو کے گول مٹول کیوٹ سے بچے لیکن ٹیچر کی بنائی ہوئی چھوٹی چھوٹی سی کھجور کے درخت سی پونیوں پہ شرمندہ شرمندہ سر جھکاے کبھی ایک کلاس کے سامنے کھڑے کر دیے جاتے تو کبھی دوسری کلاس میں گھماے جاتے۔ چھوٹے چھوٹے ذہنوں میں ننھی منھی سوچیں لئے بے خبر کہ ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے لیکن اس بات سے شدید آگاہی کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے کچھ بہت برا ہو رہا ہے۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رک گیا۔ دوسرا اسکول دوسرے بچے، بے عزتی کے احساس سے شرمندہ جھکے جھکے سر اور ان کے سر پہ بنائی ہوئی وہی پونیاں۔ آرٹیکل پڑھ کے پتا چلا ہم نے ترقی کرلی ہے اور اب پونیوں کی جگہ قینچی نے لے لی ہے۔

کتنی عجیب سی بات ہے سالوں گزر گئے، دنیا بچے کی نفسیات سمجھنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی ہے۔ پیرنٹنگ پہ لکھے مضامین سے رسالوں پہ رسالے بھرے جا رہے ہیں۔ بچوں کی نشو نما، ذہنی آسوندگی، رویے، اور دماغ میں مچلتے بے شمار سوالات سے نمٹنے کے لئے پوری دنیا میں طرح طرح سیمینار ہو رہے ہیں اور ہمارے ہاں بچے کے بڑھتے ہوے بالوں سے نمٹنے کا کوئی طریقہ اور سلیقہ دریافت ہی نہیں ہوا۔ آفرین ہے بھئی۔

جن روحوں نے ابھی درسگاہوں پہ فقط پہلا قدم دھرا ہے ابھی عملی زندگی کی باگ ڈور سمبھالنی ہے کئی مسلئے مسائل اور مشکلوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے اعتماد اور ہمت سے سینہ سپر ہو کے کھڑا ہونا ہے ان کے اعتماد اور عزت نفس کو پہلے ہی قدم پہ روند دیا جائے تو کیسا ہے؟

اعتماد وہ زینہ ہے جس پہ اگر پہلا قدم ڈگمگا جائے تو آدمی زندگی بھر پاؤں جمانے کی کوششوں میں ہلکان رہتا ہے چاہے وہ کسی بھی قسم کا ہو۔ میری ایک مثال سنئے۔ پرائمری کے گریڈ میں تقریر کا شوق ہوا۔ ان دنوں ہمارے اسکول میں ایک خاتون پرنسپل ہوا کرتی تھیں۔ ساڑھی پہن کے اونچا سا جوڑا بناتیں اور ٹیچر گاؤن پہنے ٹک ٹک کرتی ہیل پہ چلا کرتیں تو واقعی پرنسپل والا لک آتا شاید اسی لئے اسکول نے انھیں پرنسپل رکھ لیا تھا۔

چھ ستمبر آیا تو امی نے بڑی اچھی سی تقریر لکھ دی۔ ہم نے ٹیچر سے کہا کے ہم روزانہ ہونے والی اسمبلی میں تقریر کریں گے۔ اصولا تو اسمبلی سے پہلے ٹیچر کو تقریر سنی چاہیے تھی اور مناسب تصیح کرنی چاہیے تھی لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ جب ہم پورے اسکول کے سامنے تقریر کرنے کھڑے ہوے تو انداز تو تقریر والا تھا لیکن رفتار تھوڑی تیز ہوگئی۔ تقریر ختم ہوتے ہی اسمبلی میں موجود بچوں نے تو حسب معمول تالیاں پیٹنی شروع کر دیں لیکن پرنسپل صاحبہ نے تبصرے اور تصیح (جو کہ تضحیک محسوس ہوئی ) کے لئے نجانے کیوں وہی وقت مناسب جانا اور حوصلہ افزائی تو دور کی بات سخت سے لہجے میں کچھ اس قسم کا تبصرہ کیا ”اتنی اچھی تقریر تھی لیکن آپ نے اتنی تیز تیز پڑھی کہ کسی کے کچھ سمجھ نہیں آیا ہوگا“ وغیرہ وغیرہ، ہم نے ہونقوں کی طرح سننے کے بعد تقریر تہ کر کے رکھ دی اور مرے مرے سے قدموں سے واپس آ گئے۔

وہ زندگی کی پہلی اور آخری تقریر تھی۔

کئی سالوں بعد جب نویں جماعت کی فریول میں ٹائٹل پڑھنے کا موقع ملا تو خوب واہ واہ ہوئی کئی ٹیچرز نے حوصلہ افزائی کی اور یہ بھی کہا کے تقریب آپ کو کمپیرنگ کرنی چاہیے تھی۔ اس سے بڑے عرصے بعد حوصلہ ہوا اور میٹرک میں باقاعدہ مائیک سنمبھال لیا یہ سلسلہ چل نکلا اور یونیورسٹی میں بہت سے مواقعے اور حوصلہ افزائی کرنے والے لوگ میسر آے اور مائیک، اسٹیج اور میزبانی سے پکّی دوستی ہو گئی لیکن ہر جگہ ہر شوق پورا کرنے کے باوجود تقریر سے دل برا سا رہا اور جب بھی ایسا موقع آتا اسکول کا وہ پرانا منظر آنکھوں میں بد نما سا ہیولا بن کے گھوم جاتا۔ اللہ بھلا کرے ان پرنسپل کا جانے کتنے متوقع پنڈال ان کے ایک لہجے اور تبصرے کی نظر ہو گئے۔

والدین کے بعد اسکول اور استاد بچے کی عادات شخصیت اور کردار کی تخلیق میں ایک ستون کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کی مثال کچھ ایسی ہے کہ جنہوں نے آگے جا کے دنیا اور ملک بنانا اور سنوارنا ہے ان چلتی پھرتی اور سوچتی مشینوں کے کاریگر دراصل والدین اور اساتذہ ہوتے ہیں، اب کہاں کون کس سانچے میں ڈھالا جا رہا ہے اور کہاں کس پرزے میں کاریگر کی بے پرواہی اور نکمے پن سے فالٹ آجاے کافی حد تک اس کی ذمے داری ان جوہریوں پہ ہی ہوتی ہے جن کی تراش خراش عام پتھروں کو ہیروں میں تبدیل کر دیتی ہے۔

ان منفی رویوں کی سب سے بڑی اور بری وجہ یہ ہے کہ جس پیشے کو سب سے زیادہ قابل لوگوں کو سنبھالنا چاہیے وہ ہر ایک کی دسترس میں ہے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ سب استاد ہی نالائق ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی پوری محنت، دیانتداری، سنجیدگی اور سمجھداری کے ساتھ اس پیشے سے منسلک ہیں اور اپنا کردار بخوبی نباہ رہے ہیں لیکن ہمارے ملک میں بد قسمتی سے ٹیچر بننے کا کوئی خاص کرائٹیریا نہیں ہے۔ جو تھوڑا سا فارغ ہوتا ہے یا وقت گزاری کے لئے تھوڑے سے پیسے کمانا چاہتا ہے اسے اس کی تعلیمی قابلیت کے مطابق اسے کم پیسوں میں ٹیچر رکھ لیا جاتا ہے۔

اگرچے کسی کسی انسٹیٹوشن میں حالات تھوڑے بہتر ہیں لیکن مختلف اسکولوں اور تعلیمی نظام کی بھرمار نے اس ا علیٰ پیشے کو ہر کس و ناقص کی دسترس میں لا پٹخا ہے۔ اب وقت گزاری کے لئے آئی ٹیچر یا انٹر کے بعد چھٹیاں مناتی ٹیچر کا وژن اور ایکسپوزر خود کتنا بڑا ہوگا جو وہ بچے کی شخصیت کو کوئی تعمیری شکل دے سکے؟ اس لیے یہ معملا آخر میں فقط قسمت پہ منحصر ہو جاتا ہے آپ کے بچے کے حصّے میں اچھا استاد آگیا تو الحمدللہ لیکن کوئی جہالت کی ماری چیختی چلاتی قینچی چلاتی مخلوق سے واسطہ پڑ جائے تو بڑے ہو کر ایسے ہی لوگ ووجود میں آتے ہیں جو پوری کلاس کے سامنے بچے کے بال کاٹنے کے رویے کو مناسب خیال کرتے ہیں اور ٹیچر کی حمایت میں تبصرے لکھتے ہیں۔

میں یہ نہیں کہتی کہ بچوں کی بد تمیزیاں ہنس کے نظر انداز کی جایں اور ان کو شتر بے مہار چھوڑ کر نظم و ضبط کو قطعاً فراموش کر دیا جائے لیکن نظم و نسق کو قائم رکھنے کے ان بیہودہ حرکتوں کے علاوہ بہت سے اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں۔ اساتذہ بچوں کے رول ماڈل ہوتے ہیں اگر آپ کو خدا نے اس پیغمبری پیشے کے لئے چنا ہے تو اپنا منصب اور مقام پہچان کر اپنی اور خود سے منسلک روحوں کی قدر و منزلت کا خیال کریں اور ان کے لئے اچھی یاد اور اچھی مثال بنیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *