عمران خان کی حکومت ختم نہ کرنے کی وجہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‎پاکستان میں سیاست اور جمہوریت اکٹھے چلتے نظرنہیں آتے۔ سیاست میں سب کی سننی پڑتی ہے اور جمہوریت کسی کی سنتی بھی نہیں۔ کپتان عمران خان جمہوریت کے ستم کا شکار ہے۔ اس کو سیاست کے کھیل کے اصولوں کا پتا نہیں، پھر اب وہ زمانہ نہیں کہ اکیلا کھلاڑی پانسہ پلٹ سکتا تھا۔ پاکستان میں سیاست کا کھیل بڑے دلچسپ مرحلہ میں داخل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ دعوے بہت ہو رہے ہیں کہ 2020 میں سیاست کا رنگ بہت بدل سکتا ہے۔ اس کا جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ سیاست کے بڑے کھلاڑی پاکستان میں سرکار کو چلانے والے اداروں کے ساتھ بامقصد گفتگو سے آئندہ کے معاملات طے کرنے کے لئے خاموش ڈپلومیسی میں مصروف عمل ہیں۔

اس وقت پاکستان کے سیاسی مسائل کے لئے لندن میں بھی کچھ لوگ بہت ہی مصروف ہیں۔ پاکستان معاشی طور پر عالمی اداروں کے پاس یرغمال بنا ہوا ہے۔ عمران خان نے بڑے عزم سے سوچا تھا مگر قومی مفاد کے نام پر ہمارے اہم اداروں نے عالمی معاشی اداروں کے ساتھ مل کر عمران خان کو مایوس کیا اور عمران خان کو اپنے اصولوں پر سودے بازی کرنا پڑی۔

‎میں گزشتہ سال ملک سے باہر آیا تھا اور اب واپسی کی تیاری ہے۔ سنا ہے وطن میں بھی موسم سرد اور سیاست گرم ہے۔ کچھ ایسا ہی حال احوال شمالی امریکہ کا ہے۔ امریکہ عالمی بدمعاش کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں سب کچھ برباد کر چکا ہے اور اس کا پرچار ضرور کرتا ہے مگر بدمعاشی سے باز نہیں آ رہا۔ اپنے حلیفوں کے ساتھ بھی دھونس اور دھاندلی کرتا رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ اپنے ملک کی جمہوریت اور سیاست سے بہت تنگ تھے پھر انہوں نے عالمی سیٹھوں سے مدد مانگ ہی لی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے یقین دہانی کرا دی کہ آپ کے خلاف مواخذہ ہو ہی نہیں سکتا اور قیمت لگائی فلسطین۔ ٹرمپ نے فوراً ہی قیمت ادا کی اور فلسطین بھی مقبوضہ کشمیر کی طرح اسرائیل سے جوڑ دیا گیا اور پھر جمہوریت کے ناخدا اور دعویداروں نے فیصلہ کیا کہ ٹرمپ نے کوئی بھی بدانتظامی اور خلاف قانون کام نہیں کیا۔ اب وہ اگلے انتخاب کی تیاری کر رہے ہیں کچھ ایسا ہی مواخذہ ہمارے ہاں سیاسی لوگوں کا ہونے جا رہا ہے۔

پاکستان کے اہم ادارے جن کو کچھ عرف عام میں اسٹبلشمنٹ کا فرضی نا م دیتے ہیں ان کا اور اشرافیہ بڑا تال میل ہے۔ ‎اب اشرافیہ خطے کی صورتحال کے مدنظر اندرون ملک میں سیاست کے نئے عمرانی معاہدے کے لئے غور و فکر کر رہی ہے۔ اس معاہدہ میں نواز شریف عدالتی فیصلوں کی وجہ سے قابل توجہ نہیں رہے نواز شریف اس مرحلہ پر پنجاب کے سابق خادمِ اعلیٰ سے بھی مایوس نظر آ رہے، پنجاب کے سابق داروغہ جی نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کچھ دے دلا کر مریم صفدر کو بھی لندن لا سکیں گے اور اس معاہدہ میں ایک اور خاموش کردار مسلم لیگ نواز کے حالیہ حلیف سابق صدر آصف علی زرداری کا بھی ہے۔ آصف علی زرداری مکمل خاموشی سے تعاون کر رہے ہیں۔ بلاول زرداری تاہم رنجیدہ اور شرمندہ شرمندہ نظر آتے ہیں ان کا کہنا ہے ہم نے اپنے اثاثے بچانے کے لئے بہت زیادہ قیمت دے دی ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں بلاول کے ساتھ زیادہ عرصہ چلتی نظر نہیں آتی۔

اب وزیراعظم عمران خان کو اندازہ ہوتا جا رہا ہے کہ وہ اکیلا اس جنگ کو جاری نہیں رکھ سکتا۔ پھر اس کی کابینہ کے لوگ مسلسل عوام اور عمران کو مایوس کر رہے ہیں۔ اس کی کابینہ میں بھان متی کا کنبہ آن بسا ہے جو بالکل قابل اعتبار نہیں۔ پھر عالمی معاشی ادارے اور ہماری اسٹیبلشمنٹ جو بڑے قومی اداروں پر مشتمل ہے، عالمی معاشی اداروں کے ساتھ ہے اور ان کے گٹھ جوڑ نے ہی فیصلہ کیا تھا کہ عمران خان کو آزمایا جائے اور اس وقت کوئی اور قابل اعتبار کھلاڑی دستیاب نہ تھا اور کچھ عرصہ تک بیان بازی ہوتی رہی کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، مگر ہوا کیا، عمران خان کو باور کرایا گیا کہ پاکستان کی معاشی بدحالی اور بیماری کا علاج صرف اور صرف آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس ہے۔ وہ آپ کا لحاظ بھی کرتے ہیں۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کو اس سودے کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑی۔ جب دوست ملکوں نے دستِ شفقت سے معذرت کر لی۔ اسد عمر جو ایک قابل عمل طریقہ طے کر چکے تھے، ان کو شدید دباؤ کے کارن اپنی وزارت چھوڑنی پڑی۔

‎ اتنی بڑی قربانی کے بعد بھی پاکستان کی معیشت بدحال ہی ہے۔ اگرچہ اہم قومی اداروں کی مداخلت سے بیرون ملک سے کچھ رقم آئی ضرور ہے مگر آئی ایم ایف کی مداخلت ملک کے سیاسی اور معاشی ماحول کو مسلسل خراب کر رہی ہے۔ عمران کی سرکار آئی ایم ایف کے سامنے بے بس ہے۔ پھر عمران خان نے کوشش کی کہ اعلیٰ عدلیہ ان کی رہنمائی کرے اور انہوں نے شکایتی انداز میں سابق چیف جسٹس آصف کھوسہ کو کہا تھا کہ ”انصاف اور قانون غریب کے لئے اور امیر کے لئے اور ہے“۔

یہ بامعنی جملہ نہ صرف سابق چیف جسٹس آصف کھوسہ کو پسند نہیں آیا بلکہ اسٹیبلشمنٹ نے بھی برا منایا اور آصف کھوسہ صاحب نے اپنے رخصت ہونے سے پہلے ایک ایسا کٹا کھول دیا کہ جمہوریت اور سیاست دونوں ہی داؤ پر لگ گئے۔ پھر کیا ہوا تمام سیاسی لوگوں کو بتایا گیا کہ مل کر حل نکالو اور شکر ہے حل نکل آیا اور سب نے مل ملا کر مسئلہ ختم کردیا۔

‎مگر اس ساری مشق کے بعد سیاست اور سیاست دان قابل اعتبار نہیں رہے۔ عمران خان کی سرکار کمزور ہے تو سیاست اور جمہوریت کے چمپین اس کو ختم کیوں نہیں کراتے۔ اس لئے کہ اس وقت کوئی اور قابل اعتبار کھلاڑی مل نہیں رہا۔ بھارت میں بھی معاشی اور سماجی مسائل مودی سرکار کو کمزور کر رہے ہیں۔ یہ خطہ تجارت اور کاروبار کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کے لئے اہم ہے اب صدر ٹرمپ انتخابات کے لئے دونوں ملکوں کو تنگ کر یں گے اور ہوسکتا ہے بھارت کو مختصر جنگ کے لئے مشورہ بھی دے دیں۔

پاکستان کے سیاست دان ذرا بھی معاملہ فہمی کے لئے تیار نہیں۔ اب مولانا فضل الرحمٰن جلد ہی میدان میں اترنے والے ہیں مگر ہوگا کچھ نہیں۔ ابھی اعلیٰ سرکاری اداروں کو عمران خان کی ضرورت ہے۔ عمران خان کی سرکار مریم صفدر کے معاملہ پر غور کرنے کو تیار ہے اگر سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم کچھ اور بھی دینے کو تیار ہوں اور پھر اس کے بعد اگلے الیکشن کا سوچا جا سکتا ہے۔ پنجاب میں نئے کھلاڑی لگتا ہے اس بجٹ کے بعد نمودار ہوں گے۔ آخر کار مشورہ اور مشاورت پاکستان کی اعلیٰ عدالت نے دینا ہے تاکہ عدالت پر عوام کا اعتماد پختہ ہوسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *