سیاسی شطرنج پر ’پاور بروکرز‘ کا کھیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمر چیمہ صاحب کی سٹوری ’مسلم لیگ (ن) کے اقتدار کے لئے پاور بروکرز کے ساتھ مذاکرات‘ میں ایک جملہ مسکراہٹ بکھیر گیا کہ ”پاور بروکرز کی جانب سے تمام تر مذاکرات کے باوجود شریف اور چوہدری برادران کو چھوڑ کر نئی پارٹی بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں“

یہ جملہ پڑھ کر کچھ عرصۂ پہلے کے واقعات ذہن میں تازہ ہو گئے۔ گزشتہ اکتوبر میں مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا اسلام آباد پہنچا ہی تھا کہ احسن اقبال کا ’پینوگ‘ میں ایک انٹرویو پڑھا۔ انٹرویو میں اس خواہش کا اظہار کیا گیا تھا کہ اگر کوئی ان ہاؤس تبدیلی آتی ہے تو مسلم لیگ ن اس کا حصہ بنے بغیر عبوری حکومت کی حمایت کر سکتی ہے۔ یہ انٹرویو ایسے وقت میں آیا تھا جب شاید کسی کو بھی آگاہی نہیں تھی کہ تبدیلی کس طرح سے آ سکتی ہے۔ دھرنے سے قبل آرمی چیف اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ہونے والی ایک تلخ ملاقات کی خبریں بھی سامنے آئیں اور پھر اس دھرنے کو ہم نے اچانک ختم ہوتے بھی دیکھا۔

اس دوران نواز شریف طبعیت زیادہ بگڑنے پر جیل سے ہسپتال منتقل ہوئے اور پھر کچھ عرصۂ میں بیرون ملک چلے گئے۔ آرمی چیف کی ایکسٹینشن پر ایک پیچیدہ صورتحال بنی لیکن اس تمام عرصۂ میں مسلم لیگ ن سمیت تمام جماعتیں مکمل خاموش رہیں اور کسی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ایکسٹینشن بل کی منظوری کے موقع پر مسلم لیگ ن کو اپنے حامیوں کی جانب سے ”غیرمشروط حمایت“ کرنے پر بہت زیادہ تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس سب کے باوجود جماعت کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ گویا کہیں نہ کہیں پس پردہ کچھ نہ کچھ ہو رہا تھا۔

خبر کے مطابق طرز حکمرانی کے بد سے بدتر ہو جانے پر ایک اہم افسر دوماہ قبل لیگی قیادت سے مذاکرات کے لئے لندن گئے۔ مرکز کے علاوہ پنجاب میں بھی ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے مذاکرات ہوئے۔ انہی دنوں میں ہواؤں کا رخ بدلنے کی بازگشت بھی سنائی دی۔ اتحادیوں نے بھی پر پرزے نکالنا شروع کر دیے اور اسیران نیب کی ضمانتوں کا موسم بھی شروع ہو گیا۔ وزیراعظم اور وزیراعلی کے لئے ناموں پر بھی تبادلہ خیال ہو گیا۔ واضح طور پر ایک خاموش مفاہمت محسوس ہو رہی تھی۔

کرپشن کے خلاف عمران خان نے تمام جماعتوں سے جو صاف شفاف لوگ اکٹھے کیے تھے اب ان کی کرپشن داستانیں بھی زبان زدعام ہو رہی ہیں۔ خسرو بختیار، جہانگیر ترین۔ عامر کیانی اور افتخار درانی سمیت بہت سے لوگوں کا نام اربوں روپے کی کرپشن کے ضمن میں لیا جانے لگا۔ خبیرپختنخوا میں پولیس اور صحت کے نظام کی مثالیں دی جاتی تھیں لیکن یکایک ان سب میں خرابیاں نظر آنے لگیں۔ پھر ہم نے دیکھا کہ جو صرف ایک سال میں ہی کایا پلٹ گئی اور جو زیر عتاب تھے نہ صرف ان سے بات چیت بلکہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ پاکستان میں بھی اور بیرون ملک بھی۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ اس حکومت کی بری طرز حکمرانی سے پھوہڑ پن کی ایسی مثالیں قائم ہوئی ہیں کہ مقتدر حلقوں کو بھی ان سے مذاکرات کرنا پڑ گئے کہ جنہیں مثبت رپورٹنگ کے نام پر جائز تنقید کی بھی اجازت نہیں تھی، لیکن اس سب کے باوجود پاور برکرز کی جانب سے ایک بار پھر ایک نئی جماعت بنانے کی کوشش یہ ظاہر کرتی ہے کہ ابھی بھی کچھ جگہوں پر معاملات طے نہیں ہو رہے۔ یہ بھی لگ رہا ہے گزشتہ تجربے کی بھرپور ناکامی سے بھی ہمارے ارباب اختیار کو کچھ فرق نہیں پڑا۔ اب وہ ایک بار پھر ایک نئے تجربے کی جانب گامزن ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ اس وقت ’سلیکشن‘ کے ایک اور تجربے کی متحمل ہو سکتی ہے۔ اگر 2018 الیکشن سے پہلے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود مسلم لیگ ن میں کوئی بہت بڑا شگاف نہیں ڈالا جا سکا تو اب اس حکومت کی بدترین کارکردگی کے بعد کیسے کوئی رہنما ڈوبتی کشتی کی جانب جانے پر آمادہ ہو گا۔ ہر طرح کے منفی پروپیگنڈے کے باوجود مسلم لیگ ن کو سوا کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کیے۔ اب تو نہ صرف عوام خود سراپا احتجاج ہیں بلکہ دونوں ادوار کا تقابلی جائزہ بھی لیتے ہیں کہ کون سا دور اچھا تھا۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا واقعی میں پرانے مسلم لیگی رہنما کوئی ایسا چمتکار کر سکتے ہیں کہ تمام مسائل کا حل نکل سکے تو میری دانست میں اس کا جواب ’نہیں‘ ہے۔ نئی پارٹی کی کوشش صرف دباؤ کا ایک ہتھکنڈا تو ہو سکتی ہے لیکن نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔

اگر عوام کی مرضی کیے خلاف ایک اور سلیکشن کی کوشش کی گئی تو نہ صرف سلیکٹرز کی رہی سہی ساکھ ختم ہو گی بلکہ بربادیوں کی ایسی انمٹ داستانیں رقم ہوں گی کہ ان کا ازالہ شاید نسلوں سے بھی ممکن نہ ہو۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نواز شریف اسی حکومت کو جاری رکھنا چاہتے ہیں تاکہ پاور بروکرز کو بھی احساس ہو سکے کہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرنا چاہیے لیکن معاشی تباہی کی موجودہ صورتحال خوفناک ہے۔ ماہر معاشیات حفیظ پاشا کے مطابق شرح ترقی اسوقت 1.9 فیصد ہے اور رواں سال کے اختتام تک 1.2 فیصد سے بھی کم ہونے کا امکان ہے۔ صنعتی ترقی اور زراعت میں بھی منفی گروتھ ہے۔ مہنگائی اور بیروزگاری انتہائی کا ایسا طوفان آنے والا ہے کہ شاید حالات سنبھالنا کسی کے بھی بس میں نہ ہو۔ اس حکومت کو مدت پوری کرنے دی تو شاید سلیکٹرز کو ایک سبق تو حاصل ہو جائے لیکن غریب عوام کو جو قیمت ادا کرنی پڑے گی اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

عمران خان کے اسمبلیاں توڑنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ لیکن غالب امکان ہے کہ عمران خان اسمبلیاں نہیں توڑ سکیں گے اگر ایسا کچھ ہوا تو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے یہ کوشش ناکام بنائی جا سکتی ہے۔ گزشتہ دھرنا میں خیبرپختنخوا اسمبلی کو توڑنے کی کوشش کے دوران اس کا عملی مظاہرہ بھی ہم دیکھ چکے ہیں۔

آخر بداعتمادی کا امکان کہاں ہو سکتا ہے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ کچھ آئینی اصلاحات کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کو بہت زیادہ تحفظات ہیں اور وہ کچھ چیزوں کو صوبوں سے واپس وفاق میں لے جانا چاہتے ہیں۔ دونوں جانب بداعتمادی دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اقدامات ایسے کیے جائیں کہ دونوں فریقین مطمئن رہیں۔ آئینی اصلاحات کے لئے ممکنہ حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عبوری حکومت کے دوران پہلے آئینی اصلاحات کر لی جائیں اور پھر نئے الیکشن کی طرف جایا جائے۔

سیاسی شطرنج کی بساط پر ممکنات کے اس کھیل میں دونوں فریقین اپنی اپنی جگہ پر بہت احتیاط سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ پاور بروکرز کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ان کی ایک اور غلطی کا خمیازہ آئندہ آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *