ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ایک معمولی سی بات ہے۔ سگنل پہ نہ رکنا، ون وے کی خلاف ورزی، ہیلمٹ نہ پہننا، سیٹ بیلٹ نہ باندھنا، دورانِ ڈرائیونگ فون پہ گفتگو کرنا وغیرہ۔ یہ سب وہ کام ہیں جو ہم اکثر کرتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ہمیں شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ اگر ٹریفک پولیس ان قوانین پہ زبردستی عمل کرواتی ہے تو وہ بھی ہمیں ناگوار گزرتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ کچھ دن پہلے کراچی میں ٹریفک پولیس نے ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس مہم کے دوران پولیس نے 15 روز میں ایک کروڑ سے زائد جرمانہ کیا۔ 71 ہزار سے زائد چالان جبکہ 2042 مقدمات درج اور 2092 ڈرائیوروں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ مہم پندرہ سے بیس روز جاری رہنے کے بعد ختم ہوگئی۔ المیہ مگر یہ ہے کہ کراچی کے شہریوں کو پولیس کی یہ کارروائی بالکل پسند نہیں آئی اور بہت سے لوگوں نے اس پہ تنقید کرتے ہوئے مؤقف یہ اپنایا کہ پولیس ہمیں مجرم بنارہی ہے یہاں تک کہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اس پہ سوالات اٹھا دیے جبکہ حکومت سندھ کے مشیر قانون جناب مرتضیٰ وہاب نے عوام کو یہ ”خوشخبری“ بھی سنائی کہ اب اس معاملے میں کوئی گرفتاری نہیں ہوگی اور جیسا کہ میں نے بتایا کہ اب یہ مہم ختم کر دی گئی ہے

ایک طرف ہم یہ شکایت کرتے ہیں کہ پولیس قوانین پہ عملدرآمد نہیں کرواتی اور جب پولیس ایسا کرتی ہے تو ہم ہی لوگ اس پہ اعتراضات کرنا شروع کردیتے ہیں۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف کرتے ہوئے ہمیں ”مجرم“ بننے پہ شرمندگی ہورہی ہے مگر قوانین توڑنے پہ کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ شہریوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ پولیس یہ کام شہریوں کی بھلائی کے لئے کر رہی ہے۔ روزانہ کئی لوگ حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں کسی کی جان چلی جاتی ہے تو کوئی عارضی یا مستقل معذور ہو جاتا ہے ان حادثات کی ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین پہ عمل نہ کرنا بھی ہے۔ ذرا سی بداحتیاطی سے آپ کی یا کسی دوسرے شخص کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ تھوڑا سا صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے ٹریفک قوانین پہ عمل کیا جائے۔

جو لوگ اس بات پہ اعتراض کر رہے ہیں کہ پولیس ون وے کی خلاف ورزی کرنے پہ مقدمہ درج کرکے گرفتاری کیوں کر رہی ہے تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ گذشتہ سال گیارہ لاکھ افراد پہ ون وے کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے جرمانہ عائد کیا گیا کیا آپ کے خیال میں ان گیارہ لاکھ افراد نے دوبارہ ون وے کی خلاف ورزی یہ سوچ کر نہیں کی ہوگی کہ کوئی بات نہیں جرمانہ دے دیں گے؟ ابھی بھی لوگ یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ جرمانہ بڑھا دیں مگر مقدمہ درج نہ کریں اور گرفتاری نہ کریں اور تو اور ایک شہری درخواست لے کر سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا کہ جناب اس ”ظلم“ کو روکا جائے یہ ظلم نہیں ہے ظلم تو وہ ہے جو ہم خود اپنے ساتھ کر رہے ہیں کیا اپنی یا کسی دوسرے شخص کی جان خطرے میں ڈالنا جرم نہیں ہے؟

ہم اکثر ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دیتے ہیں کہ دیکھیں وہ کتنی ترقی کر رہے ہیں اور کتنے منظّم لوگ ہیں لیکن افسوس کہ ایسا کرتے ہوئے ہم اپنے عمل پر غور نہیں کرتے کہ آخر کیا وجہ ہے جو ہم ان کے لیول تک نہیں پہنچ پائے۔ یقیناً بہت سے معاملات میں ہمارے حکمران اور سیاسی جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں مگر بحیثیت شہری ہم بھی بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ ہمارے بھی کچھ فرائض ہیں جنہیں ہمیں پورا کرنا ہوگا اور جنہیں پورا کیے بغیر ہم ایک ذمہ دار شہری نہیں بن سکتے۔

میری رائے کے مطابق یہ باتیں بنیادی تربیت میں شامل کرنے کی ضرورت ہے جب بچے کو دیگر بہت سی باتیں سکھائی جاتی ہیں تب یہ بھی سکھایا جائے کہ شہری کی حیثیت سے اس کے کیا فرائض ہیں اور یہ والدین اور اساتذہ کو کرنا ہوگا کیونکہ وہی معاشرے کی نسل کو تیار کرتے ہیں جو آگے جا کے اپنے ملک کی ترقی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply