موٹر سائیکل کی تعلیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے آمد دو صورتوں میں ہوتی ہے، ہیلمٹ پہن کر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے یا کموڈ پر بیٹھتے ہی۔ میری بعض تحریروں کو تو پڑھتے ہی لوگوں کواندازہ بھی ہوجاتاہے۔ موٹر سائیکل عجیب سواری ہے، جب سر ہیلمٹ کے حصار میں جکڑ جاتا ہے تو صرف سامنے کی سڑک یا فٹ پاتھ نظر آتی ہے، یا پھر راستہ روکنے والی اگلی سواری، دایاں بایاں سب غائب، جیسے گھوڑے کی آنکھوں پر چمڑے کے ٹکڑے لگا دیے جاتے ہیں کہ وہ دنیا و مافیا یہ راستے میں کھڑی کسی گھوڑی کی ممکنہ موجودگی سے بے خبر صرف اپنی منزل پر دھیان رکھے۔

یہ بات میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر بتا رہا ہوں کہ موٹر سائیکل سواروں سے، خصوصاً وہ جنھوں نے ہیلمٹ پہن رکھا ہو اپنی گاڑیوں کو گز بھر کے فاصلے پر چلایا کریں۔ اُن کی آنکھیں اور موٹر سائیکل کی چونچ یعنی اگلا مڈگارڈ دائیں یا بائیں بہت معمولی ریڈئیس میں سڑک کا خالی ٹکڑا ڈھونڈتی ہیں، سوار کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ پیچھے سے کون سی گاڑی کتنی تیز آ رہی ہے۔ ہیلمٹ کے اندر کسا ہوا فوم کھوپڑی میں سب سے باہر نکلے ہوئے حصے یعنی کان میں تقریبا اُڑسا ہوا ہوتا ہے، ہارن تو چھوڑیئے بعض دفعہ ہیلمٹ میں اپنی بے سرُی گنگناہٹ بھی سنائی نہیں دیتی۔

موٹر سائیکل والوں کی کچھ دلچسپ باتیں ہیں جن پر وہ شاید اس سواری کی یہاں آمد کے ساتھ ہی سے کاربند ہیں۔ اوّل۔ راہ دوڑتی کسی موٹر سائیکل کا اسٹینڈ لٹکا ہوا نہ ہو، اگر کوئی بھائی یہ آج کل کے دور میں کوئی بہن بھی، بغیر اسٹینڈ اٹھائے بائیک چلا رہا یہ رہی ہے تو ہر بائیکئے کا برادرانہ فرض ہے کہ وہ اپنی رفتار تیز کر کے اسے مطلع کرے، یہ فریضہ عام طور پرمنہ سے بتانے کے بجائے اشارے سے ہی ادا کیا جاتا ہے۔ خراب اسٹینڈ والے بعض دفعہ ساراراستہ، ہاتھ کے اشارے سے، پتہ ہے، پتہ ہے۔ کر کے کاٹتے ہیں، یا تنگ آکر اسٹینڈ کسی سُتلی کی مدد سے چین کوَر کے ساتھ باندھ لیتے ہیں۔ دوسرا فریضہ گاڑی کے دروازوں سے باہر نکلے دوپٹوں، شالوں اور رومالوں کے کونوں کناروں کی نشاندہی ہے۔ یہاں چونکہ معاملہ صنف نازک اور پھر اوڑھنی کو لیکر غیرت کا ہوتا ہے لہذا پھٹپھٹیوں کو بھی پر لگ جاتے ہیں، ایکسکیوزمی کے ساتھ باجی، بہن اور خالہ لگاکر مخاطب کیا جاتا ہے۔ اپنے جیسے موٹر سائیکل والوں کی مستورات کی ساڑیوں کے پلوّ، چادریں، برقعے، عبائے اور دوپٹے پچھلے پہیئے یا چین کور میں آنے سے بچانا بھی بائیکرز کی نیندیں اڑا دیتا ہے۔

شِکروں کی آنکھیں سی ڈی سیونٹی میں بھی آٹھ سو سی سی ہیوی بائیک جیسی طاقت لے آتی ہیں۔ کراچی میں گنجی بائیکیں چلانے بلکہ اُڑانے والی ناہنجار پارٹی، لونڈوں لپاڑوں اور مرمت کے لئے آنے والی بائیکوں پر عیاشی حق سمجھتے مستریوں پر مشتمل ہے، گنجی یوں کہ ان موٹر سائیکلوں میں انجن، ٹائرز اور ہینڈل کے علاوہ سب کچھ نکال دیا جاتا ہے کہ وزن میں ہلکی رہیں اور تیز چلیں۔ پر نچے چوزوں کی مانند یہ موٹر سائیکلیں کسی شاہراہ پر آتی ہیں تو ہڑبونگ مچ جاتی ہے۔

ہیوی ٹریفک میں بمپر ٹو بمپر خراماں خراماں بڑھتی گاڑیوں کے بیچ میں سے ایسے جگہ بناتی ہیں جیسے سڑک پر چھوڑی ہوئی پانی کی دھار کئی حصوں میں تقسیم ہوکر ڈھلان کا رخ کرتی ہے۔ خالی سڑک پر یہ نمونے شعبدے باز بن جاتے ہیں۔ بائیک کی گدی پر پیٹ کے بل لیٹ کر ٹانگیں سیدھی کر لیتے ہیں جس سے رفتار مزید تیز ہوجاتی ہے۔ شلوار کی ایجاد کا ایک مقصد مجھے یہ بھی سمجھ آیا کہ اس طرح سے لیٹ کر بائیک چلانے سے یہ پھول جاتی ہے، دور سے لگتا ہے جیسے سڑک پر کوئی منی کونکارڈ طیارہ اڑان بھرنے کے لئے ٹیکسی کر رہا ہے۔

ہمارے ہاں سڑک پر چلنے والی موٹر سائیکلوں کا ایک ماڈل اتنا مضبوط ہے کہ ایک گوالے کے بقول دودھ کے بھرے ہوئے بنٹوں پر بھینس بھی باندھ دی جائے تو اُسکی گاڑی چلتی رہے گی۔ سوشل میڈیا پر کچھ ایسی تصاویر نظروں سے گزریں ہیں جس میں موٹر سائیکل سوار گائے، ریفریجریٹر، صوفے اور بیوی مع چھے بچے لئے جارہے ہیں، لہذا کوئی بعید نہیں کہ کل کلاں کو گوالہ بھینس بٹھانے کا ریکارڈ بناکر ٹی وی چینلوں کے مارننگ شوز میں بیٹھا نظر آئے۔

میری لوگوں سے گزارش ہے کہ ہیلمٹ پہنا کریں، ہمارے ہاں بارشیں سال میں ایک آدھ بار ہوتی ہیں لیکن ایکسیڈنٹس آئے روز ہوتے ہیں، کھوپڑی کی ضرب اگلے کی ناک کی ہڈی اور سڑکوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ جو موٹر بائیک والے یہ سمجھتے ہیں کہ تیرہ اگست کی رات سائلنسر نکال کر سی ویو جانے سے جشن آزادی کی خوشی دوبالا ہوجاتی ہے، ٹریفک پولیس والوں کو چائیے کہ چالان کرنے کے بجائے ان کا نرخرہ نکال لیں اور اونچی آواز میں قومی ترانہ پڑھنے کے لئے کہیں، حب الوطنی میں اضافہ ہوگا۔ میں نے ایسے موٹر سائیکل والوں کو بھی دیکھا ہے جو تیس روپے کا پٹرول ڈلواتے ہیں اور چاروں قُل پڑھ کر ٹنکی کے سوراخ میں پھونکتے ہیں۔ ایسے خصیص بائیکرز کے لئے اطلاع ہے کہ مارکیٹ میں بجلی سے چلنے والی موٹر سائیکلیں آچکی ہیں۔ تاریں ساتھ رکھیں، جہاں رُکے لنگر مار کر کنڈا لگائیں اور عیش کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *