کون لوگ ہیں ہم؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جن اقوام کا کوئی نصب العین نہیں ہوتا وہ ہمیشہ بے یقینی کی کفیت میں رہتی ہیں اور گردشِ دوراں کے ساتھ ان کی حالت بد تر ہوتی جاتی ہے۔ ویسے تو وطن عزیز میں کئی اقوام ہیں جن کا اپنا اپنا منفرد کلچر ہے لیکن اگر ایک لمحے کے لیے یہ فرض کر کے آگے بڑھیں کہ ہم ایک قوم ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو ایک نامعلوم اور لاحاصل منزل کے پیچھے دوڑ رہی ہے بلکہ جسے کوئی دوڑا رہا ہے۔ ہم نے ملک حاصل کر لیا لیکن اس ملک کا آئین بنانے میں 9 سال لگے اور دو سال سے بھی کم عرصے میں اس آئین کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔

ہمیں بتایا گیا کہ یہ ملک بنتے ہی نادیدہ دشمن اس کو توڑنے کی سعی میں لگ گیا تھا اور آج تک ہم اس خطرے میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہ ایک علیحدہ بحث ہے ہم آج بھی اس ملک کو توڑنے اور آئین کی دھجیاں بکھیرنے کے ذمہ داران کی طرف انگلی اٹھانے سے قاصر ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو ستر سالوں سے غدار غدار کے راگ الاپ کر بھی آج تک غداروں کی گردن نہیں ناپ سکے، وطن دشمن، گھس بٹھیے، دشمن کے آلہ کار ان الفاظ کا ورد کیا جاتا ہے مگر ان کی کوئی تعریف نہیں ہے۔

ہم نے پندرہ سال دہشتگردی کے نام پہ جنگ لڑی بغیر یہ تعین کیے کہ دہشت گرد کون ہیں اور دہشت گردی کی تعریف کیا۔ ہم حقائق کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ہم سب کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں کہ سب اچھا ہے۔ ہم سب سے اچھے یہ کہ ہم اپنے اذہان کو تسلی دینا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس سے خود کو دھوکا دیا جا سکے مگر دنیا کو نہیں۔ قول فعل میں اتنا کھلا تضاد شاید ہی کہیں پایا جاتا ہو جتنا اس ریاست کے بیانیے میں۔

ایک طرف ہم امن کے داعی ہیں ہم امن چاہتے ہیں ۔ مگر دوسری طرف ہم کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ ایک طرف ہم نے دہشت گردوں کو سزائیں دینے کے لیے خصوصی عدالتیں بنائیں دوسری طرف ہم نے ہزاروں معصوموں کے قاتل احسان اللہ احسان کی میزبانی کی بجائے اس پہ مقدمہ چلا کر سزا دینے کے۔ ایک طرف ہم اسلاموفوبیا کی مذمت کرتے ہیں مگر اپنے ملک میں اقلیت دشمنوں کی پیٹھ تھپکتے ہیں۔ ایک طرف ہم انصاف کی بات کرتے ہیں دوسری طرف چار سو چوالیس لوگوں کا قاتل اتنا چہیتا ہے جب کوئی آرٹسٹ اس کے مظالم کو اپنے آرٹ سے دنیا کے سامنے لائے تو اس کی جان کو آ جاتے ہیں۔

ہم بہت با خبر ہیں مگر ایک پولیس افسر دارالحکومت کے ہائی سکیورٹی زون سے اغوا ہو کر پڑوسی ملک میں پہنچایا جاتا ہے مگر ہمیں پتا نہیں چلتا۔ ہم بہت باخبر ہیں مگر لاکھوں لوگوں کا قاتل ہماری تحویل سے بیوی بچوں سمیت فرار ہو جاتا ہے ہمیں خبر تک نہیں ہوتی۔ دنیا کا سب سے بڑا دہشتگرد ہمارے ملک میں رہتا رہا اور پھر اس کے خلاف آپریشن ہوا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ ہم کشمیر میں جاری مظالم کو برا بھلا کہتے ہیں مگر سابقہ فاٹا اور بلوچستان کی بات کرتے ہوئے منہ میں آبلے پڑ جاتے ہیں۔

ہمیں فلسطین اور روہنگیا کے مظالم پر تشویش ہے مگر ایغور میں ہونے والے مظالم پر ہم بولنے سے گئے۔ ہمیں انڈیا میں جمہوریت کی زبوں حالی، اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں اور آزادی اظہار پر قدغن پر تشویش ہے مگر اپنے ملک میں ہم نہ تو اظہار رائے چاہتے ہیں نہ فاشزم کا خاتمہ چاہتے ہیں نہ ایسی آواز کو برداشت کرتے ہیں جو بیانیے پر سوال اٹھا رہی ہو۔ ہم آر ایس ایس کا ذکر کرتے ہیں مگر ٹی ایل پی کو بھول جاتے ہیں۔

ہر طرف رواں دواں ظلمتوں کے کارواں

حادثے قدم قدم راستے دھواں دھواں

مشعلیں بجھا گئیں روز و شب کی آندھیاں

پھر بھی اے مسافرو تم رہو رواں دواں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *