ویلنٹائن ڈے: اس دن محبت کے نام پر عزتیں پامال کی جاتی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محبت ایک ایسا لفظ ہے جو معاشرے میں بیشتر پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے اسی طرح معاشرہ میں ہر فرد اس کامتلاشی نظر آتا ہے اگرچہ ہر متلاشی کی سوچ اور محبت کے پیمانے جدا جدا ہوتے ہیں جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تویہ بات چڑھتے سورج کے مانند واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام محبت اوراخوت کا دین ہے اسلام چاہتا ہے کہ تمام لوگ محبت، پیار اوراخوت کے ساتھ زندگی بسر کریں مگر قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں محبت کوغلط رنگ دے کرمحبت کے لفظ کو بدنام کردیا گیا او ر معاشرے میں محبت کی بہت ساری غلط صورتیں پید ہو چکی ہیں اس کی ایک مثال عالمی سطح پر ”ویلنٹائن ڈے“ کا منایا جانا ہے ہر سال 14 فروری کو عالمی یومِ محبت کے طور پر ”ویلنٹائن ڈے“ کے نام سے منایا جانے والا یہ تہوار ہر سال پاکستان میں دیمک کی طر ح پھیلتا چلا جارہا ہے۔

اس د ن جو بھی جس کے ساتھ محبت کا دعوے دار ہے اسے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا جاتا ہے۔ فروری کے شروع ہوتے ہی اس دن کو منانے کے لیے زور و شور سے تیاریاں کی جاتی ہیں۔ پہلے پہل محبت کا یہ بدنام دن صرف امریکہ اور یوروپ کی اخلاق واقدار سے عاری تنگ وتاریک محفلوں اور جھومتے گاتے نائٹ کلب کی بزم میں ہی روایتی انداز سے منایا جاتا تھا مگر آج تو ہر جگہ مغرب اور اس کی بدبخت تہذیب کی اندھی تقلید کا دور ہے، اہل مشرق جہاں ان کی نقالی اور رسم ورواج کو اپنانے ہی میں اپنا طرہ امتیاز جان رہے ہیں اور اخلاق واقدار کے تارپود بکھیرنے والے رسم و رواج، عید وتہوار اور خصوصی دنوں کو دین وشریعت کی کسوٹی پر پرکھے بغیر بلاچوں چرا ماننے، منانے اور جشن کرنے کو اپنے مہذب ہونے کی علامت سمجھ رہے ہیں تو وہیں یوم محبت ویلنٹائن ڈے بھی اسی میں شامل ہوگیا ہے۔

رہی سہی کسر الیکٹرانگ میڈیا، پرنٹ میڈیا پوری کر رہا ہے۔ اس دن محبت کے نام پر جس طرح عزتیں پامال کی جاتی ہیں ہوٹلوں میں کمرے بک کرائے جاتے ہیں شراب شباب کی محفالیں جمائی جاتی ہیں آزادی کے نام پر آزادی کی تمام حدیں پار کی جاتی ہیں، اب تو یہ تماشا ہوٹل کے بند کمروں، نائٹ کلبوں سے نکل کر گلی کے نکڑ اور چوراہوں تک پہنچ گیا ہے۔

قدیم رومی اپنے مشرکانہ عقائد کے اعتبار سے خدائی محبت کی محفلیں جماتے تھے، اس کا آغاز تقریباً 1700 سال قبل رومیوں کے دور میں ہوا۔ جب رومیوں میں بت پرستی عام تھی اور رومیوں نے پوپ ویلنٹائن کو بت پرستی چھوڑ کر کر مسیحیت اختیار کرنے کے جرم میں سزائے موت دی تھی لیکن جب خود رومیوں نے مسیحیت کو قبول کیا تو انہوں نے پوپ ویلنٹائن کی سزائے موت کے دن کو یوم شہید محبت کہہ کر اپنی عید بنالی۔ 14 فروری کو یوم محبت ”ویلنٹائن ڈے“ کی کچھ اور مناسبتیں بھی بیان کی جاتی ہیں :

ویلنٹائن ڈے کا آغاز رومی تہوار لوپر کالیا (Luper Calia) کی صورت میں ہوا۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیضوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ قدیم رومی اپنے مشرکانہ عقائد کے اعتبار سے خدائی محبت کی محفلیں جماتے تھے۔ بعد میں اس تہوار کو سینٹ ”ویلن ٹائن“ کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات کو برقرار رکھا گیا اسے ہر اس فرد کے لیے اہم دن سمجھا جانے لگا جو رفیق یا رفیقہ حیات کی تلاش میں تھا۔

جب رومی بادشاہ کلاودیوس کو جنگ کے لیے لشکر تیار کرنے میں مشکل ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا، بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل و عیال اور گھر بار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگا دی لیکن ویلنٹائن نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف خود خفیہ شادی کی بلکہ اور لوگوں کی بھی شادیاں کرانے لگا۔ جب بادشاہ کو پتہ چلا تو اس نے ویلنٹائن کو قید کروا کر 14 فروری کو پھانسی دے دی۔

14 فروری کا دن رومی دیوی یونو ”جو یونانی دیوی دیو تاووں کی ملکہ اور عورتوں و شادی بیاہ کی دیوی ہے“ رومی اسے مقدس دن مانتے ہیں جبکہ 15 فروری کا دن ان کے ایک دیوتا لیسیوس کا مقدس دن ہے ان کے عقیدے کے مطابق لیسیوس ایک بھیڑیا تھی جس نے دو ننھے منھے بچوں کو دودھ پلایا تھا جو آگے چل کر روم شہر کے بانی ہوئے۔ عیسائی اس وجہ سے اس دن کو عید کے طور پر مناتے ہیں۔

14 فروری یوم محبت سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے اس کے بارے میں محمد عطاء اللہ صدیقی صاحب لکھتے ہیں :

تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کا ایک پادری تھا۔ ویلنٹائن پادری ایک راہبہ کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ مسیحیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا اس لیے ایک دن ویلنٹائن نے اپنی معشوقہ کو بتایا کہ مجھے خواب میں بتایا گیا ہے 14 فروری کا دن ایسا ہے اس دن اگر کوئی راہب یا راہبہ آپس میں ملاپ کریں تو گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے یقین کر لیا اور دونوں جوش عشق میں سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا یعنی ان دونوں کو قتل کر دیا گیا بعد میں کچھ منچلوں نے ویلنٹائن کو شہید محبت کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے 14 فروری کو ان کی یاد میں منانا شروع کر دیا۔

ہردین و مذہب کی اپنی کچھ روایات تہوار، تہذیب و ثقافت ہوا کرتی ہے جس سے اس کے ماننے والے پہچانے جاتے ہیں۔ ”ویلنٹائن ڈے“ کی حقیقت اور تاریخ سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ یہ عسیسائیوں کا مقدس دن ہے لیکن اس بات پر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ آج کا مسلمان بھی اس دن کو غیروں کی طرح دین و شریعت کو پس پشت ڈال کر اور اس دن کو پرکھے بغیر خوش دلی سے عیسائیوں کا دن مناتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ پاکستان میں پچھلے چند سالوں سے اس دن کو منانے کا جذبہ نوجوانوں میں جوش پکڑتا جا رہا ہے۔

نوجوان لڑکے لڑکیوں کو گلاب کے پھول پیش کرتے ہیں رات کو ہوٹلوں کے کمرے بک کروائے جاتے ہیں، نوجوانوں کو یہ بھی جان لینا چاہیے وقت بڑا بے رحم ہوتا ہے وہ پلٹ کر ضرور آتا ہے ایک کہاوت ہے نا جیسی کرنی ویسی بھرنی اگر آج آپ کے ہاتھ میں گلاب کا پھول ہے اور آپ کسی کے پھول کو مسل کر اس کی عزت تار تار کر رہے ہو تو کل وقت پلٹے گا کل تمہارا پھول کسی کے سامنے تمہاری عزت کی دھجیاں اڑا رہا ہو گا۔ ہم تو اس دین کے ماننے والے جو غیر مردوں اور غیر عورتوں کا ایک دوسرے سے ملنے اور اظہار محبت کرنے سے منع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لیے اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی لائی ہوئی شریعت میں دو عیدیں رکھی ہیں تاکہ مسلمان خوشیاں منا سکیں اور آپس میں محبتیں بانٹ سکیں اور اپنے رب کو راضی کر سکیں۔

زنا کے بارے میں ارشاد بای تعالیٰ ہے :

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ 24 : 2

زانی عورت اور زانی مرد، ان میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو۔ اور اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر فی الواقع ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملے میں ان دونوں کے ساتھ ہمدردی کھانے کا جذبہ تم پر حاوی نہ ہو جائے۔ اور ان دونوں کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا بے شک وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ 14 فروری کو ہوٹلوں، پارکوں میں چھاپے مارے جائیں اور اس دن کو منانے والوں کو گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے۔

ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے مسلم امہ کے مرکز حرمین شریف کے علماء کرام کا فتوی

سوال :

بعض لوگ ہر سال عیسوی میں 14 فروری کو یوم محبت (ویلنٹائن ڈے ) کے نام سے ایک دن مناتے ہیں اور اس میں آپس میں سرخ گلاب کے پھولوں کا تحفہ دیا جاتا ہے، سرخ رنگ کے کپڑے پہنے جاتے ہیں، بیکری اورمٹھائیوں کی دکان میں سرخ رنگ کی مٹھائیاں اور کھانے تیار کیے جاتے ہیں اور اس پر دل کا نشان بھی بنایا جاتا ہے اور بعض دکانوں میں اس دن کے خاص اشیاء کی فروخت ہوتی ہے، اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات سے نوازیں۔

1۔ اس دن کو منانا کیسا ہے؟

2۔ اس دن کی خاص اشیاء کو دکانوں سے خریدنا کیسا ہے؟

3۔ اس دن جو تحفے تحائف دیے جاتے ہیں، اس دن کو منائے بغیر ان کو فروخت کرنا کیسا ہے؟

جزاک اللہ۔

جواب:

فتویٰ کونسل نے پورے غوروخوض کے بعد 23 / 11 / 1420 ہ کو اس استفتاء کا جواب ( 21203 ) یوں دیا کہ:

کتاب وسنت کے صریح دلائل اور ان کی روشنی میں علماء امت کے اجماع سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالی نے اس امت کے حق میں صرف دو عیدیں مقرر کی ہیں، ایک عیدالفطر، دوسری عید الاضحیٰ، ان دونوں عید کے علاوہ دوسری جو بھی عید ہے، چاہے وہ کسی شخصیت کے تعلق سے ہو، کسی جماعت یا فرقہ کے تعلق سے، یا کسی واقعہ کے تعلق سے یا پھر اور کسی معنی میں سب کی سب بدعت ہیں اور دین و شریعت میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے، اس وجہ سے کسی مسلمان کے لیے ان دونوں عیدوں کے علاوہ کوئی اور عید ماننا، خوشیاں منانا اور اس کا اقرار کرنا نہ ہی جائز ہے، بلکہ اس سلسلہ میں مدد ومعاونت بھی تعاون علی الاثم والعدوانسمجھی جائے گی جوکہ ازروئے قرآن حرام ہے اور جب کہ کوئی عید کفار اور یہود ونصاری کی عید ہو تو پھر یہ گناہ پر گناہ ہوگا، اس میں ان کی مشابھت اور انی کی موالات ودوستی بھی صادق آئے گی جس سے ہر اہل ایمان کو منع کیا گیا ہے۔

یوم محبت (ویلنٹائن ڈے ) بھی انہی میں سے ہے جس کو موجودہ دور کے عیسائی اپنی عید کے طور پر مناتے ہیں، پس کسی مسلمان کے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اس کا اقرار کرے، اس کو منائے یا اس کی مبارک باد دے، بلکہ اس سے اجتناب بہت ضروری ہے، اسی طرح اس سلسلے میں کسی بھی طرح کا تعاون بھی حرام ہے جیسے کھانے پینے، خرید وفروخت، تحفے تحائف بنانا یا پیش کرنا، کارڈ بھیجنا، پیغام بھیجنا یا اس کا اعلان و پوسٹر بنانا وغیرہ، یہ سبھی امور حرام ہیں۔ لھذا ہرمسلمان پر واجب ہے کہ وہ کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامے رکھے اور یہود ونصاریٰ کی ان گمراہیوں سے خود کو دور رکھے اور اللہ تعالی سے ہدایت اور اسلام کی سربلندی مانگتا رہے، ۔

وباللہ التوفیق، وصلی اللہ علی محمد و علی آلہ وصحبہ اجمعین

اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء

عبد العزیز بن عبد اللہ بن محمد آل الشیخ ( رئیس )

عبد اللہ بن عبد الرحمن الغدیان (ممبر کمیٹی)

بکر بن عبد اللہ ابو زید (ممبر کمیٹی)

صالح بن فوزان الفوزان (ممبر کمیٹی)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *