کیا انسان ”ایمان“ کے بغیر کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ دور میں جہاں عقل کا بہت چرچا ہے ایمان کا تصور زیادہ مقبول نہیں ہے۔ آج کل جب کوئی شخص ایمان کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کے ذہن میں سائنس اور منطق کے مقابلے میں خدا اور آسمانی کتابوں کے خیالات زیادہ ابھرتے ہیں۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ حقائق کا رشتہ سائنس سے ہے جبکہ ایمان مابعد الطبیعات اور روحانیات سے متعلق ہے۔ اگر یہ مفروضات ٹھیک ہیں تو اس کے بعض بہت خطرناک نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر ایمان عقل اور سائنس کے ساتھ نہیں چل سکتا تو ہمیں اسے ماضی کے فرسودہ نظام کی باقیات سمجھ کر نظر انداز کرنا پڑے گا۔

ایمان کے بارے میں ہمارے سوچنے کے بارے میں پچھلی کئی صدیوں میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ہم نے گرجے کی بہت سی پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کیا ہے۔ عقل کی ترقی کے ساتھ ساتھ آزادانہ سوچ نے بہت سی منزلیں طے کی ہیں۔ جہاں ہم نے اس ترقی سے استفادہ کیا ہے وہیں ہم نے اس کی قیمت بھی ادا کی ہے۔

چند صدیاں پیشتر جب عقل نے ایمان کے خلاف بغاوت کی تھی تو وہ مذہبی زنجیروں اور توہم پرستی کے اعتقادات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی اور انصاف ’آزادی اور انسانوں میں برادرانہ تعلقات استوار کرنے کی کوشاں تھی لیکن آج کے دور میں ایمان سے دوری ذہنی افراتفری اور کرب کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک دور میں مدلل اندازِ فکر سوچ کے ارتقا میں ممد ثابت ہوتا تھا لیکن آج اپنی کمزوریوں اور بے یقینی کو چھپانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ہمارے سامنے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان ایمان کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے یا نہیں؟

کیا نوزائیدہ کو ماں کے پستان پر ایمان کی ضرورت ہے؟

کیا ہمیں اپنی ذات اور ان لوگوں پر جن سے ہم محبت کرتے ہیں ایمان کی ضرورت ہے یا نہیں؟

کیا ہمیں زندگی کے روزمرہ معمولات پر ایمان رکھنا چاہیے یا نہیں؟

میرے خیال میں اگر انسان کا کسی چیز پر ایمان نہ ہوگا تو وہ نا امید اور بے بس ہو جائے گا اور اپنی ذات سے بھی خوف کھانے لگے گا۔ تو کیا اس کا مطلب ہوا کہ صدیوں کی ایمان کے خلاف جدوجہد بیکار تھی اور عقل کی تمامتر کامیابیاں فضول تھیں؟

کیا ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں؟ یا تو مذہب کی طرف واپس چلے جائیں اور یا بغیر ایمان کے زندہ رہیں؟

کیا ایمان صرف خدا اور مذہب پر ہی ہو سکتا ہے اور کیا ایمان ہر حال میں عقل کے خلاف ہوتا ہے؟

میں کوشش کروں گا کہ ان سوالوں کے جواب دوں۔

میرے خیال میں ہم ایمان کو ایک اندازِ فکر ’زندگی کو ایک خاص طریقے سے دیکھنے کی عادت سے اور ایک مخصوص رویے کے طور سے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ خاص رویہ انسان کی شخصیت کا ایک رخ ہوتا ہے اور اسے زندگی کے حقائق سے نبردآزما ہونے اور اسے سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اور اگر ہم ایمان کو مخصوص رویے اور ایک اندرونی تیقن کی کیفیت کے طور پر قبول کر لیں تو پھر کسی خاص چیز‘ ذات یا نظریے پر ایمان لانا ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔

ایمان کو سمجھنے میں ہمیں ایک اور چیز مدد دے سکتی ہے اور وہ شک کو سمجھنا ہے۔ شک کے بارے میں اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا تعلق کسی چیز ’ذات یا نظریے سے ہے۔ میرے خیال میں ہم شک کو بھی ایک اندازِ فکر اور مخصوص رویے کی طرح سمجھ سکتے ہیں اور اگر ہم یہ بات قبول کر لیں تو پھر باتیں‘ موضوعات اور نظریات ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں

شک کا رویہ دو طرح کا ہو سکتا ہے

معقول شک۔ وہ شک جو مدلل ہو اور عقل پر مبنی ہو

غیر منطقی شک۔ ایسا شک جس کی باتیں عقل کو سمجھ میں نہ آئیں

غیر منطقی شک صرف ایک عقلی ردِ عمل ہی نہیں بلکہ اس کے اثرات شخصیت کے ہر گوشے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایسا رویہ رکھنے والا شخص زندگی کی ہر چیز اور پہلو کو شک اور بے یقینی کی نگاہ سے دیکھتا ہے اسے زندگی کی کسی چیز پر یقین نہیں آتا۔ بعض دفعہ یہ کیفیت اتنی سنگین ہو جاتی ہے کہ وہ شخص فیصلہ کرنے کی طاقت کھو بیٹھتا ہے۔ اس کے لیے ہر چھوٹا مسئلہ ایک پہاڑ بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ کسی تقریب میں جانے کا فیصلہ کرنا اور کپڑوں کا انتخاب کرنا بھی وبالِ جان بن جاتا ہے۔ یہ رویہ چاہے چھوٹی چیزوں کے بارے میں ہو یا بڑے مسائل کے بارے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔

تحلیلِ نفسی ہمیں بتاتی ہے کہ شک کا رویہ رکھنے والوں میں مجبوری اور لاچاری کا احساس اس حد تک پایا جاتا ہے کہ وہ جذباتی طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں۔

آخر اس منفی رحجان کا علاج کیا ہے؟

اس کا علاج منفی شک کو مثبت شک میں بدلنا ہے۔ مثبت شک رکھنے والے اپنی ذات پر اعتماد کرتے ہوئے انسانی کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے غیر منصفانہ رویوں اصولوں اور حالات کو چیلنج کرتے ہیں۔ مثبت شک انسان کی انفرادی نشوونما اور اجتماعی ارتقا میں اہم کردار کرتا ہے۔

انسان بچپن میں والدین کی ہر بات ہر خیال اور ہر نظریہ بغیر سوال کیے قبول کر لیتا ہے لیکن جب وہ جوان ہوتا ہے تو ایک ناقدانہ رویہ اختیار کرتا ہے۔ وہ تمام چیزیں جو اس نے بغیر سوال کیے اپنائی تھیں اب سوچ سمجھ کر قبول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کے لیے ناقدانہ رویہ اختیار کرنا ذہنی بلوغت کے سفر کا حصہ ہے۔

تاریخی طور پر یہ صحتمندانہ مدلل شک ہی وہ اندازِ فکر تھا جس نے جدید فلسفے اور سائنس کو جنم دیا ’فرسودہ خیالات سے نجات حاصل کی اور گرجوں اور حکومتوں کی غیر ضروری حاکمیت کو قبول کرنے سے انکار کیا۔

چنانچہ چاہے وہ انسان کی ذاتی زندگی ہو یا معاشرے کی اجتماعی زندگی ناقدانہ رویہ اور صحتمندانہ شک بلوغت کی طرف قدم بڑھانے کا نام ہے۔

٭٭٭           ٭٭٭

اب ہم دوبارہ ایمان کی طرف آتے ہیں۔ میرے خیال میں ایمان بھی دو طرح کا ہوتا ہے

صحتمند اور معقول ایمان

غیر صحتمند اور غیر منطقی ایمان

غیر منطقی ایمان سے میری مراد ایسا ایمان ہے جس میں انسان کسی خیال نظریہ یا علامت پر ایمان تو لے آئیں لیکن اس ایمان کا ان کے اپنے تجربے ’مشاہدے اور مطالعے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ صورتِ حال اکثر اوقات کسی بڑی طاقت کے آگے بغیر سوچے سمجھے سرِ تسلیم خم کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم اس بات کو آگے بڑھائیں چند لمحوں کے لیے رکتے ہیں اور اس بغیر سوچے سمجھے سرِ تسلیم خم کرنے کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے پاس اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ جس شخص نے اپنی انفردیت اور اعتماد کھو دیے ہوں وہ دوسروں کی آرا کو بے سوچے سمجھے قبول کر لیتا ہے۔ ہم اس عمل کی جھلکیاں ہپناٹزم میں دیکھتے ہیں۔ اس کیفیت میں ایک انسان ہپناٹک نیند میں دوسرے انسان کے خیالات قبول کر لیتا ہے اور پھر اسے اپنا سمجھتا ہے۔

اس طرح دوسرا انسان پہلے انسان کے خیالات اور جذبات پر قابو پا لیتا ہے اور اس سے جو چاہے کروا لیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہپناٹسٹ ایک انسان کو ہپناٹک خواب کی حالت میں مشورہ دیتا ہے کہ تم ہپناٹزم سے جاگنے کے ایک گھنٹہ بعد کوٹ پہن لینا تو وہ شخص جاگنے کے ٹھیک ایک گھنٹہ بعد اٹھ کر کوٹ پہن لیتا ہے اور اگر آپ اس سے پوچھیں کہ تم ایسا کیوں کر رہے ہو تو وہ کہے گا کہ مجھے سردی لگ رہی ہے۔ وہ مطمئن ہوگا کہ یہ اس کا اپنا ارادہ ہے اور اس کا ہپناٹک مشورے سے کوئی تعلق نہیں۔

ہپناٹزم کسی اور انسان کے فیصلوں کو کلی طور پر قبول کرنے اور کسی کی حاکمیت کے آگے سر جھکانے کی عمدہ مثال ہے۔ اس کی دوسری مثالیں مسحور کرنے والے سیاسی اور مذہبی لیڈر ہیں جو اپنی سحر انگیز تقریروں سے سادہ لوح مردوں اور عورتوں کو ہپناٹائز کر لیتے ہیں اور وہ مرد اور عورتیں اپنی تنقیدی سوچ کو بالائے طاق رکھ کر ان لیڈروں کی باتیں اور مشورے مان کر زندگی کے اہم فیصلے کر لیتے ہیں۔

اگر کوئی سیاسی یا مذہبی لیڈر سادہ لوح لوگوں سے ایسی بات منواتا ہے جو عقل کے خلاف ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس کی ذات میں ایسا سحر ہے جس سے وہ باقی لوگوں کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ آج کے دور میں بہت سے مسحور کرنے والے رہنما بہت سے سادہ لوح پیروکاروں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اگر آپ کسی پیروکار سے اس کی پیروی کی وجہ پوچھیں تو وہ باقی سینکڑوں ہزاروں پیروکاروں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اس رہنما کی اندھی تقلید کر رہے ہوتے ہیں۔

غیر صحتمند ایمان اس وقت جنم لیتا ہے جب کوئی انسان کسی غیر معقول طاقت کو بغیر تنقید کے قبول کرے اور اس کے آگے گھٹنے ٹیک دے۔

اب ہم صحتمند ایمان کی طرف آتے ہیں۔ یہ ایمان انسان کے اپنے تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہوتا ہے۔ مدلل طرزِ فکر میں معقول ایمان کا بڑا ہاتھ ہے۔

ایک سائنسدان ایک نئی حقیقت اور ایک نیا قانونِ فطرت جاننے کے لیے اس وقت تک معلومات جمع کرتا رہتا ہے اور تجربات کرتا رہتا ہے جب تک کہ وہ اسے دریافت نہیں کر لیتا۔

ایک محقق جب کسی تخقیق کا آغاز کرتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک مقصد ہوتا ہے مستقبل کا ایک اشارہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ کس چیز کی تلاش میں ہے۔ وہ اس حقیقیت کے لیے حقائق اور معلومات جمع کرتا ہے اور آخر میں ایک نیا فارمولا یا تھیوری یا اصول پیش کرتا ہے۔ جو ہمارے علم میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

سائنس کی تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کوپرنیکس ’کیپلر‘ گیلیلیو ’اور نیوٹن جیسے سائنسدانوں کا مدلل سوچ پر پکا ایمان تھا۔ انہوں نے سائنس کے علم میں جو گرانقدر اضافے لیے وہ اس ایمان کے بغیر ممکن ہی نہ تھے۔ یہ علیحدہ بات کہ انہیں اس راہ میں بہت سی قربانیاں دینی پڑیں۔

کسی بھی محقق کے لیے تحقیق کی ابتدا سے انتہا تک پہنچنے کے لیے ہر قدم پر اس ایمان کی ضرورت ہے۔ یہی ایمان اس تحقیق کو معنی دیتا ہے اسے ثابت کرنے میں ممد ثابت ہوتا ہے اور لوگوں کے قبول کرنے کے مرحلے تک انتظار کرنے کا حوصلہ بخشتا ہے۔ یہ ایمان انسان کے اپنے تجربات ’خود اعتمادی‘ اپنی صلاحتیوں اور اپنی نظر پر یقین رکھنے سے وجود میں آتا ہے۔ یہ مدلل ایمان اس اندھے ایمان سے مختلف ہے جو لوگ اپنے مذہبیاور سیاسی رہنماؤں پر بغیر سوچے سمجھے لے آتے ہیں۔ یہ ایمان انسان کی اپنی سوچ ’اپنے تجربے‘ اپنے مشاہدے اور اپنی دانائی کا پیدا کردہ ہوتا ہے۔ یہ ایمان انسان کی اپنی ذہانت ’قابلیت اور بصیرت کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔

صحتمند ایمان کا تعلق صرف انسان کی اپنی ذات سے ہی نہیں انسانی رشتوں سے بھی ہے۔ ایک دوستانہ اور محبت بھرے رشتے کے لیے اس کی بہت ضرورت ہے۔ کسی اور شخص پر ’ایمان‘ لانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کی صلاحیتوں اور اس کے بنیادی رویوں پر یقین رکھیں۔ اگر وہ مخلص اور ہمدرد انسان ہے تو اس پر اعتبار کریں۔ انسانیت کا احترام بھی اسی جذبے سے وجود میں آتا ہے۔

ایمان کا ایک اور رخ بنی نوع انسان کی خفیہ صلاحیتوں پر یقین رکھنا ہے۔ اس کی عمدہ مثال ایک ماں کا اپنے بچے کی طرف رویہ ہے۔ ماں کا ہر عمل اس یقین کی ترجمانی کرتا ہے کہ اس کا بچہ زندہ رہے گا ’پلے بڑھے گا‘ بات کرنا سیکھے گا ’اپنے قدموں پر کھڑا ہوگا اور جوان ہوگا۔ یہ ایمان روزمرہ کے معمولات میں اس طرح گھل مل جاتا ہے کہ بعض دفعہ ہمیں اس ایمان کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ جس طرح ماں بچے کی جسمانی نشوونما کا خیال رکھتی ہے اسی طرح استاد اپنے شاگرد کی ذہنی اور فنی نششونما کا خیال رکھتا ہے۔ استاد جان لیتا ہے کہ یہ بچہ بڑا ہو کر ایک اچھا سائنسدان یا شاعر یا فنکار یا دانشور بنے گا اور وہ پھر اس بچے کی اس طرح تربیت کرتا ہے کہ اس کی خفیہ صلاحتیں اجاگر ہوتی ہیں۔ اس استاد کو اس بچے کی خفیہ صلاحیتوں پر ایمان ہوتا ہے۔

بعض لوگ ایمان کے بارے میں ایک اور غلط فہمی کا شکار ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایمان صرف انتظار کرنے کا ’کسی کرامت یا معجزے کے انتظار کرنے کا‘ نام ہے جس میں انسان کی خواہشیں اور آرزوئیں خود بخود پوری ہو جائیں گی اور خواب بغیر عمل کے شرمندہِ تعبہر ہو جائیں گے۔ یہ ایمان کی بہت سطحی سمجھ ہے۔

ایمان کی اصل حقیقت سمجھنے والے پہلے عمل کرتے ہیں اور اپنی قوتوں پر اعتماد کرتے ہیں اور پھر ان اعمال کے نتائج کا انتظار کرتے ہیں۔ عمل کے بغیر ایمان مثبت رویہ نہیں ہو سکتا۔

اس طویل گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ ایمان دو طرح کا ہوتا ہے۔

ایک ایمان کسی بڑی طاقت یا کسی سیاسی یا مذہبی رہنما پر اندھا ایمان ہے جو ایک غیر صحتمندانہ اور غیر منطقی رویہ ہے۔

دوسرا ایمان اپنی سوچ ’اپنی فکر اور اپنے تجربے کی بنیاد پر زندگی کے مسائل کو حل کرنے پر ایمان ہے۔ ایسا ایمان معقول اور مدلل ہوتا ہے۔

اس گفتگو کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آج کے دور کا انسان کس قسم کے ایمان کو ترجیح دیتا ہے۔ کیا وہ روایتوں پر اندھا ایمان لاتا ہے اور آمروں ’حاکموں اور مذہبی رہنماؤں کے آگے بغیر سوچے سمجھے سرِ تسلیم خم کرنا پسند کرتا ہے یا اپنے مشاہدات پر یقین اور اپنے تجربات پر اعتماد کرتا ہے اور اپنی زندگی کا ایک مثبت نظریہ قائم کرتا ہے اور پھر اس نظریے کے تحت اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیاں گزارنا چاہتا ہے۔

[نوٹ :ایرک فرام کے کتاب MAN FOR HIMSELFکے ایک باب کا ترجمہ۔ ]

۔ ۔

نوٹ: ایرک فرام کی کتاب MAN FOR HIMSELF کے ایک باب کا ترجمہ

۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 292 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *