جب گناہ کرنے پرہنگامہ نہیں تونکاح کرنے پرکیوں ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قریب ایک ہفتے سے سماجی روابط کی ویب سائٹس پر ایک 18 سالہ نوبیاہتا جوڑے کا ہی چرچا ہے۔ ہر طرف ان کی ہی بات، ان ہی کی دھوم ہے انہیں شہرت اور توجہ پاتا دیکھ کر گزشتہ شب ایک 19 سالہ جوڑا بھی گلے میں ہار ڈال کر اعلانِ نکاح کر کے میدان میں اتر آیا ہے۔ خیراب دیکھنا یہ ہے کہ ان کو شہرت کے حصول میں کتنی کامیابی ملتی ہے۔ یا ان کی خبر پانی کا بلبلہ بن کہ رہ جائے گی۔

بات صرف اتنی ہے جوکہ میرا سوال بھی ہے کہ جب گناہ کرنے پرہنگامہ نہیں تونکاح کرنے پرکیوں؟ یہ کوئی اچھوتا یا انوکھا کام تو ہے نہیں جو آج سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو؟ ان گنت لوگ بنا شادی، بنا نکاح بنا کسی رشتے کہ اپنی تصاویر اور ویڈیوز سماجی روابط کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرتے ہیں ان کو نہ ہی کوئی ٹوکتا اور نہ ہی کچھ کہتا، جبکہ ان کو کہنا چاہیے کہ بھائی شادی سے پہلے اتنے قریب نہ آو کہ بعد میں دل ہی نہ چاہیے ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کا۔

تو اگر کوئی کم عمری میں شادی کر رہا ہے تو پھر اس پر اتنی چرچا کیوں؟ جبکہ اگر شریعی رو سے دیکھا جائے تو اسلام میں نکاح کے لیے بلوغت کی شرط رکھی گئی ہے۔ بچے کو جب احتلام ہو یا بچی کو جب حیض کا خون آنا شروع ہو جائے تو وہ بلوغت کی نشانی ہے۔ عمر کے لحاظ سے بچہ 18 اور بچی 16 سال کی بنتی ہے، اور یہی ملکی فیملی لاء بھی ہے۔ اصل چیز لڑکے یا لڑکی کا عاقل اور بالغ ہونا ہے، اور اس کی علامات جو احادیث سے ثابت ہیں، بتا دی گئی ہیں۔ قاضی اسی طرح لکھے گا جس طرح ملکی قوانین میں کم سے کم عمر لڑکے کی 18 اور لڑکی کی 16 سال ہے۔

تو پھر یہ شور کیوں؟ میں ایسی بہت سی فیملیز کو جانتی ہوں جن میں ابھی بھی کم عمری کی شادی کو ناصرف پسند کیا جاتا ہے بلکہ اس کی ترغیب بھی دی جاتی ہے اور ماشا اللہ وہ خاندان بہت اچھی کامیا ب اور مکمل زندگی بھی گزار رہے ہیں۔

سوشل میڈیا راتوں رات شہرت حاصل کرنے کا بہترین پلیٹ فارم ہے مگر یار ذرا تو سوچو اس لڑکے اسد کی بہن ٹک ٹاک یوزر ہے صرف شہرت کے لیے اس نے بھائی کی شادی کے ہر ایونٹ کی ویڈیو اپ لوڈ کر دی۔ آج کل تو ہر لڑکی ہر ایونٹ کی ویڈیو سماجی روابط کی ویب سائٹس پر شیئر کرتی ہے وہ تو ایسی پاپولر نہیں ہوتیں تو پھر یہ کیوں؟

سوشل میڈیا کی فارغ عوام کو میمز بنانے اور ایک دوسرے کو ٹیگ کرنے کے لیے کوئی نا کوئی پوسٹ چاہیے ہوتی ہے یہ ہی سہی۔ دانش، مہوش، شہوار اور اس غریب ٹیچر کے بعد ان دونوں نے توجہ اپنی طرف مبذول کر وائی تو صارفین کے تنقیدی اور حمایتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کسی کو اپنا دھنیا پودینا لانا یاد آگیا تو کسی کو اپنی جوانی کے ادھورے خواب، کسی کوبالوں کی چاندی تو کسی کو سر کے عین بیچ چمکتا چاند۔ تو دوسری جانب ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو ان کی کم عمری کی شادی پر فکر مند دکھائی دے رہے ہیں۔

میں نے اس حوالے سے تین شادی شدہ جوڑوں سے بات کی ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے اس سے معاشرے میں نکاح اور پاکی کا عمل پروان چڑھے گا اور گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا کلچر جو پاکستان میں بھی عام ہو رہا ہے، ہو سکتا ہے اس سے چھٹکارہ مل جائے۔ ایک کا کہنا ہے کہ آج کل لڑکے اور لڑکی کی شادی کو صرف مہنگائی اور کمائی کی بنیاد پر ملتوی کیا جارہا جس کی وجہ سے نوجوان نسل اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے غلط راستہ اختیار کر کے بے راہ روای کا شکار ہوکر اپنی کم کم عمری اور جوانی دونوں برباد کر بیٹھتی ہے اور آخرکار شادی کے قابل نہیں رہتی۔ پھر اس کی کامیابی اورکمزوریوں کا علاج شہر کی دیواروں پر لکھا ہوتا ہے۔ اس لیے اگر وقت پر نکاح کر کے لڑکے اور لڑکی کی جنسی خواہشات کو بر وقت تکیمل پہنچا دی جائے تو معاشرہ برائی اور فحاشی سے پاک ہو جائے گا اور بچوں کو بھی والدین سے چھپ کر منہ کالا نہیں کرنا پڑے گا۔

اس ہی حوالے سے جب میں نے (بظاہر) کامیاب شادی شدہ زندگی گزارنے والی ایک خاتون سے بات کی تو انہوں نے چھوٹتے ہیں کہاکہ دیکھنا یہ لڑکا میچیور ہو کر پھر ایک شادی کرے گا کیونکہ وقت سے پہلے بھی سب کچھ مل جانا ٹھیک نہیں ہوتا لڑکے کا دل جلد ہی اس سے بھر جائے گا اور کسی اور کی طرف دیکھے گا انہوں نے دوران گفتگو سیف علی خان اور امرتا سنگھ کی بھی مثال دی۔

خیر جتنے منہ اتنی باتیں ہیں مذکورہ جوڑے کے سرپرستوں کا کہنا ہے کہ بچے ابھی پڑھیں گے اور اپنا کیئریر بنائیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اچھا ہے۔

کیونکہ اب پرانا دور تو نہیں ہے جب عورت اور مرد شرم کے پردوں میں لپٹ کے رشتوں اور ان کی لذت سے لطف اندوز ہو تے تھے۔ شرما شرما کہ اقدامات کیا کرتے تھے۔ آج کی جنریشن تو بہت آگے ہے اس لیے اسے ہر چیز کی جلدضرورت ہے جس میں نکاح بھی شامل ہے۔

اچھا ہوگا کہ ہم اس معاشرے میں اچھے اور نیک عمل کو پھیلانے کا سبب بنیں نا کہ کسی غلط کام کو کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمیں چاہیے کہ ہم کوئی ایسا عمل یا برائی نہ کریں جو ہمارے بعد دوسرے کرتے ر ہیں کیونکہ اگر ہم چھوڑ دیں اور اگلا نا چھوڑے تو اس کے ساتھ ہم بھی اس کے گناہ کے بھاگیدار ہو ں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *