توبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نجیب عالم اور صبغت اللہ کی دوستی کافی گہری تھی۔ وہ ماڈل ٹاؤن میں رہائش پزیر تھے۔ گلی تو ایک ہی تھی مگر نجیب عالم کا گھر گلی کے شروع میں اور صبغت اللہ کا آخر میں تھا۔ نجیب عالم ایک بینکرتھے جبکہ صبغت اللہ ایک عالم تھے اور خاصے دیندار آدمی تھے۔ وہ جب بھی نماز کے لیے نکلتے تو جاتے جاتے نجیب عالم کے دروازے پر ہلکی سی دستک ضرور دیتے تھے۔ نجیب عالم بھی گویا اس دستک کے انتظار میں ہوتے تھے۔ دستک کے بعد محض چند سیکنڈ میں ہی دروازہ کھل جاتا اور نجیب عالم ہنستے مسکراتے باہر آ جاتے۔

دونوں فجر اور مغرب کی نماز اکٹھے ہی ادا کرتے تھے۔ صبغت اللہ تو باریش تھے۔ داڑھی کے بال آدھے سے زیادہ سفید ہو چکے تھے۔ قد درمیانہ تھا، جسم فربہ تھا اور توند بھی خاصی نمایاں تھی جب کہ نجیب عالم دھان پان سے آدمی تھے۔ قد لمبا تھا اور ہمیشہ پینٹ شرٹ پہنے رکھتے تھے۔ دوستی کے باوجود ان دونوں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا بہت کم تھا۔ ان دونوں کی بیگمات کا آپس میں بس واجبی سا تعلق تھا۔ نجیب عالم کی ایک بیٹی تھی جو گریجویشن کر رہی تھی۔ صبغت اللہ کا ایک بیٹا تھا وہ بی ایس سی کے آخری سال میں تھا۔

شام کو پارک میں ٹہلنا بھی دونوں کا معمول تھا۔ پارک کے ٹریک پر ایک دو چکر لگا کر وہ پتھر کی بنچ پر بیٹھ کر سیاسی اوغیر سیاسی باتیں کر کے جی بہلاتے تھے۔ نجیب عالم کو ٹی وی سے خاصا شغف تھا۔ چناں چہ وہ شام کے کھانے کے بعد زیادہ وقت ٹی وی کے سامنے ہی گزارتے تھے۔ ان کی بیٹی سحر کا بیڈ روم بالائی منزل پر تھا تا کہ وہ یکسوئی سے پڑھ سکے۔ تاہم ان کی بیگم ٹاک شوز دیکھنے میں ان کا خوب ساتھ دیتی تھیں۔

فروری کے ابتدائی دن تھے اور موسم کچھ سرد تھا۔ نجیب عالم اس دن معمول سے پہلے ہی سونے کے لئے بیڈ روم میں چلے گئے تھے۔ یوں تو ان کی نیند بہت گہری تھی۔ مگر اس رات اچانک ان کی آنکھ کھل گئی۔ آنکھ کھلنے کا سبب واش روم جانے کی حاجت تھی۔ انہوں نے کلاک کی طرف نگاہ اٹھائی۔ ساڑھے بارہ کا وقت تھا۔ بیگم گہری نیند میں تھیں۔ وہ بستر سے اٹھے اور واش روم میں گھس گئے۔ چند منٹ بعد جب وہ واپس آ کر بستر پر لیٹے تو نیند کافور ہو چکی تھی۔

ان کا ذہن طرح طرح کے خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ کچھ دیر وہ یونہی لیٹے اپنی زندگی کے بارے میں سوچتے رہے۔ پھر ان کا دھیان اپنی بیٹی کی طرف گیا۔ وہ سوچنے لگے کہ کئی دن سے انہوں نے اپنی بیٹی سے اچھی طرح حال احوال بھی نہیں پوچھا۔ وہ رات دیر تک پڑھتی رہتی تھی۔ شاید اب بھی پڑھ رہی ہو۔ ان کے دل میں خیال آیا کہ ابھی اپنی بیٹی کو دیکھیں۔

وہ بستر سے اٹھے اور سیڑھیاں چڑھ کر اپنی بیٹی کے کمرے کی طرف بڑھے۔ عین اسی وقت ایک کھٹکا سا ہوا، انہیں ایک ہلکی سی آواز سنائی دی۔ ایک لمحے میں ان کی ساری حسیات بیدار ہو گئیں۔ انہیں شدید خطرے کا احساس ہوا۔ وہ آواز کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ آواز پھر آئی تو وہ یک دم ایک ستون کے پیچھے ہو گئے۔ اب واضح طور وہ اندازہ لگا چکے تھے۔ کوئی گھر کے ٹیرس پر آ چکا تھا۔

کیا کسی چور سے سامنا ہونے والا ہے؟ کہیں اس کے پاس ریوالور نہ ہو؟ ایک سیکنڈ میں کئی خیالات ان کے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔ مجھے شور مچانا چاہیے یا خاموشی سے جائزہ لینا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شور مچانے پر وہ گولی چلا دے۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے ابھی خاموش رہوں۔ انہوں نے سوچا۔ تب وہ نظر آیا۔

وہ ایک نوجوان تھا۔ روشنی کم ہونے کے باوجود انہوں نے ایک سیکنڈ میں اسے پہچان لیا۔ وہ خاور تھا۔ انہی کے دوست صبغت اللہ کا بیٹا۔ نجیب عالم کے دل کو دھکا سا لگا۔ باپ اتنا نیک اور صالح آدمی ہے اور اس کا بیٹا رات کے اس پہر کسی کے گھر میں گھس آیا ہے۔ اچانک انہیں خیال آیا کہ وہ تو کسی متوقع چور کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ کیا خاور چوری کرنے آیا ہے؟ تب اچانک جو سوچ ابھری اس سے ان کی کنپٹیاں سلگنے لگیں۔

وہیں کھڑے کھڑے مٹھیاں بھنچ گئیں۔ خاور بالائی منزل پر تھا اور یہیں ان کی بیٹی کا کمرہ تھا۔ اس سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتے تھے۔ خاور چھریرے بدن کا خوش شکل نوجوان تھا۔ اس نے جینز پر ایک پھولی پھولی سی جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ بڑی خاموشی سے ایک ایک قدم چلتا ہوا ان کی بیٹی کے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ نجیب عالم کی پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہو چکے تھے حالاں کہ موسم سرد تھا۔ وہ جس ستون کی آڑ میں تھے وہاں اندھیرا تھا شاید اسی لیے خاور انہیں دیکھ نہ پایا تھا۔ نجیب عالم سوچ رہے تھے کہ اب وہ سامنے آ جائیں یا دیکھیں کہ آگے خاور کیا کرتا ہے۔

انہوں نے سانس تک روک رکھی تھی مگر نہ جانے کیسے خاور کو اندازہ ہو گیا اور وہ ستون کی طرف بڑھا۔ اب چھپنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ وہ ستون کی اوٹ سے باہر نکل آئے۔ انہیں دیکھتے ہی خاور کو جھٹکا سا لگا۔ وہ وہیں رک گیا۔

”رک کیوں گئے خاور بیٹا؟ تم نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ میں یہاں تمہارے استقبال کے لیے موجود ہوں گا۔ “ نجیب عالم کا لہجہ تلخ تھا۔

”انکل۔ مم۔ مجھے غلط مت سمجھیں۔ “ خاور کے لہجے میں گھبراہٹ نمایاں تھی۔

”نہیں نہیں، میں تمہیں غلط کیوں سمجھوں گا۔ غلط تو اس صورت میں سمجھتا جب تم بیل بجا کر دروازے سے آتے۔ “ نجیب عالم نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

”سوری انکل! میں آپ کو بتاتا ہوں۔ “ خاور نے گڑبڑا کر کہا۔

”کیا اب بھی بتانے کو کچھ باقی ہے؟ “

عین اسی وقت سحر کے کمرے کا دروازہ کھلا۔ غالباً ان کی آوازیں اندر کمرے میں پہنچ گئی تھیں۔ سحر کے چہرے پر شدید پریشانی کے آثار تھے۔ نجیب عالم کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑا ہوا تھا۔

”آؤ کمرے میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ “ نجیب عالم نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔ خاور ان کے پیچھے یوں چل رہا تھا جیسے اس کی ٹانگوں میں جان نہ ہو۔ سحر پیچھے ہٹ گئی۔ وہ دونوں اندر داخل ہوئے۔ نجیب عالم ایک کرسی پر بیٹھ گیا جب کہ وہ دونوں مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑے تھے۔ نجیب عالم چند لمحوں تک کچھ سوچتا رہا پھر جیسے چونک کر اس نے ان دونوں کی طرف دیکھا۔

”تم بھی بیٹھ جاؤ۔ اب اس معاملے پر بات تو کرنی پڑے گی۔ “ نجیب عالم نے ایک گہری سانس لے کر کہا۔

خاور ان کے سامنے ایک کرسی پر ٹک گیا۔ نجیب عالم نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا تو وہ بھی بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا اور وہ اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔ انیس برس کی عمر میں اس کی دلکشی اپنے شباب پر تھی۔ یہ عمر بڑی نازک ہوتی ہے۔ انہوں نے سحر کے حوالے سے کئی خواب دیکھے تھے مگر یہ نہیں سوچا تھا جو اب ان کے سامنے تھا۔

”کب سے یہ سلسلہ چل رہا ہے؟ “ بالآخر انہوں نے کھنکار کر کہا۔

”ابو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ “ سحر منمنائی۔

”ہاں ہاں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اور یہ بھائی صاحب ٹہلتے ٹہلتے دیوار پھلانگ کر یہاں آن پہنچے۔ “ بڑی مشکل سے نجیب نے اپنی آواز کو بلند ہونے سے روکا۔

”سحر اب انکار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انکل نے مجھے اوپر آتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔ بہتر ہے سب کچھ سچ سچ بتا دیا جائے۔ “ خاور نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔

”ہوں، سمجھدار لگتے ہو۔ پہلے تو یہ بتاؤ کہ تم ٹیرس تک کیسے پہنچے؟ “ نجیب عالم نے اس کی طرف رخ کیا۔

”انکل میں بچپن سے درختوں پر چڑھتا رہا ہوں۔ کسی پائپ وغیرہ سے دیوار پر چڑھنا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور آپ کی دیوار کے ساتھ تو پیپل کا درخت بھی ہے۔ “ خاور نے فوراً جواب دیا۔

”میں کل ہی یہ درخت کٹوا دوں گا۔ “ نجیب عالم نے الفاظ چباتے ہوئے کہا۔

”جی آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔ “ خاور نے آہستہ سے کہا۔

”اور سحر مجھے تم سے یہ امید ہرگز نہیں تھی۔ تمہاری ماں تمہاری اتنی تعریفیں کرتی ہے۔ ہم سمجھتے تھے تم رات کو دیر تک پڑھتی رہتی ہو۔ تمہارے گریڈ بھی بہت اچھے آتے رہے ہیں اسی لیے ہم بے فکر تھے۔ لیکن یہ پتا نہیں تھا کہ تم میری عزت کو خاک میں ملانے کے منصوبے بنا رہی ہو۔ “ نجیب عالم نے کرب کے عالم میں کہا۔

سحر کی آنکھیں نم ہو گئیں اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے گالوں پر لڑھکنے لگے۔ خاور کے چہرے پر بھی پریشانی کا عالم تھا۔

”انکل پلیز میرے ابو سے اس بارے میں بات نہ کیجیے گا۔ “ خاور نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔

”کیوں نہ کروں؟ میں تو کروں گا۔ وہ میرا دوست ہے اور پھر اسے بھی تو پتا چلنا چاہیے کہ اس کی اولاد کیا کر رہی ہے۔ “ نجیب عالم نے غصے سے کہا۔

”انکل آپ تو انہیں جانتے ہیں۔ ذرا سی بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہیں۔ اور اس بات پر تو وہ مجھے گھر سے نکال دیں گے۔ ساری عمر کے لیے مجھ سے ناتا توڑ لیں گے۔ تین مہینے بعد میرا امتحان ہے اس کی تیاری بھی اچھی نہیں ہے۔ میں تو بہت پریشان ہوں۔ آپ جو کہیں گے میں کروں گا بس انہیں نہ بتایئے۔ “ خاور کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہے۔

”بہت خوب امتحان کی پریشانی ہوتی تو تم آدھی رات کو درختوں پہ نہ چڑھتے۔ آرام سے گھر بیٹھ کر تیاری کرتے۔ “ نجیب عالم نے طنزیہ انداز میں کہا۔

”بس ہو گئی نہ غلطی۔ مجھے معاف کر دیجیے۔ “

”معاف کر دوں؟ کیا یہ معمولی غلطی ہے۔ میری جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک تمہیں گولی مار چکا ہوتا۔ “

”مگر آپ ایسے نہیں ہیں۔ آپ بہت اچھے ہیں۔ آپ پلیز مجھے معاف کر دیں۔ “ خاور نے لجاجت سے کہا۔

”شاید غلطی میری ہی ہے۔ “ نجیب عالم نے ایک گہری سانس لے کر کہا۔

انہوں نے سحر کی طرف دیکھا اس کا سر جھکا ہوا تھا اور آنسو مسلسل اس کی گالوں کو بھگو رہے تھے۔ انہیں اپنی بیٹی سے بہت زیادہ پیار تھا۔ وہ تو اس کی آنکھوں میں ایک آنسو بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔

”اچھا اب رونا بند کرو۔ “ انہوں نے کہا پھر خاور کی طرف دیکھا۔

”سنو صاحبزادے! میں کل تمہارے باپ سے بات کروں گا۔ “

”انکل پلیز! معاف کر دیں ناں ہمیں۔ آپ کو آئندہ ہم سے کوئی شکایت نہیں ہو گی۔ جو چاہے قسم لے لیں۔ ابو سے بات نہ کیجیے گا۔ “ خاور نے اس بار بے حد پریشانی کے عالم میں کہا۔

”ابے گدھے میں شکایت نہیں کروں گا۔ تم دونوں کی شادی کی بات کروں گا۔ شادی بھی فوراً کرنی ہو گی۔ “ نجیب عالم نے کہا۔

”انکل یہ تو بہت بڑی مشکل ہو جائے گی۔ میں نے امتحان دینا ہے۔ پھر آگے پڑھنا ہے۔ اور ابو نے تو میری کزن سے میری منگنی بھی کر رکھی ہے۔ “ خاور نے گڑبڑا کر کہا۔

”ہیں۔ سحر تمہیں پتا تھا کہ اس کی منگنی ہو چکی ہے؟ “ نجیب عالم نے سحر کی طرف رخ موڑا۔

”نہیں ابو مجھے نہیں پتا۔ “ سحر ہولے سے بولی۔

”اچھا! منگنی کسی اور سے اور میری بیٹی کو بے وقوف بنا رہے تھے تم ناہنجار۔ “ نجیب عالم نے شدید غصے کے عالم میں کہا۔

”انکل میری بات سنیں۔ میں نے آپ کی بیٹی کو کوئی دھوکا نہیں دیا۔ منگنی کی بات کا کبھی ذکر ہی نہیں ہوا۔ “ خاور پریشان تھا۔

”کتنی بار یہاں آئے ہو؟ “

”بس چار پانچ مرتبہ“

”چار یا پانچ“

”جی۔ پا۔ پانچ دفعہ“

”خیر اصل معاملہ یہ ہے کہ تم نے اپنی منگنی کی بات چھپائی کیوں؟ “

”انکل! میں نے چھپائی نہیں تھی۔ ہاں بتائی نہیں تھی“

”عجیب ہونق ہو تم۔ کان اس طرف سے پکڑو یا اس طرف سے۔ بات تو ایک ہی ہے۔ “

”سوری انکل! میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ آپ ابو سے یہ بات نہ کریں۔ “

”یہ ہیں آج کے نوجوان، دیکھا سحر تم نے۔ مجھے یقین ہے تم آئندہ اس فریبی کو دیکھنا بھی نہیں چاہو گی۔ “

”میں آئندہ اس سے نہیں ملوں گی۔ “ سحر نے باریک سی آواز نکالی۔

نجیب عالم نے پیشانی پر ہاتھ پھیرا۔

”دیکھو! میں روایتی قسم کا باپ نہیں ہوں۔ اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہاری خاطر یہ کڑوا گھونٹ بھرنے کو تیار ہوں۔ “ نجیب عالم کے لہجے میں ٹھہراؤ تھا۔

”نہیں انکل! میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ آپ یہ کڑوا گھونٹ بھریں۔ “ خاور نے نفی میں سر ہلایا۔

”تو پھر تم کیا چاہتے ہو؟ “

”آپ ابو سے کوئی بات نہ کریں۔ میں کبھی اس راستے سے آپ کے گھر نہیں آؤں گا۔ جب بھی آنا ہو گا بیل بجا کر دروازے سے آؤں گا۔ “

”ہوں! سوچ سمجھ کر کہہ رہے ہو یا یوں ہی بہلا رہے ہو۔ “

”جی نہیں پورے ہوش و حواس میں بات کر رہا ہوں۔ “

”اور سحر تم کیا کہتی ہوں۔ “

”ابو میں کیا کہوں، میں بہت شرمندہ ہوں۔ “ سحر بولی۔

”تو پھر کیا تم توبہ کرتے ہو؟ “

”جی ابو! پکی توبہ۔ اب ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ میں نے ٹاپ کرنا ہے۔ میں پورا وقت پڑھائی کو دوں گی۔ “ سحر نے اس بار آنکھیں اٹھا کر کہا۔

”اور تم برخوردار؟ “ نجیب عالم نے خاور کو گھورتے ہوئے کہا۔

”جی میری توبہ، میرے باپ کی بھی توبہ۔ بس آج سے چھوڑ دیا۔ سب کچھ چھوڑ دیا۔ آج سے پڑھائی پر پوری توجہ ہوگی۔ “ خاور نے کان پکڑ لیے۔

”ہوں۔ چلو یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ ٹھیک ہے سحر بیٹی ادھر آؤ۔ “ نجیب عالم نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

سحر جلدی سے آگے بڑھی اور اپنے باپ کے گلے سے لگ کر سسکنے لگی۔

”بس بیٹی! اب رونا نہیں۔ میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔ “ نجیب عالم نے اس اپنے ہاتھ سے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ خاور سر جھکائے کھڑا تھا۔

”آؤ برخوردار اب میں تمہیں رخصت کروں۔ “

نجیب عالم نے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔ خاور چپ چاپ ان کے پیچھے چلنے لگا۔ مین گیٹ سے باہر نکلتے ہوئے ایک بار پھر خاور نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔

”فکر نہ کرو بیٹے۔ تمہارے باپ سے کوئی بات نہیں ہو گی۔ تم بھی سدھر جاؤ۔ “

”جی انکل۔ “

خاور کے جانے کے بعد نجیب عالم نے اطمینان کی گہری سانس لی اور گیٹ بند کر دیا۔

اگلے دن شام کو جب سحر اپنے کمرے میں کتاب کھولے بیٹھی تھی تو اس کے موبائل پر میسج ٹون بجی۔

اس نے فون اٹھا کر میسج پڑھا۔ ایک دو لمحے سوچتی رہی پھر ”اؤ کے“ لکھ دیا۔

چند سیکنڈ کے بعد بیل بجی۔ اس نے فون اٹھایا۔

”ہیلو! “ دوسری طرف سے خاور کی آواز سنائی دی۔

”سنو! اب مجھے فون مت کرنا۔ میں توبہ کر چکی ہوں“ اس نے سنجیدگی سے کہا۔

”توبہ تو میں نے بھی کر لی ہے۔ تمہارے ابو کی باتیں مسترد نہیں کی جا سکتیں۔ واقعی شراب کی لت میں پڑ کر انسان ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے۔ اگر میرے ابو کو پتا چل جاتا تو وہ میری جان ہی نکال دیتے۔ لیکن تمہیں صرف یہ بتانے کے لیے فون کیا تھا۔ کل رات میری جیکٹ کی جیب میں جو بوتل تھی وہ واقعی کمال تھی۔ بڑی مہنگی تھی اور بڑی دور سے ملی تھی میں نے سوچا کہ آخری دفعہ پی کر توبہ کر لیتا ہوں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں ایسی شراب تم نے کبھی نہیں چکھی ہو گی۔ خیر اب تو میری توبہ۔ “ خاور نے اتنا کہہ کر فون بند کر دیا۔ سحر نے فون ایک طرف رکھا اور پوری توجہ سے کتاب پڑھنے لگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *