لپ سٹک گردی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” نہ کوئی فنکشن ہو اور نہ کسی حوالے سے کوئی خاص دن، تو یونیورسٹی میں آتے ہوئے لڑکیاں عموماًلپ سٹک نہیں لگاتیں اور شوخ لپ سٹک تو بالکل بھی نہیں، ہاں اگر کوئی لڑکی باقاعدگی سے لپ سٹک لگانا شروع کردے تو وہ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ یا تو اس کی شادی ہوگئی ہے اور یا منگنی“ یہ بات آج سے کوئی سات یا آٹھ سال پہلے میں نے خیبر پختونخوا کی ایک بہت ہی مشہور یونیورسٹی میں ایک لڑکی کی زبانی، ایک مباحثے کے دوران سنی۔

اب سرخی لگانے پہ کسی کو کیوں کر اعتراض ہوسکتا ہے؟ لال ہونٹ کسے نہیں پسند اور پھر اگر کسی کا دھیان ہونٹوں کی طرف نہ بھی جائے تو یہ شاعر یا گائیک آپ کو تب تک نہیں چھوڑیں گے جب تک آپ ایک آدھ ایسا کوئی نظارہ نہ کرلیں کیونکہ شاعر جیسے لبوں کی تعریف کرتے ہیں تو طرح طرح کے گمان ہونے لگتے ہیں۔ لگتا ہے کہ ہونٹ، ہونٹ نہیں بھلے کسی گلاب کی پنکھڑیاں ہیں، اب پنکھڑی چمن میں کھلے اور حسن پرست حشرات اس پہ نہ بھنبھنائیں، کیا یہ ممکن ہے؟

کچھ شاعر تو لبوں کو کاٹ کھانے کی بات کرتے ہیں جیسے لب محبوب نامی درخت پر اگنے والا کوئی پھل ہو، اور کچھ اسے اتنا شیریں بیان کرتے ہیں کہ شوگر کے مریض سن کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ کچھ شعراء نے تو ہونٹوں کو سونے کی دوا قرار دیا ہے، کچھ اس میں شراب جیسی تاثیر دیکھتے ہیں، کچھ اسے شہد آلود کہہ کر کھانسی کے علاج کا مجرب نسخہ کہتے ہیں۔ بعض نے تو حد ہی کردی ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ محبوب کے ہلتے ہونٹ دیکھ کر ان کی نہ صرف دل کی دھڑکن بحال رہتی ہے بلکہ آنکھوں کی نظر بھی کچھ تیز ہوجاتی ہے۔

اب سنا تو یہ تھا کہ گاجر کھا کے ہی آنکھوں کی نظر تیز ہوتی ہے، لیکن سرخ گاجروں کے بعد سرخ ہونٹ بھی آنکھوں کا علاج کرنے کے کام آتے ہیں۔ شاعروں کے بعد باقی کا کام بالی ووڈ اور لالی ووڈ کی گیتوں نے پورا کردیا، ان فلموں میں ہونٹ دکھا دکھا کر اس کی تعریف میں گایا جاتا ہے۔ اور شاید ہی کوئی ایسی فلم ہو جس میں رومان کا ابتدا ہونٹوں کی ٹکراؤ سے نہ ہوا ہو، سین جتنا ہی بولڈ کیوں نہ ہو لیکن دو کرداروں کے ہونٹوں کے بوس و کنار سے ہی شروع ہوتا ہے، گال چومنا تو اب ماضی ہو کر رہ گیا ہے، حتیٰ کہ اس جنریشن کی ماؤں کو بھی جب اپنے چھوٹے بچوں پہ پیار آتا ہے تو ہونٹوں پہ ہی چومتی ہیں اور یوں بچے بھی جوابا ویسے ہی اپنا پیار دوہراتے ہیں، یوں چھوٹی ہی عمر میں بچے لاشعوری طور پر ہونٹوں کی جذباتی حیثیت جان جاتے ہیں۔

عورتیں اور کچھ مرد 3500 قبل مسیح سے لپ سٹک (ہونٹ رنگائی) کا استعمال کر رہے ہیں اور ہر سال دنیا بھر میں اربوں روپے کی لپ سٹک کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور مختلف مغربی ریسرچرز کے مطابق لپ سٹک فیشن انڈسٹری کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کاسمیٹیکس میں سر فہرست ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ لپ سٹک کیوں لگائی جاتی ہے؟ قدرتی طور پر سرخ ہونٹوں کو مزید کیوں رنگا جاتا ہے؟ یہ سوال میرا کسی مرد سے نہیں بلکہ اس عورت سے ہے جو گھر سے نکلتے ہوئے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر لپ سٹک لگاتی ہے اور پھر دونوں ہونٹوں کو آپس میں ملا کر خرگوش کی منہ جیسی حرکت دے کر اسے ہونٹوں کی سطح پر ہموار کرتی ہے اور آخر میں ایک دفعہ پھر خود کو آئینے میں دیکھ کر مسکرا تی ہے، کہ آپ نے لپ سٹک کیوں لگائی یا لپ سٹک کیوں لگائی جاتی ہے؟

ہونٹ اور لپ سٹک کے بارے میں جتنا پڑھا اس کا خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ لپ سٹک لگانے کا مقصد ہونٹوں کو چہرے پہ نمایاں رکھنا اور خوبصورت دکھانا ہی ہے اور اس بات سے بھی انکار کرنا ناممکن ہے کہ ہونٹوں کا تعلق ڈائریکٹ جنسیت سے ہے۔ اور لپ سٹک لگانے کے کافی نفسیاتی اثرات بھی ہوتے ہیں ان پر جو اسے استعمال کرتے ہیں، اور ان پر بھی جو ان بنے ہوئے ہونٹوں کے جلوے دیکھتے ہیں، لپ سٹک جس بھی نیت سے لگائی جائے لیکن وہ مخالف جنس کو اپنی طرف کھینچے کے کام ضرور آتی ہے۔

اس موضوع کو ایک بلاگ میں سمیٹنا ناممکن ہی سمجھیئے کیونکہ لپ سٹک اور اس کے اثرات کوئی لوکل نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اب آتے ہیں مدعے کی طرف 21 جنوری 2020 کو آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن نے ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے انسٹیٹوٹ کے طلبہ پہ انسٹیوٹ کے اندر لپ سٹک لگانے پر پابندی عائد کی اور خلاف ورزی کرنے والے کو 100 روپے جرمانہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی، یہ نوٹیفیکشن ایک خاتون اہلکار کی طرف سے جاری کیا گیا، اور اسی مہینے کی 27 تاریخ کو یہ خبر میڈیا کی زینت بن گئی، مسئلہ جموں کشمیر پہ نیم خاموش انٹرنیشنل میڈیا نے بھی اس مسئلے کو خوب کوریج دی لیکن پابندی کیوں لگی!

اس کا کوئی واضح جواب نہیں ملا، شاید اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی، اور 27 جنوری کو ہی یونیورسٹی نے اپنا نوٹیفیکشن واپس لے کر لپ سٹک لگانے پر عائد پابندی ختم کردی۔ لپ سٹک کا تعلق سجنے سنورنے سے ہے اور عورت کو کب اور کہاں سجنا اور سنورنا چاہیے اس کے بارے میں ہمارے مذہبی اور معاشرتی دونوں اقدار صاف واضح ہیں، اس پر بحث کی کوئی ضرورت نہیں۔

میں خود عورت کے لپ سٹک لگانے کے حق میں ہوں لیکن اگر وہ اسے اپنے ہونٹوں پر لگائے نہ کہ واش رومز اور کلاس رومز کی دیواروں اور شیشوں پہ! اور نہ کہ وہ اس سے اساتذہ اور انتظامیہ کے خلاف دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے استعمال کرے۔ اس بلاگ کے ساتھ منسلک تصاویر اسی یونیورسٹی کی ہیں جہاں لپ سٹک پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اب ان تصاویر کو دیکھ کر بندہ خودسوچے کہ اگر لپ سٹک ان کے اپنے گھر یا دفتر میں اسی مقاصد کے لئے استعمال کی جائے تو کیا اس پر پابندی لگنی چاہیے یا نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *