لمحہ فکریہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج دوپہر کے وقت ایک راستے سے گزرتے ہوئے نظرجب دو نوجوانوں ( اُنکی اوسط عمر چودہ سال کے قریب ہو سکتی ہے ) پر پڑی جو نہر میں ایک مہینے سے کھڑے پانی، جسمیں قریب گھروں کے رہائشی گندگی اور غلاظت پھینکتے ہیں، وہاں سے اپنی روزی تلاش کرکے ایک بڑے تھیلے میں ڈال کر آگے جارہے تھے۔  یہ ایک درد بھری کیفیت اور لمحہ فکریہ سے کم نہ تھا۔ اُنکی طرح ہزاروں اور نوجواں ہمارے معاشرے میں ہیں نہ کوئی ہنر اور نہ کام، کمانے کے لئے کچھ نہ کچھ کررہے ہوتے ہیں جو وہ کررہے تھے۔

”نہر سے پانی کی سپلائی ہورہی تھی تو مسائل اتنے گھمبیر نہ تھے کیونکہ جو بھی اس میں ڈالا جاتا تھا پانی بہا لے جاتی تھی۔ جہاں کہیں وہ جاکر رُکتے وہاں سے انہیں نکالنا مشکل ہوتا ہوگا لیکں ہمیں یہ مسائل نہ تھے۔ گزشتہ ایک مہینے سے اس نہر میں پانی بند ہے اور نہر کے دونوں اطراف رہائشی اپنے گھروں سے جو بھی اُن کی ضرورت میں نہ ہو جمع کرکے اس نہر میں ڈالتے ہیں۔ چند دن پہلے حالت یہ ہوگئی یہ نہر بھر گئی اور وہاں سے بدبو پھیلنا شروغ ہوئی تو رات کے وقت میونسپل انتظامیہ نے مشین لگاکر نہر میں گندگی کو ٹرکوں میں بھر کر کہیں ڈسپوزآف کردیا۔ جو گندا کیچڑلوڈنگ کے وقت روڈ پہ پڑا تھا جس سے روڈ پہ کئی دنوں سے آج تک گردوغبار ہے جس کی وجہ سے لوگ ماسک پہن کر چلنے پھرنے پہ مجبور ہیں“ ایک رہائشی نے کہا۔

نہر میں باقیات اور گندہ پانی تو موجود ہے لیکں لوگ دوبارہ گندگی وہاں ڈالنا شروغ کرچُکے ہیں۔ ابھی تو حالات نارمل ہیں لیکن جب گرمی شروع ہوگی تو مسلسل بدبو کے ساتھ یہ کتنی بیماریوں اور جراثیم کی آماجگاہ ہوگی اُس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے لیکن بیماری اور اُس پر اخراجات کا تخمینہ لگانا اب مشکل ہوگا۔ وہاں رہنے والے شہری پڑھے لوگ اس پر پریشان ہیں اور وہ اس سے آگے کیا کر سکتے ہیں شاید اپنے حصے کی گندگی وہاں نہیں ڈال کر کہیں گندگی کی ڈھیر میں پھینکیں گے اور اپنے دوست و احباب سے بھی اس حوالے سے شاید بات کریں گے۔

پورے ملک میں صفائی کے حوالے سے ناگزیرعوامی شعور اور تعلیم جو بہت پہلے خاندان، سماج، سماجی اور تعلیمی اداروں اور معاشرے میں ہونا چاہیے تھا نہ ہونے کی وجہ سے صفائی کے مسائل روز بروز شہری علاقوں میں شدید اور دیہی علاقوں میں بھی بڑھ رہے ہیں۔ پشاور میں ہر صج روڈ، اسٹریٹس اور بازارصاف کیے جاتے ہیں لیکں شام کے وقت دیکھا جائے تو نظر نہیں آتا کہ آج صبح صفائی ہوچُکی تھی۔ اب بھی معاشرے میں تعلیمی، سماجی اور مذہبی اداروں اور میڈیا کے ذریعے صفائی اور دوسرے مسائل کے حوالے سے لوگوں کو ایجوکیٹ کرنے کا کام شروع کرکے اور جگہ جگہ ڈسٹ بن نصب کرکے اس پر کچھ حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

ایک کڑوا سچ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جس رفتار ( دو اعشاریہ چارفیصد ) سے آبادی میں اضافہ ہوا اور ہورہا ہے جس سے معاشرے میں موجود وسائل ایک طرف مقدار سے زیادہ صرف ہورہے ہیں اور دوسری طرف اُن پر حد سے زیادہ بوجھ پڑ چُکا ہے۔ گھر، محلہ، بازار، روڈ، ریسٹورانٹ، ہوٹل، سکول، ہسپتال اورسفر میں جائیں وہاں رش اور شورشرابا اور وہ بھی ”نوجوانوں کا“۔ جس رفتار سے وسائل خرچ ہورہے ہیں اسی طرح مسائل بڑھ رہے ہیں جس میں صفائی ایک اہم مسئلہ بن چُکا ہے۔ کراچی میں صفائی کے مسائل پر بحث، اور لاہور میں مسائل کے حوالے سے رپورٹ قابل غور تھی جس میں روزانہ ہر شخص، ائیر کوالٹی انڈکس کے مطابق، 14 سیگریٹ پینے کے برابر دھواں اندر لے جاتی ہے۔

یواین ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اُنہتر فیصد آبادی کی عمر تیس سال سے کم اور اُنتیس فیصد آبادی پندرہ سے اُنتیس سال کے درمیاں نوجوانوں کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آئندہ پانچ سالوں میں چار اعشاریہ پانچ ملیں نوکری کے مواقع اور بائیس ملین سکول سے باہر بچوں کو سکول میں داخل کرنے کی ضرورت کی سفارش کی گئی ہے تاکہ اس آبادی کو لیبیلٹی بننے سے بچاکر افرادی قوت میں تبدیل کیا جاسکے۔ اگر آبادی کتنی نوجوان کیوں نہ ہو جب تک وہ ہنرمند نہ ہو اس کا کیا فائدہ۔

ایک طرف ملک کی یہ آبادی موجود وسائل پر بوجھ بن چُکی ہے تو دوسری طرف اُس سے خاطر خواہ فائدہ نہ اُن خاندانوں کو اور نہ ملک کو مل رہا ہے۔ زیادہ کمانے والے ہاتھ کا مفروضہ ہنر کے بغیر ہو تو جتنا زیادہ کیوں نہ ہوں کمائی محدور ہی ہوتی ہے جوکہ چوتھی انقلاب ( ٹیکنالوجیکل ریوالوشن) کے بعد مزید گھمبیر ہورہا ہے۔ ملک میں مہنگائی، اور معاشی اور کاروباری نمو میں سست روی اور اشیائے خوردونوش میں افراط زر سے، ماہرین، مزید بے روزگاری کا عندیہ دے رہے ہیں۔

ملک میں حالات اور نوجوان آبادی کو مدنظر رکھ کر ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگز باقاعدہ سروے، ضرورت اور مارکیٹ کو دیکھ کر دیکھنے میں آنہیں رہا۔ ( چترال میں خواتین کے لئے اب دو ووکیشنل ادارے کام کررہے ہیں اور لڑکوں کے لئے ایک ٹیکنیکل کالج تھا جس میں اب چترال یونیورسٹی چل رہی ہے ) ۔ ناخواندہ آبادی نہ صرف وسائل پر بوجھ بن چُکی ہے بلکہ معاشرے میں کئی ایک سماجی، معاشی اور معاشرتی مسائل کا باعث بھی ہے اور ملک میں آنے والے دو تین دہائی بعد بڑھتے ہوئے آبادی کی وجہ سے خوراک اور پانی کے مسائل ہونیوالے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان، الیکشن کے دوران اور اس سے پہلے کئی ایک مواقع پر سڑکوں کے بجائے ملک میں ہنر مند افرادی قوت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر کام کرنے کا وعدہ کرچُکے ہیں اُنہیں عملی شکل دینے کی اب اشد ضرورت ہے تاکہ ملک میں 64 فیصد نوجواں آبادی اپنے اور اپنے ملک کی ترقی میں کردار ادا کرسکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *