گورے رنگ کا زمانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجابی زبان کا مقولہ ہے کہ گورا رنگ شخصیت کے سات بڑے عیبوں کا پردہ ہوتا ہے۔ برصغیر میں اس مقولے کا اجتماعی ذہنیت کا حصہ بننے سے لے کر ایک لاحاصل لیکن انتھک دوڑ اور پھر ایک اجتماعی ذہنی عارضے کی شکل اختیار کر لینے کی تہہ میں ایک طویل تاریخی، عمرانیاتی پس منظر کار فرما ہے۔ جلد کی رنگت ناصرف خوبصورتی کے معیارات میں پہلا معیار رہی ہے بلکہ دنیا بھر میں انسانوں میں امتیاز اور بڑی خونریزیوں کی وجہ بنا رہا ہے۔

زمانی لحاظ سے ہم اپنے حال یا ماضی میں جھانک کر دیکھیں یا مکانی اعتبار سے اپنے گرد و پیش پر نظر دوڑائیں تو گورے رنگ کے عجیب جلوے نظر آتے ہیں۔ وہاں امریکی حکومت کے ایوانوں میں گورے اور کالے رنگ کی بحث نے قوانین اور پالیسیوں کو ایک عرصہ سرگشتہ و حیران رکھا ہے تو یہاں العالمین کے محاذ کی جانب سے برطانوی سپاہ کے کسی مورچے سے ایک سکھ فوجی کے بآواز بلند گانے کی صدا سنائی دے رہی ہے ؛

گورا رنگ نہ کسے نوں رب دیوے تے سارا پنڈ ویر پے گیا

کبھی شعر و سخن میں گورے رنگ کی مدح سرائی ہوتی رہی ہے، تو کبھی لوگ عملی طور پر اس ہمائے خوشنماکو قید کرنے کی کوششوں میں نظر آتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک ایسا موضوع ہے جس کا طول ناپ میں آتا ہے نہ عرض۔ دنیا بھر میں خوبصورتی کے لیے خاص رنگت کا تعین بھی امارت اور خوشحال طبقوں کے بدلتے رنگوں کے تابع رہا ہے۔ یورپ کے ذرعی دورمیں کسان مردوں اور عورتوں کے کھیتوں میں کام کرنے کی وجہ سے ان کی رنگتیں پکی پڑ جاتی تھیں جبکہ جاگیردار لاٹ صاحبوں اور بیگمات کی رنگت دودھ کی سی سفید رہتی، لہذا صدیوں تک یورپ میں صاف گوری رنگت ہی خوبصورتی کا بڑا معیار رہی۔

صنعتی انقلاب کے بعد عام لوگ سایہ دار چھتوں تلے کارخانوں اور دفاتر میں کام کرنے لگے جبکہ ان کے فارغ البال مالک نئی نئی ایجاد شدہ موٹروں اور جہازوں پر چڑھ کر کئی کئی ماہ فرانس اور انگلستان کے ساحلوں پر تابستانی غسل لینے نکل جاتے۔ بھیگے بدن پر ساحلی دھوپ کی کرنوں کی سنولاہٹ وطن واپسی پر اس شاہانہ سیر کی نشانی رہ جاتی جو ایک فخریہ علامت بنتی گئی۔ اور آج بھی یورپ کے کئی مقامی گورے اپنی رنگت کو سنولانے کے لیے ٹوٹکے آزماتے ہیں۔

لیکن ہم اپنی بات کا ایک سرا اس دلچسپ امر کو بناتے ہیں کہ جس مٹی سے ہماری آپ کی نمو ہے، سیکڑوں سال ہندوستان کہلاتی رہی ہے اور یہ فارسی نام ”کالوں کی سرزمین“ کے معنی رکھتا ہے۔ ایرانی اسی مناسبت سے چہرے (رخسار وغیرہ) کے تل کو ’خال ہندو‘ اور تربوز کو اس کے سیاہ رنگ کی وجہ سے ’خربوزہ ہندو‘ یا ’ہندو دانہ‘ (پنجابی میں ہندوانا) کہتے تھے۔ حافظ شیرازی کا یہ مشہور کس نے نہیں پڑھا؛

اگر آں ترک شیرازی بہ دست آرد دل ما را

بہ خال ہندو اش بخشم سمرقند و بخارا را

جنوب اور مشرق کے ہندوستان بشمول وہ علاقے جن کی ثقافتی اساس دراوڑ تہذیب سے منسلک ہے، یعنی سندھ اور روہی کے علاقہ کے لوک گیت اور شاعری میں آج بھی محبوب کے لیے سانول اور بھورل کے نام برتے جاتے ہیں۔ دراصل اس دھرتی کی کوکھ سے جنم لینے والے، اسے آباد کرنے اور یہاں تہذیب کی بنا رکھنے والے لوگ سیاہ رنگت کے تھے۔ پھر یہ گورا رنگ کہاں سے آیا اور کیونکر آج کشورستان ِحُسن میں فرمانروا بن بیٹھا ہے، یہ امتداد زمانہ کی تاریخی ستم ظریفیاں ہیں جن کا آغاز تقریبا پانچ صدیاں قبل مسیح میں شمال مغرب سے وارد ہند ہونے والے لامبے قد اور گوری رنگت کے آریاؤں کی آمد سے ہوا۔

آریاؤں کے مقامی قبیلوں اور اقوام کے ساتھ اختلاط کی ایک لمبی تاریخ ہے لیکن ان قبائل کے مذہبی دیوتاؤں کی مورتیوں کے گہرے رنگوں سے اس امر کا اظہار ہوتا تھا کہ ہندوستان کے لوگوں کی طرح ان کے دیوتا اور دیویاں بھی سانولے تھے۔ شمال سے آنے والے فارسی بانوں نے جب ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کی تو یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں شاعری نے اخلاقیات اور مذہب کے مباحث سے نکل کر حسن و عشق کو اپنا موضوع بنا لیا تھا۔

فارسی شعر کی ترویج اور ہندوستانی زبان پر اثرات، نیز فارسی ثقافت کے پھیلاؤ کی وجہ سے ایرانی و فارسی معیار ہائے حُسن بڑی حد تک ہندوستان میں بھی مقبول ہوئے لیکن جہانگیر کے دور میں جب طامس روؔ ہندوستان میں تجارت کی اجازت لینے آیا تھا تو اس وقت بھی گورے رنگ سے عام اہل ہند اتنے مانوس نہ تھے لہذا ایک مقامی مؤرخ نے کمپنی کے لوگوں کے بارے میں لکھا تھا کہ ان لوگوں کے چہرے کی رنگت ”کراہت انگیز حد تک“ سفید تھی۔ آریاؤں، فارسی بانوں اور دیگر اقوام نے سیکڑوں سال کی رفاقت کے بعد ناصرف اہل ہند کو گورے رنگ سے مانوس کر دیا بلکہ کئی ہندوستانی اقوام میں بھی لامبے قد، گوری رنگت اور دوسرے کئی غیر ہندوستانی اوصاف ہویدا ہونے لگے۔

جدید تاریخ میں گورے رنگ کو قبول عام کی مسند پر بٹھانے میں ہندوستانی تھیٹر نے اہم کردار ادا کیا۔ واجد علی شاہ کے ناٹکوں تک بھی سانولے رنگ کی حسینائیں تھیٹر میں مقبول رہیں لیکن مظفر الدین قاچار، شاہ ایران کے دور میں وطن بدر ہونے والے پارسیوں نے جب بمبئی میں تھیٹر اور سینما کی بنیاد ڈالی تو وہ یہاں اپنے ایرانی ذوق جمالیات کو بھی ساتھ لے آئے۔ سیٹھ پسٹن جی فرامجی نے بمبئی میں پہلی تھیٹریکل کمپنی اسی دور میں قائم کی۔

قیام پاکستان تک بننے والی اکثر فلموں میں گوری رنگت کی ہیروئنیں کاسٹ ہوتی رہیں تا وقتیکہ پاکستان بنا اور یہاں کی نوزائیدہ فلمی صنعت کو یو۔ پی سے آنے والے فلمسازی کے فن سے بہتر طور پر آشنا پڑھے لکھے سانولے اردو بانوں نے پروان چڑھانا شروع کیا۔ یہ دور سورن لتاؔ اور شمیمؔ آراء جیسی سانولی سلونی ہیروئنوں کے عروج کا دور تھا۔ پاکستانی فلمی صنعت کے زوال کے ساتھ یہاں کا حسن بھارتی صنعت کے تابع ہو رہا جوکہ پچھلی دو تین دہائیوں سے براہ راست عالمی فلم اور فیشن کی صنعت کے زیر اثر آ چکا ہے۔ سماج اور شوبز کی صنعت چونکہ ایک دوسرے کے آئینہ دار ہیں، لہذا آج کے دور میں یہ صنعت مکمل طور پر زبان خلق بھی بن چکی ہے اور نقارہ خدا بھی۔

رنگت کو گورا کرنے کا شوق بھی اس تاریخ کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ قدیم ہند کے روایتی سولہ سنگھاروں میں ایک بھی چہرے کی رنگت سے متعلق نہ تھا ماسوائے چوتھے سنگھار ”انگراگ ولیپن“ کے جس میں صندل اور تیل کی لئی چہرے پر لیپ کی جاتی تھی جس کا مقصد قدرتی رنگت کو نکھارنا تھا، نہ کہ اسے بدلنا۔ دُلہن کو شادی سے قبل ”مایوں“ بٹھانے کا مقصد بھی یہی ہوتا تھا کہ شادی کے روز نہلانے اور ابٹن ہلدی ملنے کے عمل میں اس کے چہرے کی قدرتی رنگت نکھرے گی۔

انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل کی خواتین میں دیسی طریقوں سے رنگت نکھارنے کا رجحان ملتا ہے۔ البتہ نئی صدی کاسمیٹکس اور بالخصوص رنگ گورا کرنے کی دواؤں کی شدید ترویج کی صدی ہے۔ حتٰی کہ گوری رنگت عمومی زندگی میں ہماری عملی، پیشہ ورانہ اور ازدواجی زندگی میں کامیابی کے حصول کے ذرائع میں سے نہایت اہم بن گئی ہے۔ سری لکشمن راما کرشنؔن کے ایک مضمون ”ہندوستان میں کوئی بھی کالا نہیں رہنا چاہتا“ میں انہوں نے مغرب کے بڑھتے ہوئے اثرات کو اس امر کا ذمہ دار قرار دیا ہے کہ ہماری سوسائٹی میں گورا رنگ معیار حسن بن گیا ہے۔

عام آدمی کے بہتر ہوتے ہوئے معیار زندگی کے علاوہ شوبز کے اثرات بھی ہمارے جمالیاتی ذوق پر گہرے ہیں۔ کاسمیٹکس صنعت کے اشتہارات نے بھی اس حوالے سے ناصرف عوام الناس میں گوری رنگت کا اشتیاق پیدا کرنے کی کوششیں کی ہیں بلکہ اپنی مصنوعات کی فروخت کے لیے سانولی رنگت کی خواتین میں غیر محسوس انداز میں ایک احساس کمتری پیدا کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ گزشتہ ایک عشرے میں رنگ گورا کرنے کی دواؤں کا استعمال اس قدر بڑھا ہے کہ کئی نقالوں نے بھی مضر صحت مواد کے استعمال سے تیسرے درجے کی کاسمیٹکس بنا کر فروخت کرنا شروع کر دی ہیں، جن سے خواتین میں جلد کی بیماریاں بالخصوص Ochronosis نے زور پکڑا ہے۔

لیکن پھر بھی رنگ گورا کرنے والی دواؤں کے استعمال میں پندرہ سے بیس فیصد سالانہ اضافہ سروے کیا گیا ہے۔ بھارت کے ایک سروے کے مطابق 2004 تک بھارت میں پچیس فیصد مرد حضرات بھی رنگ گورا کرنے والی دوائیں استعمال کرتے تھے لیکن 2005 ء میں بالخصوص مردوں کے لیے ”فیئر اینڈ ہینڈسم“ کریم کے متعارف ہونے کے بعد ان اعداد و شمار میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ 2012 میں ہندوستان کے پندرہ بڑے شہروں میں سروے کیا گیا تو نتائج سے پتہ چلا کہ 80 فی صد مرد رنگ گورا کرنے کی دوائیں استعمال کرتے ہیں اور ہر نفر ماہانہ پچاس سے سو ہندوستانی روپے اس مد میں خرچ کرتا ہے جو کہ روز افزوں ہیں۔

پاک و ہند دونوں معاشروں میں گورے رنگ کا خبط اس قدر پختہ رنگ پکڑ چکا ہے کہ شاید آنے والی نسلوں کو یہ باور کرانا بھی مشکل ہو جائے کہ سانولی رنگت بھی کسی دور میں حسن کا معیار رہی ہے اور یہ کہ گہری رنگت پر کسی طرح کا احساس کمتری قطعی روا نہیں ہے۔ اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ یا تو بڑھتی ہوئی سائنسی ترقی سے اہل پاک و ہند اپنی سیاہ رنگت کے راکشس کو پچھاڑنے میں کامیاب ہو جائیں یا پھر یہی سائینسی طرز فکر انہیں یہ حقیقت باور کرا دے کہ ان کا اصل رنگ سانولا ہی ہے اور انہیں اپنی گورے ہونے کی خواہش کے بودے پن کا احساس ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *