مسئلہ اقتصادی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم لاکھ معیشت معیشت کرتے جائیں ہمارے مسائل کی جڑ اقتصاد میں نہیں بلکہ کہیں اور ہے۔ ابتر معاشی حالات دراصل مسئلہ ہے مسئلے کی وجہ نہیں۔ ساری خرابی سوچ کی ہے۔ جب تک ہم اپنی سوچ میں بنیادی تبدیلیوں کی طرف قدم نہیں بڑھائیں گے ہمارے درد کو شفاء نہیں ملنے والی۔ ہماری اکثریت منتقم مزاج ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ محنت سے جی چرانا ہماری عادت ہے۔ شارٹ کٹ لینا ہماری فطرت بن چکی ہے۔ دوسروں کو الزام دینا اور اپنے آپ کو فرشتہ سمجھنے کا مرض ہمیں قومی سطح پر لاحق ہے۔ مسائل ہم اس صورت حل کرنا چاہتے ہیں جب کامیابی کی پگڑی ہمارے سر ہو۔ جب تک ہم اپنے ان مسائل کو حل نہیں کریں گے ہماری معیشت اوپر جا ہی نہیں سکتی۔

آپ عمران خان کی مثال لیں۔ خان صاحب وزیراعظم بننا چاہتے تھے بن گئے۔ ورلڈ کپ کی غیر متوقع جیت اور شوکت خانم کینسر ہسپتال کی تعمیر نے خان صاحب کی اس سوچ کو مزید پختہ کردیا کہ آپ جب کوئی مقصد حاصل کرنے کے درپے ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو روک نہیں سکتی۔ یہ ایک زبردست سوچ ہے لیکن اس سوچ کی کچھ محدودات ہیں یعنی بنیادی انسانی قدروں کو پامال کیے بغیر اپنے ہدف کی جانب مسلسل سفر۔ وزیراعظم بننے کی دوڑ میں خان صاحب نے قدم قدم پر سمجھوتے کیے اور یوں جب کامیابی ملی تو وہ سرشاری ناپید تھی جو انسان اپنی منزل پر پہنچ کر محسوس کرتا ہے۔

اس خونچکاں سفر میں عمران خان نے اپنے ان تمام بنیادی اصولوں کا گلا گھونٹا جن کے وہ سینکڑوں دفعہ اعلانات کرتے آئے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وزیراعظم بننے کے بعد والے مرحلے کو وہ یکسر نظر انداز کر بیٹھے اور یوں جب اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنے دعووں اور وعدوں کو پورا کرنے کا وقت آیا تو وزیراعظم صاحب بالکل کورا کاغذ ثابت ہوئے۔

اب آپ موجودہ صورتحال پر غور کریں، پاکستانیوں کو درپیش ان گنت مسائل میں سب سے بڑا اس وقت بقاء کا ہے۔ کوئی ملک خدانخواستہ ہم پر حملہ کر کے ہمیں مٹا نہیں رہا بلکہ ہمارا داخلی بحران کسی بھی وقت ہمیں ڈھا سکتا ہے۔ ایسے میں ایک لیڈر کی ذمہ داری کیا ہے؟ قوم کا مورال بلند کرکے مسائل کی نشاندہی اور قابل عمل حل پیش کرنا۔ اس صورتحال میں وزیراعظم کیا کر رہے ہیں؟ پہلے حالات اس نہج پر پہنچنے سے پہلے کا دورانیہ دیکھ لیں۔

شاعر نے حادثے کے بھرپا ہونے کے لئے وقت کے ہاتھوں اس کی برسوں پرورش کا ذکر کیا ہے۔ موجودہ اقتصادی حادثے کی پرورش کا آغاز خان صاحب نے حکومت سنبھالنے سے پہلے ہی کر لیا تھا جب انہوں نے نواز شریف کو نشانے پر رکھ لیا اور ہر قیمت پر نواز شریف سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی ٹھان لی کہ نواز شریف سے الیکشن جیتنے کے لئے جس اہلیت کی ضرورت تھی خان صاحب کے توشہ خانے میں موجود نہیں تھی۔ وزیراعظم بننے کے بعد معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا تدارک کرنے کے بجائے خان صاحب بھینسوں اور کاروں کی نیلامی میں جت گئے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ’کیش‘ حاصل کرنے کا شارٹ کٹ لیا۔

جب کسی بگڑے ہوئے بچے کے ہاتھوں خاندان کی حالت غیر ہوجاتی ہے تو ماں باپ اس کے لئے کاروبار شروع کرنے کی مہم پر نکل پڑتے ہیں اور بگڑے نواب کی خواہش کے مطابق اسے کیش رقم دلا دیتے ہیں کہ کیش ہاتھ آجائے تو ’میں سب کر لوں گا‘ ۔ نتیجہ؟ تھوڑے عرصے بعد سارا خاندان پچھتا رہا ہوتا ہے کہ بندر کے ہاتھ میں استرا دنیے کا اور کیا نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے؟ کیش حاصل کرنے کے لئے خان صاحب نے ایک اور شارٹ کٹ لیا، کرپٹوں کو لٹکا کر پیسے نکالو۔

کیا ہی شاندار مفروضہ تھا کہ قید و بند کی صعوبتوں سے گھبرا کر شریف اور زرداری اپنی تمام رقم خان صاحب کے قدموں میں ڈھیر کر کے کہیں گے ’جہاں پناہ یہ سب لو لیکن ہماری جان بخشی کرو‘ ۔ ملک پر حکمرانی کرنے والے اتنے بزدل اور بے وقوف نہیں ہوسکتے کہ اپنی دولت سے بھی جائیں، اپنے ہاتھوں اپنی سیاست کا گلا بھی گھونٹ دیں اور نہ ختم ہونے والی رسوائی بھی اپنے ماتھے پر ثبت کریں۔

اب کیا ہو رہا ہے؟ ایک حقیقی لیڈر کو ان حالات میں کیا کرنا چاہیے؟ سادہ سی بات ہے دو کام! ایک تو قوم کی اعتماد سازی اور دوسرا تدبر اور انہماک کے ساتھ قابل عمل حل ڈھونڈنا اور اس پر فی الفور عمل کا آغاز۔ ہمارے ہینڈسم وزیراعظم مگر کیا کر رہے ہیں؟ حالات پر ہر لمحہ کنٹرول کھوتے ہمارے وزیراعظم قوم کے اعتماد کی بحالی کے واسطے ’گبھرانا نہیں‘ کی اکسیر دریافت کرنے کے علاوہ مختلف اجلاس بلاتے ہیں؟ ہاتھ میں تسبیح اور چہرے پر مصنوعی اعتماد سجائے وزیراعظم صاحب بیوروکریٹس اور وزراء سے حل پوچھتے ہیں، وہ انہیں پچاس ہزار پرچون کی دکانوں کا کہتے ہیں وزیراعظم صاحب بسم اللہ کہہ کر اپنے ٹویٹر کا مورچہ سنبھالے سپاہی کو فرمان جاری کرنے کا کہتے ہیں اور یوں اس دن مطمئن ہوجاتے ہیں کہ

آگے کا دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply