کینسر زدہ بلوچستان میں کینسر بلاک کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قارئین! آج کا میرابلاگ کینسر زدہ بلوچستان میں کینسر بلاک کا سنگ بنیاد رکھنے کے حوالے سے ہے مگر اس سے قبل کینسر مرض کے پھیلنے کے حوالے سے چند اکٹھی معلومات ارشاد باری تعالی کے بعد آپ قارئین کے سامنے پیش کرنے کی جسارت ضرور کروں گا۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ (سورہ اٰل عمران: 185 ) ترجمہ: ”ہر نفس کو موت چکھنی ہے“۔

یعنی کہ یہ دنیافانی دنیا ہے اور زمین پر موجود ہر جاندار چاہے وہ انسان، حیوان، چرند و پرند ہو اس پر موت آنا بر حق ہے ۔ہم سب نے ایک نہ ایک دن اس فانی دنیا سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ وقت کے مطابق کوچ کر جانا ہے مگر کینسر ایک ایسا ہول زدہ لفظ ہے جسے پڑھتے ہی ہمارے دل و دماغ میں موت کا تصور در آتاہے کہ اس مرض میں مبتلا مریض اب صرف چند ہی دنوں، مہینوں یا سال کا مہمان ہے اور اس جان لیوا اور موزی مرض میں مبتلا مریض اور ان کے اہل خانہ پر گویا قیامت سی طاری ہوتی ہے۔

”اردو پوائنٹ ویب کے مطابق فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی اور پینم کینسر ہسپتال کے ماہرین طب کی جانب سے اے پی پی کوبتانے والی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد کینسر کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جارہے ہیں مگر بروقت تشخیص اور طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناکر اس مرض سے متاثرہ مریضوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جاسکتا ہے۔ “

”جبکہ عالمی ادارہ صحت WHO) ( نے انکشاف کیا ہے کہ کینسر دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مرض بن چکا ہے اور 2032 تک دنیا بھر میں کینسر کے مریضوں کی تعداد 2 کروڈ 50 لاکھ تک ہونے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں ہرسال تقریباً 80 لاکھ افراد کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوکر موت کے منہ چلے جاتے ہیں“۔

تمام تر معلومات کے بعد آپ یہ پڑھ کر متحیر ہوں گے کہ دیگر صوبوں کے علاوہ بلوچستان میں جہاں اس مرض سے متعلق کوئی بھی ہسپتال قائم نہیں ہے میں بھی اس جان لیوا مرض نے بُری طرح اپنے پنجھے گاڈدیئے ہیں۔ کوئٹہ کے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کے شعبہ امراض سرطان کے سربراہ ڈاکٹرزائد کے مطابق بلوچستان میں سالانہ 10 سے 12 ہزار افراد کینسر کے مرض کا شکار ہورے ہیں۔ اور آئے روز ہمیں اخبارات سمیت سوشل میڈیا کے سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر بلوچستان کے پھول جیسے ننھے منے بچے، بچیوں، نوجوان لڑکے لڑکیوں اورضعیف العمر افراد کی تصاویر دیکھنے کو ملتی ہیں جوکہ اس مرض سے لڑتے لڑتے یا تو اپنے ہی گھروں میں یا کراچی سمیت ملک کے دیگر بڑے بڑے نجی ہسپتالوں میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس موذی مرض سے بچائے رکھے، یہ ہم سب کی دعا ہے۔ کیونکہ اس مرض سے متاثروہ افراد جوکہ امیر طبقے بھی سے تعلق رکھتے ہوں بھی اپنے مریض کا علاج کرتے کرتے اپنی ساری جمع پونجھی علاج معالجے میں خرچ کر بھیٹتے ہیں اور غریب طبقہ تو چندہ جمع کرتے کرتے اور اپنی جائیداد فروخت کرنے کے بعد بھی قرضوں تلے دب کر اپنے پیاروں کو علاج کرانے کی تگ و دو میں رہتے ہیں۔ چونکہ اس اکیسویں صدی میں بھی بلوچستان میں جدید سہولیات سے آراستہ کینسر ہسپتال نہ ہونے کے باعث اس مرض سے متاثرہ خاندانیں اپنے مریضوں کو علاج کے غرض سے یا تو کراچی یا ملک کے دیگر معروف بڑے نجی ہسپتالوں میں لے جاتے ہیں۔

 اس مرض کے علاج پر خرچہ بھی زیادہ آتا ہے۔ اسی تناظر میں بلوچستان کے عوام کا بلوچستان میں کینسر ہسپتال قائم کرنے کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے مگر ہائے شُومی قسمت کہ ماضی کی بے حس حکومتوں نے اس دیرینہ عوامی مطالبے سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے کبھی بھی اس جانب اپنی توجہ مرکوز نہیں کی۔ گزشتہ ماہ حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کی جانب سے ایک موہوم سی امید کو جگا دینے والی ایسی خبر ملی کہ مجھ جیسا ہر کوئی حکومت بلوچستان کے اس اقدام کو سراہے بنا نہیں رہ سکتا۔

”کہ بلوچستان کی تاریخ کا پہلا کینسر ہسپتال تعمیر ہوگا“۔ اور رواں ماہ کے چار فروری جوکہ کینسرکے عالمی دن کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ اس روز وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے قابل تحسین اقدام کے نتیجے میں شیخ خلیفہ بن زید النیہان ہسپتال کوئٹہ میں کینسر بلاک کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ یقینا جام کمال خان اس تاریخی اقدام سے اہل بلوچستان کے دلوں میں گھر کر گئے ہوں گے کہ اس مرض میں مبتلا افراد کے اہل خانہ اپنے اپنے پیاروں کا بلوچستان میں ہی علاج کرا سکیں گے۔ 1558 ملین روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ جوکہ 6 وارڈز، 140 بستروں اور 30 پرائیویٹ کمروں پر مشتمل دو سال کی مدت میں تعمیر ہوگا۔

اس بلاک کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا تھا ”کہ کینسر کا علاج اتنا آسان نہیں۔ کینسر جیسے مرض کا علاج کرتے کرتے لوگ مقروض ہوجاتے ہیں اور بلوچستان میں کینسر ہسپتال کا قیام عوام کا دیرینہ مطالبہ اور صوبے کی ضرورت تھی اور ہمارے ماہرین کی جانب سے شوکت خانم سمیت دیگر ہسپتالوں میں ماحول، آلات اور طریقہ علاج کا جائزہ لینے کے بعد اسی تناظر میں یہ منصوبہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ کینسر ہسپتال کا منصوبہ دو سال میں مکمل ہوگا۔ ہسپتال میں کینسر کی تشخیص، علاج اور نگہداشت کی جدید سہولتیں دست یاب ہوں گی“۔

یقینا صوبہ بلوچستان میں کینسر ہسپتال کا قیام برسوں پہلے ہونا چاہیے تھا۔ مگر ماضی کی حکومتوں نے اس جانب توجہ نہ دے کر تنکا نہ توڑ سکنے کے مصداق اپنی کارکردگی کا واضح ثبوت دیا۔ تاریخی اقدام اٹھاکر صوبے کے عوام کو صوبے ہی میں جدید طبی سہولتیں فراہم کرنا ایک قابل تحسین اقدام ہے۔ ایسے تاریخی اقدام کو ہر کوئی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور داد و تحسین دیے بنا نہیں رہ سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *