تھیلیسمیا کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تھیلیسیمیا ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان کا اندرونی نظام اس کی ضروریات کے مطابق خون پیدا نہیں کر پاتا۔ خون کی اس کمی کو تھیلیسیمیا کہا جاتا ہے۔

تاحال اس بیماری کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا۔ کسی معجزے کے علاوہ مریض کو محض زندہ رکھنے کے لیے مکمل طور پر انتقال خون پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ جب تک مریض کو خون ملتا ہے، زندگی چلتی رہے گی۔ جب خون نہ ملے مریض دم توڑ جائے گا۔

شادی سے پہلے صرف ایک ٹیسٹ آپ کے بچوں کو اس مہلک بیماری سے بچا سکتا ہے۔ اس ٹیسٹ کا نام ایچ بی الیکٹروفورس ہے اور اس کے ذریعے معلوم ہوجائے گا کہ آپ تھیلیسیمیا مائنر ہیں یا نہیں۔ اگر میاں بیوی دونوں تھیلیسیمیا مائنر ہوں گے تو بچوں کو یہ مہلک بیماری لگنے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔ صرف بیوی کو مائنر ہو اور شوہر کو نہ ہو، پھر بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن دونوں کو مائنر ہو تو پھر آپس میں شادی نہیں کرنی چاہیں۔ یہ لازمی نہیں کہ کزن میرج ہی اس کی وجہ ہو، اگر آپ باہر سے شادی کریں پھر بھی ٹیسٹ نہ کرنے کی صورت میں بیماری لگنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ ٹیسٹ کا زیادہ سے زیادہ خرچہ دو ہزار روہے ہے۔

محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت بارہ لاکھ افراد تھیلیسیمیا کا شکار ہیں۔ سالانہ چھ ہزار بچے اس جان لیوا بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔

تھیلیسیمیا کے اسی فیصد مریض غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان مریضوں کو معمول کی طبی امداد میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں اس بیماری کے خلاف برسر بیکار اکثر فلاحی ادارے بلا معاوضہ علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرتے ہیں، بعض ادارے مریض کے آمدورفت کا کرایہ بھی خود ادا کرتے ہیں۔

مریض کے والدین کیا کریں؟

بچے کو عمر اور وزن کے حساب سے بروقت خون فراہم کیا جائے۔ تھیلیسیمیا کا شکار بچوں میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی شدید کمی ہوتی ہے۔ اس لئے ان کو دودھ، پھل، دہی اور دیگر ایسی اشیا کھلائی جائیں جن سے ہڈیاں مضبوط ہونے میں مدد ملتی ہے۔ ہیموگلوبن لیول دس سے اوپر رکھنے کی کوشش کی جائے، اس سے بچہ چاق و چوبند رہتا ہے۔

مسلسل انتقال خون کی وجہ سے بچے کے جسم میں فولاد کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو دل پر اثر انداز ہوکر موت کا سبب بن سکتا ہے۔ فولاد کی مقدار کم کرنے کے لئے انجکشن ڈسفرال وقت پر لگایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید قاسم رضا بخاری کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *