لال محمد ( 1933۔ 2009 ) اور بلند اقبال ( 1930۔ 2013 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران ہمارے گھر میں ریڈیو پاکِستان کراچی سے جنگی ترانے اور نغمات بہت شوق سے سُنے جاتے تھے۔ یہ ترانے سُن سُن کر مجھے بھی یاد ہو گئے۔ اِن کو میں بہت شوق سے گاتا تھا۔ اُس زمانے میں ریڈیو پاکستان کراچی سے اِتوار کی صبح بچوں کا پروگرام آیا کرتا تھا۔ جنگ کے اِختتام پر محض میرے شوق کی خاطر میری والدہ مجھے ریڈیو اسٹیشن لے گئیں۔ پروگرام ’ بچوں کی دُنیا‘ کے پروڈیوسر ظفر اِقبال تھے۔ اب بھلا بچوں کے آڈیشن کا کیا معیار ہوتا ہو گا! بہر حال۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک سنجیدہ سے صاحب نے آڈیشن لیا۔ مجھے تو لفظ آڈیشن کا مطلب بھی نہیں آتا تھا۔ اُس وقت دستیاب بچوں میں شاید میں ’اندھوں میں کانا راجہ‘ تھا جب ہی تو مجھ ایسے کو اُن صاحب نے پاس کر دیا۔ وہ حضرت میری والدہ سے کہنے لگے کہ اگر اِس کو باقاعدہ اِسٹیشن لاتی رہیں تو یہ کچھ سیکھ جائے گا۔ یہ صاحب لال مُحمد تھے۔

اِن کے ساتھ ہی بُلند اِقبال صاحب سے بھی واسطہ پڑنے لگا۔ دونوں حضرات کی یہ جوڑی فِلموں میں لال مُحمداِقبال کے نام سے موسیقی دیا کر تی تھی۔ یوں ریڈیو پاکِستان کا دروازہ مجھ پر کھُلا اور میں بہت جلد کورس سے نکل کر ’سولو‘ نغمات گانے لگا۔ شایداُس زمانے میں سینٹرل پروڈکشن نئی شروع ہوئی تھی جہاں بچوں کے کئی گیت موسیقارلال محمد نے میری آواز میں صدابند کرائے۔ مجھے لال محمد اور بلند اقبال اپنی اپنی جگہ موسیقی کا ایک خزانہ لگتے تھے۔ اِن حضرات کو میں فخر کے ساتھ اپنا اوّلین اُستاد کہتا ہوں۔ موسیقی کی ابجد سے واقفیت اِن دونوں کی مرہونِ منّت ہے۔

موسیقار لال محمد :

لال محمد 1933 میں ر اجھستان کے شہر ’اودے پو ر‘ میں پیدا ہوئے۔ بانسری کا شوق انہیں ابتدا ہی سے تھا۔ 1951 میں ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ کراچی میں موسیقی کی ایک محفل میں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر سجاد سرور نیازی نے اِن کی بانسری کو بہت پسند کیا۔ نیازی صاحب ہُنر شناس تھے لہٰذا لال محمد کو ریڈیو پاکستان کراچی میں اسٹاف آرٹسٹ کی پیشکش کر دی۔ نیازی صاحب پاکستانی فلموں کی نامور گلوکارہ ناہید نیازی کے والد اور موسیقار مصلح الدین کے سسر تھے۔

اِن کی ایک اور صاحبزادی نجمہ نیازی ( یہ ماہ رُخ بھی کہلاتی تھیں ) نے بھی اگر چہ کم لیکن مقبول فلمی گیت ریکارڈ کروائے۔ میں جب پاکستان ٹیلی وژن کے شعبہ پروگرام سے منسلک ہوا تب نجمہ نیازی /ماہ رُخ پاکستان ٹیلی وژن کی ڈائریکٹر پروگرامز تھیں۔ میری ان سے پی ٹی وی ایوارڈ واقع لیاقت باغ راولپنڈی 1982 میں تفصیلی ملاقات ہوئی۔

موسیقار بُلند اِقبال:

بُلند اقبال صاحب موسیقی کے دہلی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اِن کے بڑے بھائی اُستاد اُمراؤ بُندو خان، بُندوخانی سارنگی کے اُستاد تھے جو اُن کے والد جناب بُندو خان صاحب نے ایجاد کی تھی۔ بلند اقبال بھی سارنگی بجانے میں مہارت رکھتے تھے اور اسی بنیاد پر ریڈیو پاکستان میں اسٹاف آرٹسٹ ہو گئے۔ اُس زمانے میں خود اُن کے بڑے بھائی اُستاد امراؤ بندو خان (وفات 1979 ) ، اُستاد حامد حسین، اُستاد نتھو خان جیسے قد آور سارنگی نواز اس انجمن میں تھے۔

بہت جلد بلند اقبال نے فیصلہ کر لیا کہ ریڈیو میں کمپوزیشن شروع کرنا چاہیے۔ پھر گیت و غزل کی موسیقی ترتیب دینے لگے۔ یہی زمانہ تھا جب لال محمد بھی ریڈیو پاکستان میں وارد ہوئے۔ بلند اقبال نہایت میٹھے آدمی تھے۔ نرمی سے بات کرنے اور اسرار و رموز سمجھانے میں آپ اپنی مِثال تھے۔ میں نے اُنہیں کبھی غصّہ کی حالت میں نہیں دیکھا۔ جبکہ لال مُحمد مزاج کے کچھ سخت اور بظاہر سنجیدہ اِنسان تھے۔ بانسری بجانے میں اِن کو ملکہ حاصل تھا۔

لال مُحمد صاحب قسمت کے بھی دھنی تھے۔ تعلقاتِ عامّہ میں بہت اچھے تھے۔ فلمسازوں، ہدایت کاروں، ہنرمندوں اور فلمی صحافیوں سے لال مُحمد ہی امور نبٹاتے تھے۔ میں نے ایسا ہوتے خود دیکھا ہے۔ ریڈیو پاکستان سے باہر موسیقی کا پروگرام ہو، کوئی غیر فِلمی ریکارڈنگ ہو، فِلموں کی موسیقی یا پس منظر موسیقی ہر جگہ پیسوں کی ہی کہانی ہوا کرتی ہے۔ سامنے والا فریق اگر اچھا ہو تو یہ اللہ کی نعمت ہے ورنہ پھر آج آؤ کل آؤ والی بات۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر الذکر صورتِ حال میں لال مُحمد صاحب کمال بیچ کا راستہ نِکال لیا کرتے تھے۔

بُلند اقبال راگ راگنیوں کی ابجد اور اُن کی اشکال اتنے آسان اور دِلچسپ پیرائے میں بتایا کرتے کہ میں اب کیا بتاؤں۔ سیماب اؔ کبرآباد ی کی مشہور غزل کی دُھن بُلند صاحب نے میرے سامنے بنائی:

کوئی مُوجِ گُل سے کہہ دے نہ چلے مچل مچل کے

وہ نظر بدل گئی ہے میری زندگی بدل کے

فلم دوسری ماں ( 1968 ) کے اس گیت کی دُھن بھی میرے سامنے بنائی گئی۔ یہ احمد رشدی کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا:

دنیا کے غموں کو ٹھکرا دو ہر درد کو تم سہنا سیکھو

پھولوں کی طلب کرنے والو کانٹوں پہ ذرا چلنا سیکھو

1968 تک میں تواتر کے ساتھ ’بچوں کی دُنیا‘ میں اپنی والدہ کے ساتھ جاتا رہا۔ ہر ہفتہ ریڈیو پاکستان کراچی سے 10 / رو پے کا چیک میرے اسکول، کلثوم بائی ولیکا سیکنڈری اسکول کراچی ائیر پورٹ کے پتہ پر آتا تھا جو پرنسپل صبح اسمبلی کے موقعے پر مجھے بلواکر دیتیں۔ پروڈیوسر ظفر اِقبال اور خاتون پروڈیوسر فاروق جہاں تیموری نے مجھے پروگرام ’نئی آواز‘ او ر ’نئے فنکار‘ میں 1969 کے اوائل تک بہت مواقع دیے۔ اُس وقت میری عمر 14 سال تھی۔

اِس عمر میں لڑکوں کی آواز میں تبدیلیاں آنا شروع ہوتی ہیں لہٰذا لال محمد اور بُلند اِقبال صاحبان نے مجھے گلا استعمال کرنے سے منع کر دیا۔ یہ وقت تھا جب میں نے اپنی والدہ اور والد صاحب کے ساتھ اُستاد امراؤ بندو خان صاحب کے گھر واقع نِشتر پارک اتوار کو جانا شروع کیا۔ یہ وہاں تعلیم دیا کرتے تھے اور تمام آنے والوں کو اپنے گھر کے فرد کا درجہ دیتے تھے۔ وہاں تو صرف مشاہدہ کرنے سے ہی بہت کچھ حاصل ہونے لگا۔

یہیں پر راگ ایمن، راگ پیلو، راگ بہار، راگ گونڈ سارنگ، راگ دیس، راگ بھیرو سے واقفیت ہوئی۔ اُس زمانے میں، میں اِن محافِل کی بدولت الاپ سُن کر بتا دیا کرتا تھا کہ کون سا راگ ہے۔ وہیں پر اُستاد امیر سُلطان صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ یہ جتنے صورتاً وجییہہ تھے اُس سے کہیں زیادہ نفیس اِنسان اور بہترین طبلہ نواز تھے۔ سُہیل رعنا کے معرکتہ الآرا فِلمی گیتوں میں آپ ہی کا طبلہ استعمال کیا گیا جو اُن گیتوں کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

یہ اُستاد امراؤ بندو خان اور بلند اقبال کے بھانجے وائلن نواز اور موسیقار اُستاد وزیر احمد خان کے سسر بھی تھے۔ وزیر احمد خان کے بڑے بھائی اُستاد امیر احمد خان مشہور فلمی شاعر یونسؔ ہمدم کے قریبی دوست اور ریڈیو پاکستان کراچی کے پروگرام پروڈیوسر تھے۔ بعد میں یہ اسی مرکز میں پروگرامز منیجر اور ڈپٹی کنٹرولر بھی رہے۔ یہ بہترین گلوکار اور موسیقار تھے اور رشتے میں اُستاد امراؤ بندو خان کے داماد بھی تھے۔

ایک محتاظ اندازے کے مطابق موسیقار لال محمد اقبال نے کم و بیش 31 فلموں کے لئے 91 گیتوں کی دھنیں بنائیں۔ جن میں 26 اُردو فلموں کے 89 گیت اور باقی سندھی اور پشتو فلموں کے لئے۔ 70 کی دہائی میں پاکستان اور بھارت کی اولین مشترکہ فلم ”سورج بھی تماشائی“ کے موسیقار بھی لال محمد اقبال تھے۔ اِسی سال لال محمد اقبال نے پاکستان کی پہلی پشتو فلم ”یوسف خان شیر بانو“ اور پہلی گجراتیفلم ”ماں تے ماں“ کی موسیقی ترتیب دی۔

اِن کی آخری اُردو فلم ”سب کے باپ“ 1994 میں نمائش کے لئے پیش ہوئی اور سندھی فلم ”ہمت والا“ ( ( 1997 اُن کی ریلیز ہونے والی آخری فلم ہے۔ یوں تو اِن کے مشہور گیتوں کی لمبی فہرست ہے لیکن مندرجہ ذیل وہ گیت ہیں جو آج بھی ریڈیو پاکستان، اُس کے ایف ایم اسٹیشن اور دیگر ایف ایم اسٹیشنوں سے ہم اکثر و بیشتر سنا کرتے ہیں :

موسیقار لال محمد اقبال کے کچھ مقبول گیت:

لال محمد اقبال نے زیادہ نغمات احمد رشدی کی آواز میں ریکارڈ کروائے۔ احمدرُشدی ( 1938 سے 11 اپریل 1983 ) ملکی فلمی صنعت کے سنہری دور کا ایسا ستارہ ثابت ہوا جس کی تابندگی کم و بیش 30 سال جاری رہی۔ اداکار وحید مراد کی فلموں کی اوپر تلے کامیابی کا ایک اہم سبب احمدرُرشدی کے پلے بیک گانے بھی تھے۔ جہاں احمد رشدی کا ذکر ہوتا ہے وہاں مجھے اِن کے المناک انجام کا سوچ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔ اس کو جاننے کے لئے آپ کو میرے ساتھ 1983 کے اپریل میں چلنا ہو گا۔

راقِم نے 1980 میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز میں شعبہ پروگرامز میں جب ذمّہ داریاں سنبھالیں تو خوش قسمتی سے موسیقی کے پروگرام کرنے کو ملے۔ 1983 میں اخبار میں پڑھا کہ نامور گلوکار احمد رشدی کو دورہ قلب کی وجہ سے ڈاکٹر وں نے آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے اور آج کل وہ کراچی میں قیام پذیر ہیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں نے سوچا اُن سے پروگرام ”آواز و انداز“ کروایا جائے۔ اُسی وقت میں اپنے اساتذہ لال محمد اور بلند اقبال صاحبان کے پاس گیا اور اُن سے درخواست کی کہ ا حمد رشدی کو 4 گیت ریکارڈ کروانے کے لئے راضی کریں۔

موسیقارلا ل محمد کے ہمراہ ا حمد بھائی سے ملاقات سودمند رہی۔ راقم کو اس وقت بہت حیرت ہوئی جب انہوں نے کہا کہ 3 انتروں کے ایک گیت میں وہ اپنے عروج و زوال کو لکھوانا چاہتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ خود ان کی اپنی کہانی تھی کہ کس طرح فٹ پاتھ کے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے موقع دیا کہ شہرت اور دولت کی بلندیوں کو چھو لے۔ پھر کس طرح سے وہ شخص ( احمد رشدی) اللہ کا ناشکرا بنا۔ وہ لوگ جن کے پیسے سے فلموں کا کاروبار چلتا تھا ان ہی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا۔

پھر کس طرح اوپر والے نے جھٹکا دیا۔ اور اب سارا دن ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے کا انتظار رہتا ہے کہ شاید۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت عمدہ گیت لکھا گیا۔ طے یہ پایا کہ شالیمار ریکارڈنگ کمپنی میں یہ گیت صدا بندکئے جائیں گے۔ جہاں موسیقار لال محمداقبال، ساؤنڈ ریکارڈسٹ شریف اور سلیم قریشی صاحبان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو گا۔ ایک زمانہ تھا جب احمد بھائی ایک دن میں کئی گیت ریکارڈ کروا لیا کرتے تھے اوراب 4 گانے 25 روز میں ”ٹریک ریکارڈ“ ہوئے۔

لیکن اس آڈیو ریکارڈنگ کا معیار اتنا اعلیٰ تھا کہ بڑے بڑے موسیقی کے پنڈت بھی حیران رہ گئے کہ یہ اُسی احمد رشدی کی آواز ہے۔ یہ سارا کمال احمد بھائی کی سخت محنت، لال محمداقبال کا حوصلہ اور شالیمار ریکارڈنگ کمپنی کے ہُنر مندوں کی 200 فی صد پیشہ ورانہ مہارت کی مرہونِ منت ممکن ہوا۔ لال محمد اور بلنداقبال صاحبان نے بھی احمد بھائی سے اپنی دیرینہ دوستی کا حق ادا کر دیا۔ پھرایک روزموسیقار لال محمد 8 ایم ایم والے آڈیو اسپول پر گیت منتقل کروا کے لے آئے۔

پی ٹی وی کراچی مرکز میں بلا مبالغہ جس کسی نے بھی سنا، سنتاہی رہ گیا۔ پروڈیوسر سلطانہ صدیقی اور پروگرام منیجر شہزاد خلیل بھی بہت خوش ہوئے۔ اب اگلا مرحلہ ویڈیو ٹیپ ریکارڈنگ کا تھا۔ احمدبھائی سے مشاورت کر کے ریکارڈنگ کی تاریخ 10 اپریل 1983 طے ہوئی۔ وی ٹی آر ( ویڈیو ٹیپ ریکارڈنگ ) کا کام آسان تھا لہٰذا امید تھی کہ چند گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔ احمد بھائی وقتِ مقررہ پر آ گئے اور آغاز اچھا ہوا۔ بچوں کے گیت پر موصوف نے بہت عمدہ لِپ سِنکِنگ کی۔

اگلے گیت سے پہلے ایک وقفہ تھا۔ ا سی دوران قیصر مسعود جعفری آ گئے۔ موصوف اُس وقت ایک نجی بینک میں تھے اور شوقیہ اخبارات میں ٹی وی اسٹیشن کی خبریں دیا کرتے تھے۔ پروگرام منیجرشہزاد خلیل صاحب اپنے دفتر سے یہ ریکارڈنگ دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے مجھے فون کیا کہ احمد رشدی کو اُن کے آفس میں چائے پینے کا کہوں۔ میں نے مودبانہ کہا کہ احمد بھائی آج کل بے حد حساس اور زود رنج ہیں کہیں وہ برا نہ مان جائیں۔ ساتھ ہی درخواست کی کہ وہی اسٹوڈیو میں آ جائیں لیکن وہاں سے احکامات برقرار رہے۔

میں نے احمد بھائی کے سامنے چائے پینے کی درخواست رکھی۔ بس اس کے بعد وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ احمد بھائی رنجیدہ ہو کر بولے ”آج یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ حکم دیا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چائے پی لو! “۔ راقم جلدی سے ان کے پاس بیٹھ گیا۔ پیار اور احترام سے ان کے کاندھے دبائے اور تسلی دی۔ اسی دوران قیصر مسعود جعفری کے ساتھ دیگر ٹی وی کارکنان بھی احمد بھائی کے قریب بیٹھ گئے۔ پھراچانک وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور راقم کو مخاطب کر کے کہنے لگے : ”اپنے پی ایم سے کہنا کہ میں نے جی توڑ کر یہ ریکارڈنگ کروائی تھی۔

ٹی وی سے ملنے والی رقم سے زیادہ تو میں نے آڈیو ریکارڈنگ میں آنے جانے کا ٹیکسی کاکرایہ دیا ہے۔ اس ذ لت کی زندگی سے تو اب مر جانا بہتر ہے ”۔ اتنا کہ کر وہ تیزی سے باہر نکل گئے۔ میں، قیصر مسعود جعفری جو آج کل کراچی پاکستان فلم ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے رکن ہیں اور دیگر افراد ان کے پیچھے بھاگے مگر احمد بھائی کو نہ رکنا تھا نہ رکے۔

اگلی صبح اخبارات سے دل کے دورہ سے ان کے انتقال کی خبریں پڑھیں۔ 11 اپریل 1983 کو احمد رشدی صاحب انتقال کرگئے۔ اس تمام واقعہ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اُن کے زندگی کے آخری گیت سرد خانے میں چلے گئے یہاں تک کہ ایک گیت جس کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی ہو چکی تھی وہ بھی پاکستان ٹیلی وژن سے نشر نہیں ہو سکا!

ذکر لال محمد اقبال کا ہو رہا تھا بات احمد رشدی کی المناک موت پر آ گئی۔ موسیقارلال محمد سے خاکسار کی آخری ملاقات 1984 میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز میں پروڈیوسر ذوالفقار نقوی صاحب کے کمرے میں ہوئی تھی۔ لال محمد صاحب بہت کمزور ہو گئے تھے۔ اُن کو کینسر کا مرض لاحق ہو گیا تھا۔ یہاں میں نے ایک حیرت انگیز تبدیلی محسوس کی کہ اب وہ پہلے جیسے سنجیدہ اور کم گو نہ تھے۔ کمزوری کے باوجود ہر آنے والے کے ساتھ ہلکے پھُلکے لطائف کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے۔ پھر حالات مجھے پاکستان سے باہر لے گئے۔ 2007 میں واپسی ہوئی۔ پھر لاہور میں نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہوا۔ وہیں اخبارات سے علم ہوا کہ 2009 میں موسیقی میں میرے اولین اُستاد جناب لال محمد کراچی میں 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

موسیقار بلند اقبال سادا زندگی والے سادا انسان تھے۔ ریڈیو سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ نے اپنی زندگی موسیقی کی خدمت کے لئے وقف کر دی۔ ویسے ماشاء اللہ چلتے پھرتے تھے لیکن جولائی 2013 کے رمضان میں دل کی تکلیف کے سلسلے میں اسپتال میں داخل ہوئے اور 12 روز بعد 83 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

گو لا ل محمد اقبال نے بہت زیادہ فلموں کی موسیقی ترتیب نہیں دی لیکن جو کام کیا، معیاری کیا۔ جب ہی تو ہر روز ریڈیو پاکستان اور دیگر ایف ایم اسٹیشنوں سے اِن کے بنائے ہوئی فلمی گیت آج بھی سننے کو ملتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میرے محترم اساتذہ لال محمد اور بلند اقبال کی مغفرت فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *