انقرہ: ایک مقبرہ، کچھ مسجدیں اور بہت سے مے خانے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں جن مسلم ممالک کا سب سے زیادہ ذکر سننے کو ملا وہ ترکی اور ایران تھے۔ سعودی عرب کا ذکر سوائے حج کے اور کسی معاملے میں سننے کو نہیں ملتا تھا۔ گاوں کی فضا میں سعودیوں کو وہابی ہونے کے ناتے زیادہ پسند بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ ترکی اورغازی مصطفیٰ کمال کا ذکر تو خیر تحریکِ خلافت کے حوالے سے بھی بہت ہوتا تھا۔

اس زمانے میں مکتبہ جدید لاہور نے میری لائبریری کے نام سے پیپربیک کتابوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس سلسلے کی درجن بھر کتابیں گھر میں تھیں جن میں ایک کتاب کا نام تھا سلطانی محلوں کے راز۔ یہ ترکی زبان کے کسی ناول کا اردو ترجمہ تھا۔ دو ایک بار اسے پڑھنے کی کوشش کی لیکن وہ کافی بور لگا۔ تیسری کاوش میں جب اسے پڑھا تو کوئی سو صفحات کے بعد اس میں کافی دلچسپی اور سسپنس کا سامان تھا۔ وہ ناول سلطان عبد العزیز کے عہد حکومت کے آخری ایام اور ان کی وفات کے ذکر سے شروع ہوتا تھا اور باقی حصہ میں سلطان عبد الحمید کے عہد حکومت اور انجمن اتحاد و ترقی کی سرگرمیوں کا تذکرہ تھا۔ اس کی ہیروئن دستہ ریز نامی ایک کنیز تھی جسے ملکہ بننے کی شدید خواہش تھی۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ کتنی ہی سازشوں کا جال بنتی ہے۔ خیر اس ناول کے مطالعہ سے مجھے توپ کاپی، قصر یلدز، باسفورس، باب عالی، ینی چری وغیرہ جیسے الفاظ سے واقفیت ہوئی۔ اس ناول میں اس وقت کے وزیر اعظم مدحت پاشا کی بہت تعریف و توصیف کی گئی تھی۔

اس ناول کے مطالعہ کے تقریباً پینتالیس برس بعد سن 2010 میں ترکی کے سفر کا موقع میسر آیا۔ ترکی کی ایک این جی او ہے ایسوسی ایشن فار لبرل تھنکنگ۔ جس کے صدر تھے ڈاکٹر بیجان شاہین۔ 13 سے 16 جولائی تک وہاں ایک ورکشاپ تھی جس کا عنوان تھا:

Promoting a Free Society

 مجھے اپنے دوست اور شاگرد ڈاکٹر خلیل احمد کے توسط سے اس ورکشاپ میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ وقت بہت کم تھا، اس لیے ہبڑ دبڑ میں سفر کی تیاری کی۔ سوچا جا رہا ہوں تو کچھ سیر بھی کر لی جائے اس لیے پندرہ دن کا ویزہ حاصل کیا۔

 12 اگست کی رات ٹرکش ایئر لائنز کی پرواز سے کراچی ایر پورٹ سے روانہ ہو کر 13 اگست کی صبح استنبول کے اتاترک ایرپورٹ پر لینڈ کیا۔ جہاز سے شہر کا نظارہ بہت خوبصورت اور دل کو لبھانے والا لگا۔ امیگریشن کے مراحل سے گزر کرانقرہ کی پرواز کے لیے گیٹ تلاش کیا۔ دوپہر کے وقت جب جہاز انقرہ شہر کے اوپر پرواز کر رہا تھا تو جو بات سب سے عجیب لگی وہ مسجدوں کا نقشہ تھا۔ شہر میں بہت سی مساجد نظر آئیں لیکن حیرت انگیز طور پر سب کا ایک ہی نقشہ تھا اور ایسا لگتا تھا کہ ایک ہی میٹیریل سے بنی ہوئی ہیں۔ جہاز نے ایر پورٹ پر لینڈ کیا۔ ایر پورٹ کا نام پڑھنے اور سمجھنے میں دقت پیش آ رہی تھی۔ وہاں اتر کر پہلے منی ایکسچینج سے 50 ڈالروں کے ٹرکش لیرا لیے۔ ان دنوں ایک امریکی ڈالر تقریبا ڈیڑھ لیرا کے برابر تھا۔ ایک روسی مسافر وہاں شور مچا رہا تھا کہ یہ بہت کم ریٹ دے رہے ہیں لیکن ہوائی اڈوں پر اکثر جگہ یہی وتیرہ ہوتا ہے۔ وہاں سے نکل کر میزبانوں کی ہدایت کے مطابق کوسٹر میں سوار ہو کر ایک مقام پر پہنچا۔ وہاں سے ٹیکسی لے کر ہوٹل پہنچا۔ اس وقت تک دوپہر کے دو بج چکے تھے۔ بھوک بہت لگ رہی تھی۔ سامنے ایک ریستوراں نظر آیا۔ وہاں جا کر بیٹھا تو سب سے پہلے ٹیولپ کی شکل کے شیشے کے گلاس میں ایک محلول سامنے لا کر رکھ دیا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسے ٹرکش چائے کہتے ہیں۔ چند گھونٹ پیے لیکن کچھ مزا نہ آیا۔ اب بڑی مشکل تھی کھانے کا آرڈر دینا۔ انگریزی وہ بالکل نہیں سمجھتے۔ خیر مینو کارڈ سے تصویر کی مدد سے برگر کا آرڈر دیا۔ کافی دیر بعد ویٹر نے پیک شدہ حالت میں سامنے لا رکھا۔ بڑی مشکل سے سمجھایا کہ میں یہیں بیٹھ کر کھانا چاہتا ہوں۔ پھر وہ پلیٹیں لے کر آیا۔

اپنے ہوٹل واپس آ کر سوچا گھر ای میل پر اطلاع کر دوں۔ ہوٹل کی لابی میں پڑے کمپیوٹر پر بہت کوشش کی لیکن وہ میرا ای میل ایڈریس تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ میں انگریزی کا آئی ٹائپ کرتا تھا لیکن سکرین پر آئی بغیر ڈاٹ کے نظر آتا تھا۔ تنگ آ کر ای میل بھیجنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ ٹیلی فون پر بیٹے کو اطلاع کر دی کہ میں خیریت سے انقرہ پہنچ گیا ہوں۔ فوری طور پر میرے دماغ میں یہ بات نہ آئی کہ ہوٹل والے سے مدد لوں۔ کوئی دو دن بعد میں نے اس سے پوچھا تو پتہ چلا جس کی کو میں انگریزی کا آئی سمجھ کر دباتا تھا وہ ٹرکش آئی ہے۔ انگلش آئی کے لیے ایک دوسری کی ہے۔ تب جا کر مسئلہ حل ہوا۔

رات ڈنر کےموقع پر ڈاکٹر بیجان شاہین اور دوسرے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ڈنر کے بعد ڈاکٹر بیجان شاہین نے مجھے اور علی سلمان کو اپنی کار میں شہر کی سیر کرائی۔ ڈاکٹر بلال سامبور بھی ہمراہ تھے۔ بیجان نے بتایا کہ انقرہ میں جناح سٹریٹ بھی ہے۔ جناح کا تلفظ سمجھ میں نہ آیا۔ پوچھا کون؟ تو اس نے کہا پاکستان کے بانی۔ خیر وہاں سے بھی گزرے۔ اسی سڑک پر چانکایہ پیلس بھی ہے جو اتاترک کے زمانے سے ترکی صدور کی رہائش گاہ رہا ہے۔ البتہ اب نیا صدارتی محل بن چکا ہے۔ سیونتھ سٹریٹ وہاں کا بہت مشہور بازار ہے لاہور کے انارکلی بازار جیسا علاقہ ہے، لیکن فرق صرف یہ ہے کہ اس سٹریٹ میں بہت سے مے خانے ہیں۔

ایک مقام سے گزر رہے تھے تو بیجان نے کہا یہ اتاترک کا مقبرہ ہے۔ اسے انت کبیر کہتے ہیں، گریٹ گریو۔ علی سلمان نے پوچھا کبیر کا مطلب گریٹ ہے؟ تو بیجان نے جواب دیا نہیں گریو۔ اب علی سلمان بہت حیران ہوا کہ کبیر کے معنے گریو کس طرح ہو سکتے ہیں۔ خیر اس وقت تک ترکوں کا لہجہ کچھ کچھ میری سمجھ میں آنے لگا تھا۔ میں نے علی سلمان سے کہا حیران ہونے کی ضرورت نہیں یہ قبر کو کبیر کہہ رہے ہیں۔

ورکشاپ زیادہ تر نوجوانوں کے لیے تھی۔ میں سب سے سینیر تھا۔ ایک عراقی صاحب بھی بڑی عمر کے تھے۔ ورکشاپ کے شرکا میں زیادہ تعداد میں لڑکے لڑکیاں مصر سے تھے۔ ایک کا تعلق شاید مراکش سے تھا۔ ایک خاتون لبنان سے اور دوسری اردن سے تھی۔ افغانستان سے دو لوگ تھے اور دو کا تعلق عراق سے تھا۔ ایک نوجوان کا تعلق کرغیزستان سے تھا جو میرا روم میٹ تھا۔ وہ چودہ کی صبح کو پہنچا تھا۔ میں نے نام پوچھا تو اس نے بتایا ازن۔ میرے چہرے پر حیرانی دیکھ کر اس نے کہا آپ مجھے حسن کہہ سکتے ہیں۔ یہ سنتے ہی میرے ذہن میں آیا کہ انقرہ ایرپورٹ کا نام ازن بوغا پڑھنے میں میں مجھے کس دقت کا سامنا تھا۔ وہ اصل میں حسن بوغا ہے۔ اس پر مجھے ابن صفی کی عمران سیریز کا ایک مشہور کردار بوغا یاد آیا۔ جدید ترکی میں غ کا حرف لکھا جاتا ہے لیکن بولا نہیں جاتا، اس کے بعد آنے والے حرف علت کو لمبا کرکے بولتے ہیں۔ لکھتے اردغان ہیں لیکن بولتے اردوآن ہیں۔ بعد میں استنبول میں بھی ایک دو بورڈوں پر ازن لکھا ہوا دیکھا۔ کرغیزستان والے بھی ٹرکش بولتے ہیں اس لیے دو تین دن بعد میں نے ازن سے پوچھا تم یہاں کی زبان سمجھ لیتے ہو تو اس نے جواب دیا تقریباً پچاس فیصد سمجھ لیتا ہوں۔ ترکی زبان بولنے اور سمجھنے کی وجہ سے وہ ورکشاپ میں شریک لڑکیوں میں بہت مقبول ہو گیا کیونکہ شام کو بازار یا رات کو نائٹ کلب جانے کے لیے وہ ان کا ترجمان ہوتا تھا۔

جدید ترکی زبان میں جو بولتے ہیں وہی لکھتے ہیں اس لیے انھوں نے عربی زبان کے ث، ح، خ، ذ، ط، ظ۔، ع، ص، ض، ق کے حروف نکال دیے ہیں۔ د وہ بولتے ضرور ہیں لیکن اکثر جگہ وہ ت میں بدل جاتی ہے۔ محمد مہمت بن جاتا ہے اور احمد اہمت میں بدل جاتا ہے۔ لکھتے بھی ایسے ہی ہیں۔ ایک دن ایک صاحب کا لیکچر تھا جن کا نام بہاتین لکھا ہوا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ نام کیا ہے۔ خیر ہم دو پاکستانیوں کو دیکھ کر انھوں نے بتایا کہ جب وہ امریکہ گئے ہوئے تھے تو وہاں کچھ پاکستانیوں سے دوستی ہو گئی۔ وہ اکثر ان کے نام کی بابت حیران ہوتے تھے۔ ایک دن کسی نے کہا یہ بہاء الدین تو نہیں۔ تو ان صاحب نے جواب دیا بالکل یہی ہے۔ میں نے کہا اب آپ کا نام ہمارے لیے بھی مانوس ہو گیا ہے۔

ہمارے بعض مذہبی خیال کے لوگ جب ترکی جاتے ہیں تو انھیں اس قسم کی باتوں پر بہت افسوس ہوتا ہے۔ ایک صاحب جب انقرہ گئے تو انھیں اس بات پر بہت افسوس ہوا کہ کسی کو شہر کا اصل نام انگورہ معلوم ہی نہیں تھا۔ انگورہ اون آج بھی مشہور ہے۔ لیکن کیا کیا جائے انھوں نے آسانی کا راستہ اختیار کیا۔ ہماری زبان میں کتنے ہی حروف ہیں جو عربی کے ہیں لیکن ہم نے ان کو زبان میں رکھا ہوا ہے حالانکہ ہمارے ہاں زبان بولنے والوں کی بڑی اکثریت ان کی درست ادائیگی سے قاصر ہوتی ہے۔ ترک حروف علت کو بھی لمبا کرکے بولتے ہیں اس لیے شہر شہیر ہو جاتا ہے اور قبر کبیر۔

ہمارے ہاں آج بھی رومن رسم الخط اپنانے پر غازی مصطفیٰ کمال کو بہت برا بھلا کہا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسم الخط کی تبدیلی اور اصلاح زبان سے ترک قوم کو بے پناہ فائدہ ہوا ہے۔ ان کی شرح خواندگی، جو عثمانیوں کے عہد میں تقریباً دس فیصد تھی آج نوے فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ چالیس فیصد کے قریب نوجوان یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ جدید ترکی میں بہت شاندار ادب تخلیق ہوا ہے۔ ایک ناول نگار تو نوبل انعام بھی حاصل کر چکا ہے۔ دیگر کئی ناول نگار عالمی شہرت کے حامل ہیں۔

اضافت انھوں نے ختم کر دی ہے۔ لفظ کے آخر پر یے یا سی لگاتے ہیں ۔ مرکز شہر شہیر مرکزی بن جاتا ہے۔ مصطفیٰ کمال کے زمانے میں جو اسمبلی بنی تھی اس کا نام تھا بیوک ملت مجلسی، یعنی گرینڈ نیشنل اسمبلی۔ خ بھی ترکی میں نہیں ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خلیل ہلیل بن جاتا ہے ۔ ایک بورڈ پر Meyhaneلکھا ہوا دیکھا۔ لفظ کچھ جانا پہچانا محسوس ہوا۔ اوہو یہ تو میخانہ ہے۔ آخری ہ کو ایرانیوں کی طرح ے بولتے ہیں۔ اس لیے خانہ ہانے ہو جاتا ہے۔ مے خانہ کو مے ہانے کہیں گے۔ فرزانہ نام کو فرزانے بولتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ اب انداز سے بچوں کے نام بلا رہے ہیں۔

ایک صبح ناشتہ کرنے کے بعد میں نے سوچا کہ غازی مصطفیٰ کمال کے مقبرے کی زیارت کر لی جائے۔ ہوٹل سے دو ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ میں پوچھتا پچھاتا، گلیوں سے گزرتا ہوا پیدل ہی روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچ کر ٹکٹ خرید کر اندر داخل ہوا۔ کافی وسیع و عریض پارک ہے۔ گیٹ سے کوسٹرز چلتی ہیں جو مقبرے تک لے جاتی ہیں۔ میں بھی کوسٹر میں بیٹھ کر وہاں تک پہنچا۔ مقبرہ کی اندر سے زیارت کرکے باہر نکلا اور اس کے طرز تعمیر پر غور کیا تو مجھے کچھ یوں محسوس ہوا کہ اس کے طرز تعمیر میں مشرقی رومی سلطنت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ قیصر روم کا مقبرہ ہو۔

سارا دن ورکشاپ کے حوالے سے گزر جاتا تھا۔ کئی سیشن ہوتے تھے۔ کانفرنس کے آخری دن دوپہر کے بعد جو سیشن تھا وہ خاصا تکنیکی سا تھا جس میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں نے اجازت لی اور شہر دیکھنے نکل پڑا۔ پتہ تو کچھ تھا نہیں بس یونہی سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا رہا۔ ایک جگہ ایک بڑی سی عالیشان مسجد نظر آئی۔ ترک مسجد کا لفظ استعمال نہیں کرتے بلکہ اسے جامی کہتے ہیں جو لگتا ہے کہ جامع کی تخفیف ہے۔ اس مسجد کا نام کوجک تپے ہے۔ بعد میں ڈاکٹر داود رہبر کی کتاب میں پڑھا کہ یہ مسجد وزیر اعظم عدنان میندریس کے زمانے میں بنی تھی۔ اس زمانے میں یہ الزام لگا تھا کہ یہ امریکی ڈالروں سے بنائی گئی ہے۔ مسجد کے قریب ہی ایک بازار میں بہت سے مے خانے ہیں۔ انقرہ شہر میں میخانوں کی کثرت اور ان کی رونق دیکھ کر بے اختیار فارسی کا وہ مشہور مصرع یاد آیا:

عالم نہ شود ویراں، تا میکدہ آباد است

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *