برقع یا پردہ معاشرے میں پارسائی کو فروغ دے رہا ہے یا منافقت کو؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پردہ کسی دور میں یقیناً پردہ ہی کے تناظر میں ہوا کرتا تھا لیکن کیا آج بھی ایسا ہی ہے؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد میں ایک خاتون نے ٹریفک پولیس کو گاڑی روکنے پر گندی گالیاں دیں جس کی ویڈیو ٹی وی پر بھی چلی اور سوشل میڈیا پر بھی۔ ایک خاتون نے چند ہفتے قبل کراچی میں اسی قسم کی حرکت کی اور اس کی ویڈیو بھی وائرل رہی۔ پرسوں ٹی وی پر رابی پیر زادہ کو کورٹ میں پیش ہوتے دیکھا۔

اب آپ پوچھیں گے کہ ان تینوں واقعات میں کیا ربط ہے۔ یہ تینوں خواتین پردہ نہیں کرتی تھیں۔ اور ہم نے کسی کو مردوں کے ہجوم میں گندی گالیاں نکالتے سنا اور کسی کو لوگوں کے ہجوم میں لہک لہک کر گانا گاتے (میں یہاں گانے والے کی تضحیک نہی کر رہا) لیکن جب ان کو عدالت میں بلایا گیا تو یہ تینوں خواتین برقعے میں ملبوس تھیں اور کسی کے تو ہاتھ میں تسبیح بھی تھی۔ آخر اس بھیس بدلنے کی نوبت کیوں پیش آئی؟ کیوں ان خواتین نے یہ ضروری جانا کہ عدالت میں برقع پوش ہو کر جانا چاہیے؟ کیا ان کا برقع پہننا پردہ کے لئے تھا یا اپنی شناخت چھپانے کے لئے؟ میرے خیال میں آج کل برقعے کا استعمال پردہ کی بجائے شناخت چھپانے کے لئے استعمال ہو رہا ہے؟

آپ کسی بھی بڑے ڈپارٹمنٹل سٹور پر جائیں جہاں لڑکیاں شرٹ اور جینز میں مختلف اشیاء کے سٹالز پر آپ کو وہ پروڈکٹ خریدنے کی ترغیب دے رہی ہوں گی۔ لیکن کبھی صبح اسی سٹور کے باہر کھڑے ہو کر مشاہدہ کریں کہ کیا یہ لڑکیاں اسی لباس میں سٹور تک پہنچتی ہیں؟ میں کہوں گا نہیں! ان کی اکثریت برقع میں ملبوس ہوتی ہے اور سٹور پہنچ کر برقع اتار دیا جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ دفتروں میں کام کرنے والی لڑکیوں کے ساتھ ہے۔

وجہ چاہے کچھ بھی ہو لیکن یہ پریکٹس معاشرے میں دہری اور دوغلی زندگیاں گزارنے کو فروغ دے رہی ہے۔ جہاں ایک طرف تو ان کو جھوٹی معاشرتی اور مسلط کردہ اقدار کی تعمیل میں شناخت چھپانے کے لئے پردہ کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور دوسری طرف اپنی فیملی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے روزگار کے لئے ایک دوسرا بھیس بدلنا پڑتا ہے۔

کیا یہ دوغلا پن صرف خواتین تک ہی محدود ہے؟ بالکل نہیں! مرد حضرات بھی اس دوغلے پن میں برابر کا حصّہ ڈال رہے ہیں یا شاید ایک قدم آگے ہی ہیں۔ کیا آپ کے علم میں ایسے صاحبان نہیں جو پانچ وقت کے نمازی ہیں اور مکمل مذہبی حلیے کے ساتھ جھوٹ بھی روانی سے بولتے ہیں اور کاروبار یا ملازمت میں دھوکا دہی بھی کرتے ہیں۔ کیا آپ ایسے صنعت کاروں کو نہیں جانتے جو ہر سال حج کرتے ہیں اور رمضان میں لمبی لمبی لائنیں لگوا کر زکواۃ دیتے ہیں لیکن ان کے اپنے ملازمین جائز حق سے محروم ہیں۔ کیا آپ کے خاندان میں ایسے رشتہ دار نہیں جو واعظ اور تبلیغ میں اتنے پراثر ہیں کہ سننے والوں پر سحر طاری کر دیتے ہیں لیکن بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد کا حق دینے سے انکاری ہیں۔ کیا خود ساختہ مذہبی اقدار ہمیں ایک اچھا انسان بنا رہی ہیں یا ایک دوغلا انسان جو دہری زندگی جی رہا ہوتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *