پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو درپیش مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس میں کوئی شک نہیں کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہے اور موجودہ تیز ترین دور میں انہی قوموں کا سکہ چل رہا ہے جنہوں نے تحقیق پر زور دیا۔ بہرحال تحقیق، فنی تعلیم، جدید علوم کی اہمیت بارے تفصیلی تحریر کبھی لکھوں گا لیکن ابھی ایک سنجیدہ ترین مسئلے پر تحریر لکھ رہا ہوں جس کا سامنا ہمارے ملک کو ہے۔

اعلی ٰ تعلیمی شعبہ نے سماجی و اقتصادی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے مگر ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اعلیٰ تعلیم تک ہماری رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کچھ روز قبل پنجاب کی نجی جامعات کے مسائل اور ان کے حل کے لئے تشکیل دی جانے والی کمیٹی کے اہم اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ خطہ کے تمام ممالک کی نسبت پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی صورت حالات مایوس کن ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ایران میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی کی شرح 52 فیصد، بھارت میں 25 فیصد، سری لنکا 17 فیصد، بنگلہ دیش 13 فیصد جبکہ پاکستان میں سب سے کم صرف 9 فیصد رہی۔

وطن عزیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کی تعداد ہی پریشان حد تک کم نہیں ہے بلکہ معیار تعلیم پر بھی سوالیہ نشانات ہیں۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے نجی شعبہ کی خدمات کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ تعلیم کا شعبہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے نہ ہی اس کی پالیسیاں علم دوست ہیں۔

پاکستان میں مجموعی طور پر 210 جا معات ہیں جن میں 40 % نجی جامعات ہیں جنہیں حکومتی سطح پر شراکت دار تصور کر کے ایسا ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے جو تعلیم و تعلم میں بہتری اورخاص طور پر انرولمنٹ کی شرح میں بہتری کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ موجودہ دور میں دنیا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کے لئے ہمیں مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، اینی میشن ڈیزائن جیسے شعبہ جات میں ترقی کرنا ہو گی جس کے لئے نجی جامعات بہترین معاون کا کر دار ادا کر سکتی ہیں۔

ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیمی شعبے کی تنزلی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ حکومتی سطح پر کسی ایک ڈیپارٹمنٹ کی منظوری میں چار سے پانچ سال لگ جاتے ہیں۔ ہم دور جدید کی تعلیم شروع کرنے میں ہی اتنا وقت برباد کر دیتے ہیں کہ دیگر ممالک ہم سے بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے دیگر صوبوں کی پرائیویٹ سیکٹر جامعات اور پبلک سیکٹر جامعات کی طرح پنجاب میں بھی بورڈ آف گورنر ز کی منظوری کے طریقہ کار کو اختیار کیا جائے۔

بوردڑ آف گورنرز میں چونکہ ایچ ای سی، پی ایچ ای سی اور ہائیر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے نمائندے بیٹھے ہوتے ہیں۔ نجی شعبہ کو بورڈ آف گورنرز کی منظوری کے بعد ڈیپارٹمنٹ کھولنے کی اجازت دی جائے۔ اس وقت کسی بھی ڈیپارٹمنٹ کی منظوری کے لیے پی ایچ ای سی، ایچ ای سی، سمیت 5 مختلف محکمانہ منظوریاں ضروری ہیں۔ جگہ جگہ مسائل کھڑے کرنے کے بجائے ون ونڈوسسٹم کیا جائے۔ اس ضمن میں غیر معمولی تاخیر کے عمل کو روکنے کے لیے کوئی احتسابی نظام بھی عمل میں لایا جائے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نجی جامعات نے اعلیٰ نظام تعلیم کے لئے قومی سطح پر سرکاری جامعات کے شانہ بشانہ خدمات سر انجام دی ہے لہذاٰ ان کا اعتراف کرتے ہوئے فیکلٹی ڈویلپمنٹ، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی کے میدان میں پرائیویٹ سیکٹر کو بھی فنڈنگ دی جائے تاکہ پاکستان کو بھی خطے کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کیا جا سکے۔

اسی طرح حکومت کی ریسرچ دشمن پالیسی کے باعث پاکستان میں ریسرچ کا معیار تیزی سے گر رہا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سابق حکومت کے دور میں ریسرچرز اور اعلیٰ تعلیم کے اساتذہ کو دی جانے والی ٹیکس ریبیٹ کو 40 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح تحقیق کے میدان میں دی جانے والی ٹریول اور ریسرچ گرانٹ کو بھی بند کیا جا چکا ہے۔ اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک سے برین ڈرین ہو رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ سے وابستہ طالب علم اور اساتذہ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

حکومت کو تشویش ناک صورتحال پر فوری توجہ دینا ہو گی بصورت دیگر ملک میں اعلیٰ تعلیم کی صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ پی ایچ ای سی کی طرف سے اساتذہ اور ریسرچرز کو گرانٹ دی جاتی تھی، ایچ ای سی اور پی ایچ ای سی کی گرانٹ ناصرف بحال بلکہ پبلک سیکٹر کے برابر نجی شعبہ کو بھی گرانٹ دی جائے۔ بعض سرکاری جامعات اس وقت شدید مالی خسارے کا شکار ہیں، تنخواہوں کی کٹوتیاں، اور پینشنز کی عدم دستیابی کا عالم ہے۔ اسی طرح ہماری بعض نجی جامعات بھی حکومتی عدم تعاون اور نظر اندازی کے باعث مسائل کا شکار ہیں۔

پاکستان میں عوام کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی ممکن بنانے کے لئے ضروری ہے کہ غریب آدمی کے بچے کو حق دیا جائے کہ وہ فیصلہ کرے اس نے سرکاری یا نجی ادارے میں سے کسے منتخب کرنا ہے۔ ایسے طالب علم جہاں بھی تعلیم حاصل کریں ان کے لیے وہیں گرانٹ فراہم کر دی جائے۔ سرکاری سطح پر طلبا کے اخراجات برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت نجی شعبہ میں علم حاصل کرنے والے غریب طلبا کا بوجھ بھی برداشت کرے۔ ترقی یافتہ ممالک یہاں تک کہ ترکی میں حکومت کی طرف سے انتخاب کا حق ہے کہ بچہ جہاں چاہے تعلیم حاصل کرے۔

نجی جامعات متعدد شعبہ جات میں سرکاری اداروں سے سستی اور معیاری تعلیم فراہم کر رہی ہیں صرف حکومت ان کی سرپرستی نہیں کر رہی الٹا رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں 40 ہزار طالب علموں کے لیے 7 ارب روپے مختص ہیں، یہاں ہر طالب علم کو حکومت کی طرف سے ایک لاکھ 75 ہزار روپے فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں نجی یونیورسٹیاں ہر طالب علم پر اوسطاً 75 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے سالانہ خرچ کر کے معیاری تعلیم فراہم کر رہی ہیں۔

اگر ہمارے حکمران و دیگر متعلقہ ادارے حقیقی معنوں میں اعلیٰ تعلیمی شعبہ کو تنزلی سے نکال کر بہتری کی طرف لے جانا چاہتے ہیں تو نجی جامعات کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا ہوگا نہ کے ان کی راہ میں رکاوٹیں بچھائی جائیں یا غیر قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ اسی طرح حکومت پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے موجودہ قانونی اختیارات پر جو ان کے چارٹر میں دیے گئے ہیں، ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

حکومت نے تعلیم بالخصوص اعلیٰ تعلیم کے شعبہ کے لیے کوئی بھی قانون بنانا ہے تو اس کے لیے پہلے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے اور ان کو اعتماد میں لیا جائے۔ حکومت حالات کی نزاکت اور ملکی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے نجی جامعات کے لئے لائحہ عمل تیار کرے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جسے اختیار کر کے لاکھوں طالب علموں اور ہزاروں اساتذہ کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچایا اور نجی جامعات کی بندش کو روکا جاسکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *