مہنگائی کم نہ ہوئی تو حالات سنبھالنا مشکل ہوگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قارئین اور ان کی رائے چاہے مثبت ہو یا منفی لکھنے والے کے لیے اثاثہ ہیں۔ تحریر خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو پڑھنے والے میسر نہ ہوں تو ایسے لکھے کا کچھ حاصل نہیں۔ سب سے خوش نصیب لکھاری میری نظر میں وہ ہیں جنہیں پڑھنے والے نہ صرف ان سے محبت کرتے ہیں بلکہ ان کی غیر حاضری پر انہیں مس بھی۔ مجھے اعتراف میں باک نہیں کہ ”نہ تو دانا ہوں نہ ہی کسی ہنر میں یکتا ہوں“۔ میری تحریر وقت گزاری سے زیادہ اہمیت کی حامل نہیں مگر الحمدللہ کچھ قارئین کی رائے ہر تحریر کے بعد بلا ناغہ بذریعہ ای میل یا واٹس ایپ پہنچتی ہے۔

انہی چند محبت کرنے والے احباب نے پچھلے کچھ عرصہ سے میری کم حاضری کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ رابطہ کر کے اس کی وجہ جاننے کی کوشش بھی کی۔ کام میں تاخیر ہو تو کچھ باعث تاخیر ضرور ہوتا ہے۔ قارئین کے روبرو حاضری میں بے قاعدگی کی ایک وجہ نہیں بلکہ بہت سی وجوہات تھیں۔ ان میں پہلی تو یہ کہ ”آزادی اظہار“ کی محدودات بہت بڑھ چکی ہیں اور احتیاط کے باوجود ممنوعہ حدود میں پاؤں پڑ ہی جاتا ہے۔ مجھ بے ہنر کے پاس اتنا سلیقہ نہیں کہ تشبیہ یا اشاروں کنایوں سے کام چلالوں۔ دوسری بات یہ کہ کالم نگاری میرا ذریعہ آمدن نہیں۔ پیشے کے لحاظ سے مزدور آدمی ہوں اور خرچ پورا کرنے کے لیے اب مزدوری کا دورانیہ بڑھانا ناگزیر ہو چکا تھا لہذا لکھنے کو میسر وقت کم ہو گیا ہے۔

رواں ہفتے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا اور اس بار کالم لکھنے میں جان بوجھ کر تاخیر اس انتظار میں کی کہ شاید اپوزیشن حکومت کو مجبور کرے کہ وہ آٹے و چینی بحران اور مہنگائی کی وجوہات عوام کے سامنے لانے کے ساتھ ساتھ اس کے ذمہ داران کو عبرت کا نشان بھی بنائے۔ جبکہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم کی طرف سے مہنگائی کو مزید قبول نہ کرنے کے عزم کے بعد دل ناداں کو یہ توقع بھی تھی کہ وہ اتحادیوں کی بغاوت کا قلع قمع کامیابی سے کرنے کے بعد سیاسی مصلحتوں سے ماورا ہو کر مصنوعی مہنگائی کے ذمہ دار کارٹیل مافیا پر اسمبلی میں آ کر ہاتھ ڈالنے کا اعلان کریں گے۔

ایک بار پھر لیکن قومی اسمبلی کا سیشن شور شرابے ہنگامے اور گالم گلوچ کی نذر ہو گیا۔ بلکہ اس بار مراد سعید اور عبدالقادر پٹیل نے بیہودہ گوئی کی تمام حدیں ہی پار کر دیں۔ ایوان چلانا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور ہر حکومت یہ کوشش کرتی ہے کہ ایوان کو پر سکون انداز میں ہنگامے سے پہلو بچا کر چلاتی رہے۔ یہ شاید پہلی حکومت ہے جو خود اپوزیشن کے گلے پڑنے کو بیتاب رہتی ہے۔ حالیہ اجلاس میں بہت سی اہم چیزیں زیر غور آ سکتی تھیں۔

جیسے کہ حکومت کو چاہیے تھا اپوزیشن سے کہتی کہ وہ آئی ایم ایف کے پروگرام پر چلنے کے ساتھ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے تجاویز فراہم کرے۔ اسی طرح ٹیکس کولیکشن ٹارگٹ میں جو شارٹ فال ہے اس ناکامی کے اسباب پر غور و فکر ضروری تھا۔ پھر خراب ملکی معاشی حالت کے اصل سبب یعنی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے خاتمے کے لیے ایکسپورٹ میں اضافے پر بحث ہوتی۔

اس کے برعکس مگر حکومتی بنچوں سے وہی الزام تراشیاں اور طعنے تمام وقت سننے کو ملے جو پچھلے ڈیڑھ سال سے بلکہ اس سے بہت پہلے تحریک انصاف کے اپوزیشن کے دنوں سے عوام سن رہے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس اور مایوسی مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی تقریر سن کر ہوئی۔ امید تھی وہ ایک ٹیکنوکریٹ ہونے کے ناتے سیاستدانوں والی گفتگو کے بجائے کوئی حل نکالنے کی بات کریں گے۔ انہوں نے بھی مگر وہی رونا رویا کہ جب ہم نے باگ ڈور سنبھالی ملک کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور ڈالر ناپید ہونے کے سبب ڈیفالٹ کے قریب تھا لہذا مجبورا ہمیں آئی ایم ایف پروگرام اور دوست ممالک کا دست تعاون حاصل کیا اور اگر ملک ڈیفالٹ کر جاتا تو عوام اس کے اثرات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

گویا ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا بھی ان کا عوام پر احسان ہے اور اس صورتحال سے بچانے پر عوام کو شکر گزار ہونا چاہیے۔ قرض کے بارے بھی تحریک انصاف کے دیگر ارکان کی طرح انہوں نے بھی وہی کچھ کہا کہ جب ہم نے ملک سنبھالا ملکی قرض تیس ہزار ارب تھا جس کے سود کی ادائیگی کے لیے لا محالہ مزید قرض حاصل کرنا ضروری تھا۔ یہ بات درست ہو گی مگر دوسری حکومتوں کو قرض میں اضافے کا طعنہ دینی والی حکومت کے اپنے صرف اٹھارہ ماہ میں ملکی قرض میں گیارہ ہزار ارب کا مزید اضافہ ہوا ہے جو کل ملکی قرض کے تقریبا چالیس فیصد کے قریب ہے۔

اس کا حساب دینا تو درکنار ذکر تک سنتے موجودہ حکمراں چڑھ دوڑتے ہیں کہ یہ سب پچھلوں کا کیا دھرا ہے یا پھر ڈالر کی بڑھتی قیمت پر ملبہ ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ یہ جواز زیادہ مضبوط نہیں کیونکہ ڈالر کی قیمت پہلے بھی بڑھتی رہی ہے اور تمام حکومتیں پہلے سے موجود قرض کا سود ادا کرتی ہیں لہذا اس کلیے سے تو پھر اپوزیشن پر طعنہ زنی بنتی ہی نہیں۔

کون سی حکومت یہ کہتی ہے کہ ہمیں پہلے والوں نے ملک بہت اچھی حالت میں دیا تھا۔ ہمیشہ سے رواج ہے ہر آنے والی حکومت یہ کہتی ہے جب ہمیں ملکی باگ ڈور ملی تو خزانہ خالی تھا۔ ملک میں روز مرہ اخراجات کے لیے پیسے نہیں تھے۔ پہلے والوں نے اللوں تللوں کے لیے جو قرض لیا وہ بھی ہمیں بھگتانا پڑ رہا ہے۔ ملکی معیشیت سے متعلق تمام حقائق کا ہر سیاسی جماعت کو بخوبی علم ہوتا ہے لہذا اقتدار میں آنے کے بعد ان شکوے شکایات سے کام نہیں چلایا جا سکتا۔

پچھلی حکومتوں کے دور میں درآمدات و برآمدات میں فرق کی بات کرتے ہوئے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس وقت زیادہ درآمدات انرجی سیکٹر میں سرمایا کاری کے لیے ہوئی تھیں۔ کیونکہ ملک کو توانائی کی خوفناک قلت کا سامنا تھا اور توانائی کے بغیر برآمدات کس طرح بڑھائی جا سکتی تھیں؟ مشیر خزانہ حفیظ شیخ منصب پر فائز ہونے کے دس ماہ بعد اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں یہ باتیں کرتے اس لیے بھی مناسب نہیں لگتے کیونکہ وہ ماضی کی تقریبا تمام حکومتوں کے دور میں پالیسی سازی کے عمل میں شریک رہے۔

وہ مشرف دور انویسٹمنٹ اور پرائیویٹائزیشن کے وزیر رہے۔ پھر پیپلز پارٹی کے دور میں خزانہ ریوینیو اور اقتصادی امور کا قلمدان ان کے پاس رہا۔ اس سے قبل 2000 سے 2002 کے درمیان وہ سندھ حکومت کے وزیر خزانہ و وزیر منصوبہ بندی کے طور بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ طویل عرصے تک وہ سینیٹر بھی رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے جن سنگین اقتصادی مسائل کی نشاندہی کی اور اس کا سبب ماضی کی حکومتوں کی جن اقتصادی پالیسیوں کو قرار دیا، بہت سے ممتاز اور غیر جانبدار معاشی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ان کی اپنے خلاف ہی چارج شیٹ تھی۔

مشیر خزانہ صاحب کو چاہیے تھا اپنی اس تقریر میں ہزار دفعہ کہی باتیں دہرانے کے بجائے یہ اطلاع دیتے کہ ان کی حکومت مہنگائی کے خاتمے کی خاطر فلاں فلاں اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس وقت مہنگائی کے ہاتھوں عوام کی زندگی اجیرن ہے۔ سب سے زیادہ برا حال فوڈ انفلیشن کی وجہ سے ہے اور حقیقتاً دو وقت کی روٹی پوری کرنا غریب کے لیے مشکل ہو چکا ہے۔ حکومت کو مطمئن نہیں رہنا چاہیے کہ وہ اپوزیشن کو دیوار سے لگا کر بیٹھی ہے اس لیے خطرے کی کوئی بات نہیں۔ یہی اصل تشویشناک بات ہے۔ عوام میں جتنی بے چینی اس وقت پائی جاتی ہے خدانخواستہ وہ کسی بھی وقت باہر آ سکتی ہے اور قیادت کے بغیر احتجاجی تحریک جس کا بنیادی محور بھوک کا جذبہ ہوا اس سے نمٹنا بہت مشکل ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *