تعلیمی نصاب میں تقریری مضمون، ترقی کا ضامن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے میں کسی کی نہیں سنتا، کسی کی بھی نہیں، ماسوائے ایک عدد بیوی کے جس کو سننا فرض ہے وگرنہ میرے گھر میں بھوک صومالیہ سمجھ کر ڈیرہ ڈال لے، اور میں ہر چیز پر کمرومائز کر سکتا ہوں بھوک پر نہیں۔ اور آج بھی میں نے روٹی کی خاطر نعرہ زنانہ ( میری بیٹی کی فریاد ) پر لبیک کہا ہے اس کی ماں کی ناراضی اور اپنی بھوک کو مدنظر رکھ کر۔

نعرہ زنانہ کو پچھلے دو سال ہوگئے ہیں بہت ہی زور شور سے جاری ہے پہلے قلم، پنسل، کپڑے اور گفٹس کے لئے ہوتی تھی آج کل جب سے اسکولوں میں ”سرکار“ نے نیا نصاب بنام ”تقریرانِ و پروگرامان“ نافذ کیا ہے اچانک سے مجھے اپنی بیٹی کچھ کچھ دیپکا لگتی ہے کہ وہ ایسی ایسی اداکاریوں کے جوہر دکھاتی ہے کہ میں باور کرانے کے لئے اس کا برتھ سرٹیفیکٹ دیکھتا ہوں البتہ اس کی ماں کہتی ہے اس کی بیٹی انجلینا جولی ہے۔ کبھی کبھی میری بیٹی میں محترمہ بے نظیر کی روح حلول کر جاتی ہے جو 14 اگست پہ ایسی بھاشن دیتی ہے کہ مجھے گمان ہے انڈین سن لیں تو وہ کشمیر ہمارے حوالے کریں۔ معاشرے میں موجود تمام فنون سے لبریز یہ قابلیت عطا کرنے والی ہستیاں اس کی استانیاں ہیں۔

اس طرح کی ہمہ جہت قابلیت کیوں نہ ہو، جب فروری میں فیرویل پارٹی کے نام پہ ہونے والے تقریری مقابلہ کے لئے اس کی استانیاں اسے دو مہینے ایڈوانس میں تقریر رٹوانے کی مشق کرتی ہیں جس کے لئے جوں ہی استانیاں حکم اذانِ فرض تقریر والی تقریر کرتی ہیں تو میرے گھر میں نعرہ زنانہ آب و تاب سے گونجتا ہے۔

پھر کیا میں اپنے سکول کے دنوں کو یاد کرتے کرتے پھوٹ پھوٹ کر وہ تقریر لکھتا ہوں کہ سننے والے بھی روئیں۔ ابھی میرے آنسو خشک نہیں ہوتے کہ سرکار کو کشمیری بھائیوں کی یاد ستانے لگتی ہے۔ پھر کیا یہ حکم سکولوں کو پہنچنے سے پہلے عملدرآمدی پروسس کراس کر چکی ہوتی ہے۔ اور میں بھی تقریر لکھ چکا ہوتا ہوں۔ ان دو مہینوں میں امتحان بھی ہوتے ہیں جو بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ ان کے ہاتھوں کی صفائی اور ان کے بڑوں کے ٹیچروں کے ساتھ تعلقات کا بھی امتحان لیتی ہے۔۔۔ بغرض نقل۔

پھر جوں ہی بچے محاذ کشمیر سے فارغ ہوتے ہیں تو انھیں مینار پاکستان کے سائے میں پیش کی گئی قرارداد کی روداد سنانی ہوتی ہے۔ محب وطنی کے بھاشنوں کے بعد اب بچے مزدور کے حق میں نعرہ حق کی گواہی دیتے ہیں۔ ایسی تقریریں، کہ تقریر کی لذت مت پوچھئے۔ پھر کچھ سکون کے لمحے آتے ہیں کہ گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں مگر چھٹیاں ختم ہونے ہی والی ہوتی ہیں کہ وہی ہوتا یے جس کا پورا سال انتظار ہوتا ہے جی ہاں چودہ اگست جس کی تیاریاں جولائی ہی میں کرنی پڑتی ہیں دو مہینے کی مسلسل تیاری کے بعد میرا گھر پاکستانی پارلیمنٹ اور میری بیٹی فاطمہ جناح بنتی ہے۔

اس کے بعد جونہی بچے کلاسوں کا رخ کرتے ہیں تو اساتذہ کرام جنہیں حکومت تقریریں سننے اور سر دھننے کی عادی بنا چکی ہے، تو وہ یک بہ یک حق حق کرتے یوم استاد مناتے ہیں جس میں بچوں کی زبان سے خوشامد کے سننے کا اپنا ہی الگ مزا ہے۔

پھر اختتام ستمبر ہی میں No Corruption کے نام سے کرپشن کا نادر موقع لئے افسر لوگ پھر سکولوں کا رخ کرتے ہیں۔ تقریروں میں بدعنوانی کو ایسے بدنام کیا جاتا ہے جتنا آج تک مُنی بھی ہندوستان میں نہیں ہوئی۔

پھر 6 ستمبر کو یوم دفاع ارض پاک میں 22 کروڑ بہادر عہد دفاع وطن کے لئے ایک مرتبہ پھر برسر اسٹیج ہوتے ہیں۔

ایسی طرح ہم اگلے مہینوں میں علامہ اقبال و قائد اعظم کو یاد کرتے ہیں تب جاکر یہ کورس اپنے اختتامی مراحل میں پہنچتا ہے۔ اور میرے پاس تقریروں کا پلندہ۔

ان سب کے بعد سارا سال وطن کی خدمت کرنے والے بچے کچھ کھیلتے کھودتے ہیں لیکن چونکہ سارا سال تقریروں کے عادی ہوتے ہیں تو اس میں بھی تقریر و ڈرامہ بازی بنتی ہے۔

ان سب کے بعد میں سوچنے پہ مجبور ہوں بچے پڑھتے کب ہیں؟ لیکن یہ میرا ایمان ہے مستقبل قریب میں میری بیٹی وزیر اعظم بھی بنے گی۔ سنا ہے ووٹ تقریروں پہ ملتے ہیں اور شاباش بھی۔

ہمیں فخر ہمارے تعلیمی نظام پہ جس نے آل شریف و آل زرداری کو حکومت سے بھگانے کی راہ ہموار کی، کیونکہ باہر کے ملکوں میں پڑھنے والے اس سبجیکٹ سے ناواقف ہیں۔ اب حکومت اور عوام ایک پیج پر ہیں۔

وزیراعظم تقریریں، قوم کے معمار تقریرں

تقریروں سے بدلیں گے قوم کی تقدیریں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *