مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان ملایشیا نہیں گئے پھر چلے گئے، اس کے بعد رجب طیب ایردوآن اسلام آباد چلے آئے۔  بس اس سے کڑیاں خود بخود ملتی چلی گئیں اور سوچنے والوں نے سوچا کہ گاڑی جس مقام سے پٹری سے اتری تھی، لگ بھگ اسی جگہ سے واپس اپنے راستے پر آن چڑھی ہے۔عالم اسلام کے مقبول ترین رہنما کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب نے اس تاثر کو مزید قوی کیا ہے لیکن سنتے ہیں، اصل کہانی کچھ اور ہے۔

ویسے عمران خان نے یہ درست کہا، ہمیں ترکی سے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے، خاص طور پر بھاری بھرکم قرضوں سے نجات ، سیاحت کے فروغ اور تعمیرات کے شعبوں میں۔ اِدھر ہماری وزارت تجارت اور ایکسپورٹ پروموشن بیورو والوں کی خوشی بھی دیدنی ہے کہ اب ہماری باہمی تجارت ۵؍ ارب ڈالر تک پہنچی کہ پہنچی۔اسی سبب سے اس وزارت کے کارپرداز اِن دنوں خوب مصروف رہے۔بس، ان ہی میں سے ایک خیر اندیش سے میں نے پوچھ لیا کہ ترکی سے  آنے والے محبوب دوست کی آمد سے قبل اورآمد کے بعد تم لوگوں نے خوب محنت کی۔

اس محنت کے ثمرات کب تک متوقع ہیں؟ سوال سن کر وہ صاحب کچھ ایسا مسکرائے کہ چہرے پر اطمینان اور خوشی کے رنگ صاف دکھائی دے گئے، کہا کہ زیادہ سے زیادہ پانچ برس۔ سرکاری اعداد و شمار اور ایسے مواقعے پر جاری کیے جانے والے بیانات میں بعض اوقات امکانات اور امیدوں کے اظہار میں ذرا ہاتھ کھلا رکھ کر مبالغے سے کام لینا ہماری عادت ہے لیکن ذاتی سطح پر ایسا کم ہی ہوتا ہے، احباب جو بات کہتے ہیں، حقیقت سے قریب ہوتی ہے بلکہ حقیقت ہی ہوتی ہے، اس لیے اگر ہمارے یہ دوست اس باب میں پُر امید ہیں تو کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔ قوموں کی زندگی میں پانچ برس تو یوں دیکھتے ہی دیکھتے گزر جاتے ہیں،اس عرصے میں اگر بہتری بھی آجائے تو اس سے اچھا کیا ہے؟

پاک ترک تجارت میں یہ بڑی پیش رفت اپنی جگہ لیکن ان سطور کے لکھنے والے کا ذہن مہمان عزیز کی اس تقریر میں اٹکا ہوا ہے جو انھوں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کی۔یہ اجلاس کئی اعتبار سے یاد گار رہا۔یاد رہنے والی باتیں تو بہت سی ہوں گی لیکن اس بار انھوں نے ہمارے ہاں جو تقریر کی ہے، اس کی گونج تادیر سنائی دیتی رہے گی۔گزشتہ چند دہائیوں کے دورا ن میں ہمارے ہاں سیاسی تقریروں کے انداز میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔نواز شریف اور عمران خان بھی ہمارے ہاں مجمع کو اپنی گرفت میں کامیابی کے ساتھ لے لینے والے مقرر سمجھے جاتے ہیںلیکن ماضی اس سے بہت مختلف تھا۔ ماضی قریب کی مثال ذوالفقار علی بھٹو ہیں۔

مجمع جن کے اشارے پر ہنسا اور رویا کرتا ۔بھٹو صاحب کی عوامی سیاست شروع ہوئی توابتدا میں ذرا سی لکنت کے ساتھ اُن کی سندھی اور انگریزی لہجے کی اردو زیادہ مقبول نہ تھی، اس کی نقل بھی اتاری گئی، مخالفین نے مذاق بھی اڑایا ۔ آخر کو یہی ٹھہرا فن ہمارا۔ یہی زبان عوام میں مقبول ہوئی اور لوگوں کے دل میں اتری۔بھٹو صاحب کی تقریر لوگوں کو اجنبی کیوں لگی؟ اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ان سے پہلے کے مقررین نک سک سے درست زبان بولتے ، شعر ہو یا لطیفہ، اس کا استعمال برمحل کرتے لیکن بھٹو صاحب کے ہاں معاملہ مختلف تھا۔استاد ذوق کا ایک شعر ہے   ؎

لائی حیات آئی، قضا لے چلی چلے

اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

بھٹو صاحب نے اپنی ایک تقریر میں استاد ذوق کا یہ شعر پڑھنے کی کوشش کی لیکن غلطی کر گئے، نواب زادہ نصراللہ خان ساری عمر یہ شعر پڑھ کر بھٹو صاحب کا مذاق اڑاتے رہے۔بھٹو صاحب سے قبل تو مقررین کی ایک کہکشاں تھی۔، کس کس کا ذکر کیا جائے؟ جن لوگوں کو ترکی کے سیاسی اسٹیج پر طیب ایردوآن کی تقریریں سننے کا موقع ملا ہے،وہ جانتے ہوں گے ، اس میدان میں وہ بھی یکتا ہیں۔

انھوں نے اسلام آباد والی تقریر میں کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ ہمارے لیے چناں قلعے کی طرح ہی اہم ہے۔ چناں قلعے ہی وہ جگہ ہے جہاں دوسری جنگ عظیم کا ایک مشہور جنگی معرکہ ہوا۔ اس معرکے کے سو سال مکمل ہونے پر استنبول میں ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دنیا کے پینتیس ، چالیس ممالک کے سربراہوں نے شرکت کی تھی۔ان تقریبات کا نکتۂ عروج ایک پبلک جلسہ تھا جس میں ان عالمی سربراہوں کی موجودگی میں دس ہزار سے زاید شہری بھی شریک ہوئے۔ اس جلسے میں انھوں نے جو تقریر کی ، اس کی داد انھیں یوں ملی جیسے ہمارے ہاں انور مسعود صاحب کے شعر کو ملتی ہے۔ان کے ایک ایک جملے پر عوام کھڑے ہوکر اسے دہراتے اور داد دیتے۔ عالمی رہنماؤں کے لیے یہ ایک حیران کن منظر تھا۔

پاکستانی پارلیمنٹ میں ان کی حالیہ تقریر بھی کچھ ایسی ہی تھی جسے سن کر اہل زباں آب دیدہ ہوتے ہوئے دیکھے گئے۔ انھوں نے اس تقریر میں اقبالؒ کی معروف نظم ’’ طرابلس کے شہیدوں کا لہو‘‘ کے کچھ اشعار کا ترجمہ بھی کیا،اقبال ؒ نے ان اشعار میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے حال دل بیان کیا ہے، طیب ایردوآن جب ان اشعار پر پہنچے:

’’حضور! دہر میں آسْودگی نہیں مِلتی

تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں مِلتی

ہزاروں لالہ و گْل ہیں ریاضِ ہستی میں

وفا کی جس میں ہو بْو، وہ کلی نہیں مِلتی

مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں

جو چیز اس میں ہے، جنت میں بھی نہیں ملتی

جھلکتی ہے تری اْمت کی آبرو اس میں

طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہْو اس میں‘‘

تو یوں سمجھیے کہ اہل دل تڑپ اٹھے۔کشمیر، فلسطین اور دنیا کے دیگر حصوں میں جہاں انسانیت سسک رہی ہے، اس پس منظر میںیہ اشعار خاص معنویت رکھتے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق صدر ایردوآن اسی پس منظر میں ایک حکمت عملی پر کام کرر ہے ہیںجس میں انھیں بعض دیگر ہم خیال عالمی رہنماؤں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ انھوں نے یہاں یہ اشعار اسی تناظر میں پڑھے اور اس سلسلے میں تعاون کے خواستگاربھی ہوئے لیکن لگتایہ ہے کہ سالک کو اپنی منزل تک پہنچنے میںابھی کچھ اور محنت کرنی پڑے گی۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *